1

نیا پاکستان غریبوں کے لیے مسائلستان بن گیا ، لاہور میں میٹرو کا کرایہ 20 سے 30 روپے کرنے کا منصوبہ ۔۔۔۔یہ خبر پڑھیے اور اپنی رائے ضرور دیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ برس پرانا واقعہ ہے کہ لاہور کے تھانے ستوکتلہ کی حدود میں پولیس اہلکاروں نے اٹھارہ برس کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا، وہ نوجوان اپنی ماں کے ساتھ جناح ہسپتال میں ایک عزیز کی عیادت کے بعد سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا کہ لاہور کی ’ فرض شناس‘ پولیس نے اسے ناکے پرروکا ،

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں بدمست اہلکار نے پوچھا، یہ عورت کہاں لے جا رہے ہو، اس نے بتایا، یہ اس کی ماں ہے، پولیس اہلکار بولا، مائیں ایسی نہیں ہوتیں یہ تو اتنی بوڑھی نہیں، تم دونوں کسی غلط کام کے لئے جا رہے ہو، زبان اس اہلکار کی پنجابی تھی اور الفاظ بھی اتنے سادہ نہیں تھے جتنے میں نے یہاں لکھے ہیں۔ نوجوان کو غصہ آگیا اور جھگڑا شروع ہو گیا۔ نوجوان کی طرف سے ہاتھا پائی اور جوابی گالیاں ناقابل معافی جرم تھا، پولیس اہلکاروں نے اس پر فائر کھول دیا اور وہ اسی طرح مر گیا جیسے بہت سارے غریب اکثر مر جاتے ہیں۔ یہ وہ دن تھے جب 90ءکی دہائی کے بعد ایک مرتبہ پھر پولیس مقابلے ہو رہے تھے۔مجھے کرائم رپورٹرز نے یہ کہانی سنائی تو میرا دل دکھ سے بھر گیا۔ میں نے علاقے کے ایم پی اے سیف کھوکھرکو ساتھ لیا اور اس مظلوم خاتون کے گھر جا کے ایک پروگرام کیا۔ پولیس والوں کو شرم دلائی اور حکمران جماعت کے ایم پی اے سے وعدہ لیا کہ وہ اس خاندان کی مدد کرے گا۔ اس واقعے کو چھ ماہ سے ایک برس کا وقت گزرا تو میں نے سوچا کہ ان پولیس مقابلوں میں سے کم از کم تین کا فالو اپ کروں جن میں ستو کتلہ کا واقعہ بھی شامل تھا۔ ہم نے دوبارہ لاہور کے نواحی گاﺅں کی کچی گلیوں میں لکڑی کے اسی دروازے کو جاکھٹکھٹایا جس کے چھوٹے سے صحن میں کچھ ماہ پہلے پروگرام ریکارڈ کیا تھا مگر اس مرتبہ درواز ہ نہیں کھلا،

اندر سے ہی پوچھا گیا، کون لوگ ہو، ہم نے اپنا تعارف کروایا تو اندر سے نسوانی آواز نے کہا کہ کیمرے مت اندر لائیں صرف وہی آجائے جس نے پہلے بات کی تھی۔میں اندر چلا گیا تو گھر سنسان اور ویران تھا۔ میرے سامنے وہی ماں تھی جس کے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے گندے الزامات لگاتے ہوئے اس کی نظروں کے سامنے قتل کر دیا تھا اور پھر ایک ڈی ایس پی سمیت کچھ دیگر اہلکارجیل بھی چلے گئے تھے۔ میں نے پوچھا، مقدمہ کہاں پہنچا، کتنی سزا ہوئی، میں اس پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ ماں آہستگی سے بولی ہم نے پولیس والوں کو معاف کر دیاہے۔ لہٰذا اب وہ کوئی بیا ن نہیں دینا چاہتی۔ میں ا پنے طاقت اور دولت کے پجاری ظالم معاشرے بارے کوئی خوش گمانی نہیں رکھتا لہٰذا فورا ًپوچھا ، کتنے پیسے لئے۔ جواب ملا، میرے گھر کو دیکھ لو وہی چارپائی، وہی چولہا اور وہی پیٹی ہے، پیسے نہیں لئے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماں اور باپ نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو کیوں معاف کردیا، ہاں، وجہ یہی تھی کہ مقتول کا باپ ایک غریب بڑھئی تھا اور پولیس والوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا مگرمقتول کی ماں نے مجھے ایک اور بھی وجہ بتائی۔ اس نے کہا کہ اس کے بیٹے کا مقدمہ سیشن کورٹ میں لگا ہوا تھا ، جب بھی اس مقدمے کی تاریخ ہوتی تھی تو دیہاڑی ٹوٹ جاتی تھی اور گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں رہتا تھا اور اضافی مسئلہ یہ تھا کہ وہ جب بھی ستوکتلہ سے سیشن کورٹ جاتے تھے تو ان کے آنے جانے پر ہی سو ڈیڑھ سو روپے خرچ ہوجاتے تھے۔

ان کے پاس اتنا کرایہ بھی نہیں ہوتاتھا کہ وہ دے کر اس عدالت میں جا سکتے جہاں ان کے بیٹے کے قاتلوں کو سزا ہوسکتی تھی لہٰذا انہوں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ بیٹا بھی نہیں رہا اور اب اگر وہ اس طرح پیسے ’ضائع‘ کرتے رہے تو خود بھی بھوکے مر جائیں گے۔میرے لئے یہ ناقابل یقین تھا کہ والدین نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کوصرف اس لئے چھوڑ دیا کہ ان کے پاس عدالت جانے کے لئے کرایہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ واقعہ مجھے اس وقت یادآ گیا جب میں نے وزیراعظم عمران خان کو میٹرو پر سب سڈی واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سنا۔ ان کا موقف تھا کہ ریاست میٹروبسوں پرسالانہ بارہ ارب روپے کی سبسڈی نہیں دے سکتی کہ یہ پیسہ صحت اور تعلیم پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار اس سے پہلے دو مرتبہ میٹرو کے کرایوں میں اضافے کی سمری مسترد کر چکے ہیں مگر اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے سیانوں نے سبسڈی ختم کرنے کی وہ ، وہ تشریحات شروع کر دیں کہ کانوں کوہاتھ لگانے پڑے۔ یہ سبسڈی صرف لاہور نہیں بلکہ راولپنڈی اور ملتان کی میٹروز کو بھی دی جا رہی ہے اوریہ محض سوالاکھ شہریوں کو نہیں دی جا رہی کہ یہ تعداد تو صرف لاہور میں ایک روز میں سفر کرنے والوں کی ہے اور سال بھر میں صرف لاہور کے مسافروں کی تعداد کم و بیش پانچ کروڑ بنتی ہے اور چھ برسوں میں تیس کروڑ کے لگ بھگ۔ سینئر تجزیہ کار رضوان الرحمان رضی کہتے ہیں کہ

مسلم لیگ نون نے تیس ارب روپوں سے بھی کم میں پاکستان کی سب سے پہلی میٹرو بس بنا کر چلا دی جبکہ پی ٹی آئی والے اس سے چار گنا پیسہ خرچ کر کے بھی پشاور میں نہیں چلا سکے لہٰذا وہ پنجاب میں میٹرو بسوں کا نظام تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکمران لاہور کی اورنج لائن ٹرین بھی اس وقت تک نہیں چلائیں گے جب تک وہ اپنی میٹرو نہ چلا لیں جس کے ڈیزائن میں ہر روز ایک نیا نقص نکل آتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم کہتے ہیں کہ اگر آپ نے سادگی ہی لانی ہے توہر قسم کے بیوروکریٹوں اورمنتخب سیاستدانوں کی کئی سو ارب کی مراعات بند کر دو اور میں کہتا ہوں کہ اگر بچت ہی کرنی ہے تو میٹرو کی بارہ ارب کی سبسڈی پر کیوں کرتے ہو، جہانگیر ترین سمیت دیگر کی شوگر ملوں کو بائیس ارب کی سب سڈی کیوں نہیں روک لیتے جنہوں نے سٹاک کی ہوئی چینی پچپن روپے سے چھہتر روپے کلو پر پہنچا دی ہے۔دیکھا جائے تو شاہدرہ سے گجومتہ تک بیس روپے فلیٹ کرایہ واقعی بہت کم ہے مگر یہ ہم سب کے لئے کم ہیں جن کی جیبوں میں بیس کے نوٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔میٹرو اس روٹ پر چلتی ہے جس پر گھروں میں کام کرنے والی عورتیں، ہمارے رنگ ساز اور دیہاڑی دار مزدور، سرکاری اور غیر سرکاری محکموں کے کلرک اور ڈھیر سارے سکولوں کالجوں کے طالب علم سفر کرتے ہیں، یہی میٹرو ضلع کچہری ، ایوان عدل اور سیشن کورٹ بھی جاتی ہے اور شہری علاقوں کوصنعتی علاقوں سے بھی جوڑتی ہے ۔ اس میں سفر کرنے والوں کا ٹکٹ بیس سے تیس روپے بھی ہوجائے تو بارہ ، پندرہ ہزار مہینہ کمانے والوں کابجٹ تباہ ہوجاتا ہے ۔ ہمارا وزیراعظم جب پبلک ٹرانسپورٹ پر سبسڈی واپس لینے کی بات کرتا ہے تو یقینی طور پر ان پاکستانیوں کے بارے کچھ نہیں جانتاجو محض عدالت پہنچنے کا کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بیٹے کے قتل کے مقدمے سے بھی دستبردار ہوجاتے ہیں۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کے دوسرے ملکوں کے ساحلوں پر موج مستی کرتے بچوں کو سلامت رکھے، خود انہیں شہروں شہروں اور ملکوں ملکوںجہازوں میں اڑاتا پھرائے مگر میرے یہ غریب، مجبور ، بے چارے لوگ ۔۔ یہ کم مایہ ، محروم، گھٹیا سے لوگ ۔ ۔ یہ کہاں جائیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں