1

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔۔۔ سعودی عرب کے تیل کے جہازوں پر حملے کے پیچھے کون نکلا؟ ناروے کی انشورنس کمپنی نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی

اوسلو (نیوز ڈیسک) ناروے کی انشورنس کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے بحری جہازوں پر حملے میں ایرانی فوج کی ذیلی تنظیم پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔انشورنس کمپنیوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ اتوار کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ الفجیرہ کے نزدیک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات

اور ناروے کے آئل ٹینکرز پر حملے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان پر حملے میں ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل بردار بحری جہازوں کو3 سے 30 کلوگرام تک بارود سے لدی ریموٹ کنٹرول کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کا براہ راست فائدہ ایران کو پہنچا ہے اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ جہازوں پر حملہ پاسداران انقلاب نے کیا ہو یا پھر اس کا منصوبہ ایران میں تیار ہوا ہو۔ اس سے قبل بھی ایران حوثی باغیوں کو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئے دھماکہ خیز مواد فراہم کرتا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناروے کے متاثرہ جہاز سے ملنے والے شواہد یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے شواہد سے ملتے جلتے ہیں۔ جس خودکش کشتی کو ناروے کے جہاز پرحملے کے لیے استعمال کیا گیا اسی طرح کی کشتیوں کے ٹکڑے یمن کے ساحلی علاقوں میں بھی جہازں پر حملوں کے بعد ملے تھی۔ انشورنس کمپنیوں نے ایران کی جانب سے کارروائی کا خدشہ اس لیے بھی ظاہر کیا ہے کیونکہ ایران نے امریکی پابندیوں کے بعد حریف ممالک کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔اس سے قبل سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ آرامکو کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثی ملیشیا ایرانی رجیم کی محض آلہ کار ہے اور اس کو خطے میں ایران کے توسیع

پسندانہ ایجنڈے کے نفاذ کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے اور یہ حوثیوں کے جھوٹے دعوے کے برعکس یمن میں عوام کاتحفظ نہیں کررہی ہے۔انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سعودی تنصیبات پر حملوں کا حکم تہران میں رجیم نے دیا تھا اورحوثیوں نے اس حکم کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ ان حملوں کا مقصد یمن میں جاری بحران کے حل کیلئے سیاسی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔دوسری جانب سعودی عرب کے نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملے حوثیوں کے ایرانی آلہ کار ہونے کا مظہر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سعودی حکام نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ ایرانی آلہ کار ہیں اور وہ ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہی اور یہ آرامکو کی تنصیبات پر حوثیوں کے ڈرون حملوں کے بعد ان کا پہلا ردعمل ہے۔انہوں نے کہا کہ آرامکو کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثی ملیشیا ایرانی رجیم کی محض آلہ کار ہے اور اس کو خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے نفاذ کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے جھوٹے دعوے کے برعکس یمن میں عوام کا تحفظ نہیں کیا جارہا۔ انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ سعودی تنصیبات پر حملوں کا حکم تہران میں رجیم نے دیا تھا اور حوثیوں نے اس حکم کو عملی جامہ پہنایا ہے۔نائب وزیردفاع کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد (یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے )سیاسی کوششوں کو سبوتاڑ کرنا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں