31

اب سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عمران خان عطیات وصول نہیں کر سکیں گے۔۔۔۔ایک افطار میں شوکت خانم ہسپتال کیلئےکتنی رقم اکٹھی ہوئی؟ جانیے

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک افطار میں شوکت خانم اسپتال کے لیے 20 کروڑ روپے کے ریکارڈ عطیات جمع ہوئے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سب افطار کے موقع پر شوکت خانم اسپتال کے لیے 20 کروڑ روپے

کے ریکارڈ عطیات جمع ہوئے۔جس پر انہوں نے عطیات دینے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس بار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں شوکت خانم میمور یل ہسپتال کے فنڈ ریزنگ افطار ڈنر کے موقع پر معمولی ہی سہی کچھ تبدیلیاں تھیں۔ عمران خان وزیراعظم بن چکے وہ ہر سال کی طرح موجود تھے۔ آج انہوں نے سفید شلوار قمیض پر ویسٹ کوٹ پہنی ہوئی تھی، واسکٹ کا انہوں نے ماضی میں تکلف نہیں کیا تھا۔ اس عارضی ہال میں وزیراعظم کا پروٹوکول نظر آیا نہ انکی آمد اور رخصتی پر ہلہ گلہ ہوا نہ تہنیتی نعرے گونجے۔عمران خان اپنی تقریرکے بعد سٹیج پر ہی کھڑے ہو کر لائن میں لگے لوگوں سے نقد یا چیک کی صورت میں عطیات وصول کیا کرتے تھے۔ لوگ تصویر کشی کے شوق میں جوق در جوق طویل لائن میں لگ جاتے۔ لائن اس مرتبہ بھی لگی جو گزشتہ برسوں کی نسبت ذرا طویل تھی مگر لائن میں کھڑے لوگوں کے جذبہ شوق پر اس وقت اوس پڑ گئی جب خود عمران خان نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے وہ عطیات وصول نہیں کر سکیں گے۔ یہ ذمہ داری ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے نبھائی۔ سٹیج پر ہونیوالی تقریروں میں وزیر اعظم کی صاحب سلامت نظر نہیں آئی۔ ڈنر سپانسر اور تقریریں کرنیوالے وہی پہلے برسوں والے لوگ ہی تھے۔گزشتہ سال دوسرے افطار ڈنر پر 12 کروڑ روپے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ 6 کروڑ روپے جمع ہوئے تو علیم خان نے چھ کروڑ روپے دینے کا اعلان کر کے ہدف مکمل کر دیا۔ اس مرتبہ پہلے افطار ڈنر پر بھی 12 کروڑ روپے پر فنڈ میٹر ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔ عمران خان کے سٹیج پر کھڑے ہو کر عطیات وصول نہ کرنے کے باوجود 25 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ یہ یقیناً ریکارڈ ہے۔ رواں سال 13 ارب روپے کی ضرورت ہے اس میں سے قریباً آدھی رقم ہسپتال صاحب ثروت مریضوں کے علاج اور ٹیسٹوں کے ذریعے اکٹھے کرتا باقی رقم زکواۃ صدقات اور عطیات سے پوری کی جاتی ہے۔ 75 فیصد مریضوں کا علاج فری ہوتا ہے۔ انکے علاج کیلئے اندرون اور بیرون ممالک فنڈز ریزنگ کی جاتی ہے۔ عمران خان جس میرٹ کی بات کرتے ہیں وہ ان کے ہسپتال میں نظر آتا ہے۔ انکی تقریر عموماً فنڈ ریزنگ تک محدود ہوتی ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے ہسپتالوں کی حالت زار کی بات کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں کو شوکت خانم کی طرح عالمی معیار کے برابر لانے کا عزم ظاہر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں