32

بیٹے نعمت ہیں اور نعمتوں کا حساب لیا جائے گا جبکہ بیٹیاں رحمت ہیں اور رحمتوں کا کوئی حساب نہیں۔۔۔۔ بیٹوں کی خاطر گھروں میں عورتوں پر ظلم کرنے والوں کے لیے ایک شاندار تحریر

ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور اس نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیں کہ اس مرتبہ بیٹا ہی ہو، دو بیٹیاں پہلے ہیں، اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر نے جواب دیا، میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔ ساس

نے کہا کہ پھر کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ نے شاید بات غور سے نہیں سنی، میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوائی کا نام نہیں آتا۔ میں نے یہ کہا کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔ اس موقع پر لڑکی کا سسر بولا کہ وہ فلاں لیڈی ڈاکٹر تو۔۔۔ ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ وہ جعلی ڈاکٹر ہوگا، اس طرح کے دعوے جعلی پیر، فقیر، حکیم، وغیرہ کرتے ہیں، سب فراڈ ہے یہ۔ اب لڑکی کے شوہر نے کہا کہ اس کا مطلب ہماری نسل پھر نہیں چلے گی؟ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ نسل چلنا کیا ہوتا ہے؟ آپ کے جینز کا اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونا ہی نسل چلنا ہے نا؟ تو یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر دیں گی، بیٹا کیوں ضروری ہے؟ویسے آپ بھی عام انسان ہیں۔ آپ کی نسل میں ایسی کیا بات ہے جو بیٹے کے ذریعے ہی لازمی چلنی چاہیے؟ سسر نے کہا کہ میں سمجھا نہیں؟ ڈاکٹر نے کہا کہ ساہیوال کی گائیوں کی ایک مخصوص نسل ہے جو دودھ زیادہ دیتی ہے۔ بالفرض اس نسل کی ایک گائے بچ جاتی ہے تو پریشان ہونا چاہیے کہ اس سے آگے نسل نہ چلی تو زیادہ دودھ دینے والی گائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ طوطوں کی ایک مخصوص قسم باتیں کرتی ہے بالفرض اس نسل کی ایک طوطی بچ جاتی ہے تو فکر ہونی چاہیے کہ اگر یہ بھی مر گئی تو اس نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔

آپ لوگ عام انسان ہیں باقی چھ سات ارب کی طرح آخر آپ لوگوں میں ایسی کون سی خاص بات ہے؟ یہ بات سن کر سسر نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے پَردادے کا کیا نام ہے؟ اس موقع پر سسر بس اتناکہہ سکا کہ وہ، میں، ہممممم، ہوں وہ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کو نام نہیں آتا، آپ کے پردادا کو بھی یہ ٹینشن ہو گی کہ میرا نام کون لے گا اور آج اُس کی اولاد کو اُس کا نام بھی پتہ نہیں۔ ویسے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا نام کوئی لے یا نہ لے۔ آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ آپ کا نام لینے سے قبر میں پڑی آپ کی ہڈیوں کو کون سا سرور آئے گا؟ علامہ اقبال کو گزرے کافی عرصہ ہوگیا، آج بھی نصاب میں ان کا ذکر پڑھایا جاتا ہے۔ گنگا رام کو مرے ہوئے کافی سال ہو گئے لیکن لوگ آج بھی گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے گنگا رام کو نہیں بھولے۔ ایدھی صاحب مر گئے لیکن نام ابھی بھی زندہ ہے اور رہے گا۔ جنید جمشید کو کون نہیں جانتا؟ کچھ ایسا کر جاؤ کہ لوگ تمہارا نام لیں بے شک تمہاری نسلیں تمہیں بھول جائیں۔ غوروفکرکیجئے کائنات کی سب سے محبوب ترین ہستی رسول اللہؐ کی حیاتِ طیبہ پر اور اُن کی آلِ مبارک پر جن کو اللہ تبارک و تعالی نے بیٹے عطا فرما کر واپس لے لیے اور ایک بیٹی سے رہتی دنیا تک رسول اللہؐ کی نسل کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ ایک قول ہے کہ بیٹے نعمت ہیں اور نعمتوں کا حساب لیا جائے گا جبکہ بیٹیاں رحمت ہیں اور رحمتوں کا کوئی حساب نہیں۔۔۔۔۔!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں