1

جنسی ہراسگی کیس میں نیا موڑ۔۔۔ علی ظفر کے گواہان نے الزامات کے پیچھے چُھپی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا، میشا شفیع کے بارے اہم انکشاف کر ڈالا

لاہور(ویب ڈیسک) گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر ہرجانے کے مقدمے میں گلوکار کی جانب سے 7 گواہان نے بیان حلفی جمع کرادیے۔ سیشن کورٹ لاہور میں میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی جس دوران گلوکار و اداکار علی ظفر کی

جانب سے 7 گواہوں نے بیان حلفی جمع کرا ئے۔ بیان حلفی میں تمام گواہوں نے میشا شفیع کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈیوز میں ریہرسل کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، ریہرسل 45 منٹ جاری رہی اور اس وقت 11 افراد وہاں موجود تھے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کے بیانِ حلفی پر میشا شفیع کے وکلاء کو جرح کے لیے طلب کرلیا اور سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر علی ظفر کی جانب سے بطور گواہ گلوکارہ کنزہ منیر نے بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میشا شفیع جھوٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی جس میں 10 سے 11 لوگ موجود تھے، 45 منٹ تک ریہرسل چلتی رہی، جب میشا شفیع اسٹوڈیو پہنچیں تو انہوں نے علی ظفر کو گلے لگا کر سلام کیا تھا، ریہرسل مکمل ہونے کے بعد بھی میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اسی انداز میں کیا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جنسی ہراسانی کیس کے فریقین علی ظفر اور میشا شفیع کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا تھا، دورانِ سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے میشا شفیع کے وکیل کو حکم دیا تھا کہ گواہوں پر جرح کی تیاری 7 روز میں مکمل کی جائے جب کہ علی ظفر کے وکیل کو 7 دن میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔دوسری جانب گلوکار علی ظفر کی جانب سے

میشا شفیع کے خلاف دائر ہرجانے کے مقدمے میں گلوکارہ کنزہ منیر نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کرادیا اور کہا کہ میشا شفیع جھوٹی ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج لاہور امجد علی شاہ کی عدالت میں گلوکار اور اداکار علی ظفر کے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران میشا شفیع کے وکلا نے استدعاکی کہ گواہان کے بیانات قلم بند کرانے کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے لہٰذا سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے، اس پر علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ سیشن جج نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی گواہوں کے بیانات قلم بند نہ کرنے کی استدعا مسترد کی اور گواہوں کو بیان قلمبند کرانے کا حکم دیا۔ علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ کنزہ منیر نے شہادت قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اس نجی اسٹوڈیو میں موجود تھیں جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی جس میں 10 سے 11 لوگ موجود تھے، 45 منٹ تک ریہرسل چلتی رہی، جب میشا شفیع اسٹوڈیو پہنچیں تو انہوں نے علی ظفر کو گلے لگا کر سلام کیا تھا۔کنزہ منیز کے مطابق ریہرسل مکمل ہونے کے بعد بھی میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اسی انداز میں کیا، ریہرسل کے دوران ویڈیو بھی بن رہی تھی اور دونوں گانے کے دوران 4 سے 5 فٹ دور کھڑے رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے، یہ الزامات جھوٹ ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہان کو بھی طلب کیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچا جہاں گلوکارہ میشا شفیع نے گواہوں کے بیان ریکارڈ کرانے کے عمل کو چیلنج کیا تھا جس پر سماعت کے دوران اعلیٰ عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی سخت سرزنش کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں