38

جو روزے دار کو صرف ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی پلا کر روزہ اِفطار کروائےگا اس کو روزہ رکھنے جتنا ثواب اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھلائےا ُس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔۔۔ اللہ تبارک وتعالی ٰ اور رسول اکرم ؐ کی زندگی سے رمضان المبارک پر مبنی ایمان افروز تحریر

حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ محبوبِ رَحمن ، سرورِ ذیشان، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ماہِ شعبان کے آخری دن بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا بَرَکت والا مہینا آیا، وہ مہینا جس میں ایک رات

(ایسی بھی ہے جو ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اِس (ماہِ مُبارَک ) کے روزےاللہ عَزّوَجَلَّ نے فرض کیے اور اِس کی رات میں قیام تَطَوُّع (یعنی سنّت) ہے، جو اِس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تَو ایسا ہے جیسے اور دِنوں میں 70 فرض ادا کیے۔ یہ مہینا صَبْر کا ہے اور صَبْرکا ثواب جنت ہے اور یہ مہینا مُؤَاسات(یعنی غمخواری اور بھلائی ) کاہے اور اس مہینے میں مومن کا رِزق بڑھایا جاتا ہے۔جو اِس میں روزہ دار کو اِفطار کرائے اُس کے گناہوں کے لئے مغفرت ہے اور اُس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی اور اِس اِفطار کرانے والے کو وَیسا ہی ثواب مِلے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا،بغیر اِس کے کہ اُس کے اَجر میں کچھ کمی ہو۔‘‘ہم نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ اِفطار کروائے ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تَعَالٰی یہ ثواب تواُس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دُودھ یا ایک کھجوریا ایک گھونٹ پانی سے روزہ اِفطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھلایا ، اُس کو اللہ تَعَالٰی میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخِل ہوجائے ۔ یہ وہ مہینا ہے کہ اِس کا اوَّل (یعنی اِبتدائی دس دن ) رَحمت ہے اور اِس کا اَوسَط(یعنی درمِیانی دس دن ) مغفرت ہے اور آخِر ( یعنی آخری دس دن ) جہنَّم سے آزادی ہے۔جو اپنے غُلام پر اِس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اللہ تَعَالٰی اُسے بخش دے گااور جہنَّم سے آزاد فرمادے گا۔ اِس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذرِیعے تم اپنے ربّ عَزّوَجَلَّ کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمہیں بے نیازی نہیں۔ (یعنی تم اس کے محتاج ہو) پس وہ دو باتیں جن کے ذرِیعے تم اپنے ربّ عَزّوَجَلَّ کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں : {۱} لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ کی گواہی دینا {۲}اِستغفار کرنا۔ جبکہ وہ دو باتیں جن سے تمہیں غنا(یعنی بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں :(۱) اللہ تَعَالٰی سے جنت طلب کرنا (۲)جہنَّم سےاللہ عَزّوَجَلَّ کی پناہ طَلَب کرنا۔‘‘( شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۳۰۵ حدیث۳۶۰۸، ابنِ خُزَیمہ ج ۳ ص ۱۹۲ حدیث۱۸۸۷)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں