65

ہواوے کا گوگل کو منہ توڑ جواب، دو نئے اسمارٹ فونز لانچ کر دئے

بیجنگ ( مانیٹرنگ ڈیسک) چینی کمپنی ہواوے نے امریکی اور گوگل کی پابندیوں کے بعد دو نئے اسمارٹ فونز لانچ کر دئے۔ تفصیلات کے مطابق چینی کمپنی ہواوے نے امریکی پابندیوں کے فوری بعد دو نئے کم قیمت اینڈرائیڈ فونز آنر 20 اور آنر 20 پرو متعارف کروا دئے ہیں۔ چینی کمپنی ہواوے نے امریکی

کمپنی گوگل کی پابندیوں کا توڑ نئے موبائل فونز کی صورت میں نکال لیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہواوے 20 اور 20 پرو کو لندن میں متعارف کروایا گیا۔ دونوں فون کسی بھی فلیگ شپ فون سے کم نہیں ہیں لیکن قیمت کے لحاظ سے کافی سستے قرار دیے جا رہے ہیں۔ آنر 20 میں 6 جی بی ریم اور 128 جی بی میموری موجود ہے جبکہ آنر 20 پرو میں 8 جی بی ریم اور 256 جی بی میموری رکھی گئی ہے اور یہ دونوں فونز ہواوے کے بنائے گئے ورژن اینڈرائیڈ 9 پائی جسے یو آئی 2.1 بھی کہتے ہیں اور گوگل سروسز کو بھی سپورٹ کرے گا۔نئے لانچ کیے گئے دونوں موبائل فونز کا ڈسپلے 6.2 انچ ہے جبکہ موبائل کے سامنے اوپر بائیں جانب 32 انچ میگا پکسل سیلفی کیمرہ موجود ہے۔ آنر 20 میں 4 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے جس میں مین سنسر 48 میگا پکسل کا ہے جبک دوسرا کیمرا 16 میگا پکسل سپر وائیڈ اینگل لینس پر مشتمل ہے۔ جس میں ایف 2.2 آپرچر اور 117 ڈگری فیلڈ آف ویو موجود ہے۔ اس میں 2 میگا پکسل ڈیتھ کیمرا اور 2 میگا پکسل ہی میکرو کیمرا بھی موجود ہے۔ہواوے آنر 20 کی قیمت 499 یورو یعنی 84 ہزار پاکستانی روپے سے زائد ہے۔ آنر 20 پرو کا بھی بیک کیمرہ 48 میگا پکسل ہے جبکہ 16 میگا پکس سپر وائیڈ انگل کیمرہ اور 2 میگا پکسل میکرو کیمرہ موجود ہے۔ موبائل کا ڈیٹھ سینسنگ کیمرا 8 میگا پکسل کا ہے جس میں تھری ایکس آپٹیکل زوم کی سہولت موجود ہے۔ آنر 20 پرو فائیو ایکس ہائیبرڈ زوم اور 30 ایکس ڈیجیٹل زوم کو بھی سپورٹ کرے گا جبکہ اس میں 2 میگا پکسل میکرو لینس دیا گیا ہے۔اور 30 ایکس ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ 2 میگا پکسل میکرو لینس دیا گیا ہے۔ آنر 20 پرو کی قیمت 599 یورو یعنی ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زائد ہے۔ یاد رہے کہ گوگل نے چینی کمپنی ہواوے کے لیے اپنی سروسز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد چینی کمپنی نے ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہو کر اپنے کروڑوں صارفین کے لیے ہانگ مینگ نامی آپریٹنگ سسٹم متعارف کروایا تھا۔ تاہم گذشتہ روز گوگل نے چینی کمپنی ہواوے پر پابندی کا اطلاق 3 ماہ کے لیے مؤخر کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں