27

حکومت کوفارن ایکسچینج کمپنیوں پر محدود مقدار سے زیادہ ڈالر یا غیر ملکی کرنسی کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اختیار ہے

لاہور(نیوزڈیسک) تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ اگر حکومت فارن ایکسچینج کمپنیوں پر ایک شخص کو محدود مقدار سے زیادہ ڈالر یا غیر ملکی کرنسی کی فروخت پر کوئی قانونی پابندی عائد کرتی ہے یا انتظامی حکم نامہ جاری کرتی ہے تو حکومت کو اس کا اختیار ہے

اور شریعت کی روسے شہریوں پر اس کی پابندی لازم ہے۔ ،جب کسی چیز کی ملک وقوم کو شدیدضرورت ہو یا معاشرے میں قلّت ہو تو محض ذاتی منافع خوری کے لیے اسے خرید کر ذخیرہ اندوزی کرنا شریعت کی رو سے منع ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تاجر خوش بخت ہے اور ذخیرہ اندوز ی کرنے والا ملعون ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر کاروبار اور لین دین کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ بنیادی ضرورت نہیں ہے ، ملک کے اندر لین دین مقامی کرنسی میں ہوتاہے اس لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر ٹوٹ پڑنا محض ہوسِ زًر ہے اور خود غرضی ہے جو شریعت ،قانون اور اخلاقیات کی رُوسے انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سفرکے موقع پر ضرورت کے مطابق زرِ مبادلہ رکھنا درست ہے کیونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ باہر کے ممالک میں پاکستانی کرنسی کا چلن نہیں ہے، ان عرب ممالک میں منی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے پاکستانی کرنسی کا مبادلہ کرلیتے ہیں ۔ دوسری جانب ملک کو معاشی واقتصادی محاذ پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے لہٰذا ایسے حالات میں ڈالر خرید کر ذخیرہ کرنا اور قیمت بڑھنے پر اسے فروخت کرکے نفع کمانا ریاست کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہے۔ مرکزی علماء کونسل کے دارالافتاء کی طرف سے جاری کئے گئے فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جو ڈالر خرید کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور قیمت بڑھنے پر ڈالر کو فروخت کرکے نفع کماتے ہیں وہ ریاست پاکستان کے ساتھ بے وفائی کاارتکاب کرتے ہیں اور شرعی طورپر بھی ایسے افراد گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ بات چیئرمین مرکزی علماء کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کی زیر صدارت اجلاس میں جید علماء کرام اور مفتیان عظام نے متفقہ طور پر جاری کئے گئے فتویٰ میں کہی۔ اجلاس میں رئیس دارالافتاء مفتی حفظ الرحمن بنوری کی سربراہی میں علماء کرام اور مفتیان عظام نے جسٹس ریٹائرڈ مفتی تقی عثمانی کی جانب سے جاری ہونے والے فتویٰ پر غوروخوض کے بعد اس کی توثیق کرتے ہوئے مرکزی علماء کونسل کے دارالافتاء نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ ڈالر کو ذخیرہ کرکے منافع خوری کرنا حرام ہے‘ مسلمان بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری حلال تجارت کو فروغ دیں اور حرام منافع حاصل کرنے کیلئے غیر شرعی طریقے استعمال نہ کریں بلکہ اسلامی جمہوریہ کو معاشی واقتصادی طورپر مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے اپنا کردار اداکریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں