35

’’ عمران خان کے ارادے نیک نہیں ۔۔۔‘‘ چیئرمین نیب نے جاوید چوہدری کو متنازعہ انٹر ویو کس دباؤ کے تحت دیا؟ نجم سیٹھی کا تہلکہ خیز انکشاف

راولپنڈی(نیوز ڈیسک ) سینئیر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے نجی ٹی وی شو کے دوران کہا ہے کہ چیرمین نیب پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ حمزہ شہباز، آصف علی زرادری وغیرہ کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا رہا اور شہباز شریف کو ملک سے باہر کیوں جانے دیا گیا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا
ہے کہ وزیراعظم چئیرمین نیب پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوراََ آصف علی زرادری، بلاول بھٹو، حمزہ شہباز، مریم نواز وغیرہ سب کو اٹھا کر جیلوں میں پھینکیں لیکن چئیرمین نیب پریشان ہیں کیونکہ وہ قانون کے تحت ہی کام کر سکتے ہیں۔نجم سیٹھی نے کہا کہ اب جسٹص ریٹائرڈ جاوید اقبال اس لیے مزید پریشان ہیں کیونکہ وزیراعظم نے حسنین اصغر کو ڈپٹی چئیرمین نیب بنا دیا ہے اور چئیرمین نیب کا خیال ہے کہ وزیراعظم ان پر دباؤ ڈال کر ان سے استعفیٰ لینا چاہتے ہیں تا کہ حسنین اصغر کو چئیرمین نیب بنایا جا سکے اور ان سے اپنی مرضی کے کام لیے جاسکیں۔نجم سیٹھی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم چئیرمین نیب سے مخالفین کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن جب وزیراعظم کے ساتھیوں کے حوالے سے نیب کارروائی کرتا ہے تو وزیراعظم اس کے خلاف ہوتے ہیں۔نجم سیٹھی کے مطابق ایک بار چئیرمین نے سوچا کہ تمام مخالف جماعتوں کے کرپشن میں نامزد لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے تا کہ وزیراعظم خوش ہو جائیں لیکن پھر انہیں یہ لگا کہ ان پر الزام لگ ساکتا ہے کہ وہ غیرجانبدار ہیں اس لیے انہوں نے وزیراعظم سے پرویز خٹک اور علیم خان وغیرہ کے خلاف بھی کارروائی کی اجازت مانگی جس پر وزیراعظم برہم ہوئے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ جاوید اقبال نے پریس کانفرنس کے اختتام پہ اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا جب انہوں نے کہا کہ’تینوں سیاسی جماعتیں مجھے پسند نہیں کرتیں‘۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارفٹی تو انہیں پسند نہین کرتی یہ سب جانتے ہیں لیکن تیسری سیاسی جماعت کی طرف اشارہ کر کے جاوید اقبال نے یہی عندیہ دیا ہے کہ تحریکِ انصاف بھی ان سے خوش نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں