1

نریندر مودی یا راہول گاندھی۔۔۔؟؟ بھارت کی وزارت عظمیٰ کون سنبھالے گا؟ صورتحال واضح ہوگئی

نئی دہلی (نیوز ڈیسک ) بی جے پی یا کانگریس؟ بھارتی انتخابات میں کس کی فتح ہوئی؟ حتمی نتائج سے ایک روز قبل صورتحال واضح ہوگئی، بھارتی میڈیا نے مودی کی جماعت کی فتح کی پیشن گوئی کردی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے بھارتی انتخابات کے حتمی نتائج آنے سے ایک روز قبل

اگلی حکومت کی پیشن گوئی کر دی گئی ہے۔بھارتی میڈیا نے مودی کی جماعت کی فتح کی پیشن گوئی کردی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بظاہر ایسا ہی لگ رہا ہے کہ نریندر مودی کی جماعت حکومت بنانے کیلئے درکار نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ تاہم حتمی نتائج کل کے روز ہی معلوم ہو پائیں گے۔ دوسری جانب بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایگزٹ پولز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹیکی کامیابی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ عوام ان ایگزٹ پولز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بھارت کے پارلیمانی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کی ووٹنگ کے بعد ملکی ذرائع ابلاغ نے ایگزٹ پولز جاری کردیئے ہیں جن میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹیکی کامیابی کا دعوی کیا گیا ہے۔ ان ایگزٹ پولز کے مطابق بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کا اتحاد 300 نشستیں حاصل کرسکتا ہے جبکہ بھارت میں حکومت سازی کے لئے 272 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ایگزٹ پول صحیح ثابت ہوتے ہیں تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ ان ایگزٹ پولز کی بجائے بی جے پی اپنے بل بوتے پر 300 سے زائد نشستیں حاصل کرنے کا دعوی کررہی تھی، ایگزٹ پولز کے مطابق نریندر مودی ایک بار پھر بھارت کے وزیر اعظم ہوں گے۔ ایگزٹ پولز میں بی جے پی کو زیادہ نشستیں دی

جارہی ہیں حالانکہ اس بار کانگریس سمیت دوسری جماعتوں کے حالات گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔اگرچہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے لیکن بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کہیں کانگریس کے اتحاد میں علاقائی پارٹیوں کا پلڑا بھاری نہ ہوجائے، ایسے میں بی جے پی اور کانگریس علاقائی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی حمایت کرسکتی ہے۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا دعوی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اقتدار میں واپس نہیں آئے گی۔ بیشتر ایگزٹ پولز میں تو بی جے پی ہی فتح یاب نظر آ رہی ہے البتہ بعض ایگزٹ پول یہ بتاتے ہیں کہ کانگریس اور علاقائی جماعتیں نریندر مودی کی راہیں مشکل بناسکتی ہیں۔گانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ عوام ان ایگزٹ پولز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ 2014ء کے انتخابات میں 44 نشستوںتک محدود رہنے والی کانگریس اس بار نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ ادھر ریاست اترپردیش میں مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی اور اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کا اتحاد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔دونوں جماعتیں ایک ساتھ میدان میں اتریں۔ سروے کے مطابق کانگریس 44 سیٹوں سے بڑھ کر 80 تک پہنچ رہی ہے جو اس کے لیے اچھی خبر ہے۔ مغربی بنگال کے ایگزٹ پول میں بی جے پی دوہرے ہندسوں میں نشستیں حاصل کرتی نظر آ رہی ہے۔ تیسرا فرنٹ بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روک سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اترپردیش میں علاقائی جماعتوں کا اتحاد بہتر کارکردگی دکھاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں