1

ملک میں معاشی بد حالی کے ذمہ دار اسد عمر ہیں۔۔۔ جہانگیر ترین نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان بھی دنگ رہ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں پریشان کن صورتحال ہے لیکن ہم اسے سنبھال لیں گے ، اب ہم صحیح سمت پر چل پڑے ہیں ، ہمارے پاس جو سیاسی نظریہ ہے وہ کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔

نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ “میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ غیر یقینی معاشی حالات سے تحریک انصاف حکومت مشکلات کا شکار رہی،معاشی صورتحال کی خرابی سے ہمارے اچھے کام بھی چھپ گئے ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے اکنامک ٹیم تبدیل کی ہے ،تبدیلی نظر آرہی ہے ،نئی ٹیم کے آنے سے ہم غیر یقینی صورتحال سے نکل آئیں گے ، وزیراعظم عمران خان نے اب جس تجربہ کار اور مستند معاشی ٹیم کا انتخاب کیا ہے انشاءاللہ وہ ضرور ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی۔شاہ محمود قریشی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں زراعت کے حوالے سے بریفنگ کیلئے وزیر اعظم نے بلایا تھا اور وزیر اعظم نے اس اعتراض کا واضح جواب دے دیا تھا، انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ یہ ان کی صوابدید ہے کہ وہ جس کو چاہیں بلائیں اور جسے چاہیں کوئی ٹاسک دیں۔جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ بالکل صحیح ہے کہ پارٹی میں تقسیم نہیں ہونی چاہیے کچھ لوگ اس حوالے سے کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ ’ میں ہمیشہ تیار رہتا ہوں، عنقریب یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوجائے گا‘۔وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ نا اہلی کیس میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بیلنس کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 میں تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا تھا ، اسی قانون کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی نا اہل قرار دیا گیا تھا۔نااہل ہونے کے باوجود حکومتی امور کی سرانجام دہی میں قانونی قباحت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جہانگیر ترین نے کہا کہ انہیں عمران خان کی جانب سے جہاں بھی کوئی ٹاسک دیا جاتا ہے وہ پیچھے رہ کر جہاں تک ہوسکتا ہے ٹیم کی مدد کرتے ہیں ۔ ’ میں ایسی کوئی چیز نہیں کرتا جس سے عمران خان پر کوئی انگلی اٹھائی جاسکے، قانونی طور پر میرے کام کرنے میں کوئی قانونی قباحت نہیں ہے، پارٹی کا سیاسی کارکن ہوں اور کام کرسکتا ہوں، میں کسی کمیٹی کا ممبر بھی بن سکتا ہوں ، البتہ کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتا، جب تک عمران خان کو ضرورت پڑے گی اس وقت تک ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں