15

بریکنگ نیوز:چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنیوالی خاتون دراصل کون ہے اور اس کی جسٹس (ر)جاوید اقبال سے کب ،کہاں اور کسیے ملاقات ہوئی،کہانی منظر عام پر آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) گزشتہ دن چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کے خلاف ایک ویڈیو اور آڈیو کال منظر عام پر آئی جس پر ملک بھر میں شور بلند ہونے لگا اور چیئرمین نیب کے کردار کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تاہم اس ویڈیو کے حوالے سے نیب ترجمان نے

تردید کی اور ویڈیو چلانے والے چینل کو معافی مانگے کا کہا۔ جبکہ معلوم پڑا کہ جس نجی ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب کے خلاف جھوٹی خبر چلائی اس کا مالک وزیراعظم عمران خان کا مشیر ہے۔ لہٰذا عمران خان نے اس شخص کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کر دیا۔ نجی ٹی وی چینل نے اپنی خبر اور سورس کو جھوٹا تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین نیب سے معافی مانگ لی۔ جبکہ ویڈیو بنانے والی خاتون اور اس کے شوہر کو نیب لاہور نے گرفتار کر تے ہوئے ان کا جوڈیشل ریمانڈ بھی لے لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق جو خاتون چیئرمین نیب کے ساتھ محو گفتگو ہے اس کا نام طیبہ گل ہے اور یہ فاروق نول کی بیوی ہے۔ اس خاتون کا چیئرمین نیب سے تعارف آج سے تین سال قبل اس وقت ہوا جب وہ مسنگ پرسنز کے چیئرمین تھے۔ طیبہ گل نے اپنے رشتہ دار کے غائب ہونے کی جسٹس (ر)جاوید اقبال کو درخواست دی اور یوں ان کے ساتھ رابطہ شروع کر دیا۔ تین سال کے اس عرصے میں میں ان کے ساتھ رابطے میں رہی اور مختلف قسم کی گفتگو کی ویڈیو بھی بناتی رہیں۔ ذرائع سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک مکمل گینگ سرکاری افسران کو خواتین کے ذریعے رابطہ کرکے بلیک میل کرنے اور کرپشن کے علاوہ کئی کیسز میں رعایت لینے کے کام پر جتا ہوا ہے۔ اس گروہ کا سرغنہ فاروق نول ہے اور اس کی بیوی طیبہ گل کے علاوہ بھی کئی لوگ شامل ہیں۔

اسی بلیک میلنگ کی کڑی یہ ویڈیو بھی ہے جسے جعلی طور پر بنا کر چیئرمین نیب کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ طیبہ گل اور اس کا شوہر فاروق نول اس وقت لاہور میں نیب کی حراست میں ہیں جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے نیوز ون ٹی وی پر چیئر مین نیب کے حوالے سے نشر ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی ، من گھڑت ، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے۔ جس کا مقصد نیب اور چیئر مین نیب کی ساکھ کو مجروع کرنا مقصود ہے نیب نے تمام دباؤ اور بلیک میلنگ کو پش پشت رکھتے ہوئے اس بلیک میلر گروہ کے دو افراد کو نہ صرف گرفتار کیا ہے بلکہ ریفرنس کی بھی منظوری دے دی گئی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس بلیک میلر گروپ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں 42 ایف آئی آر درج ہیں جن میں بلیک میلنگ، اغواہ برائے تعاون ، عوام کو بڑے پیمانے پر لوٹنے اور نیب اور ایف آئی اے کے جعلی افر بن کر سرکاری اور پرائیویٹ افراد کو بلیک میل کر کے کروڑوں روپے لوٹنے کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں موجودہ خبر بھی بلیک میلنگ کر کے نیب کے ریفرنس سے فرار کا راستہ ہے۔ واضح رہے اس مذکورہ بلیک میلر گورپ کا سرغنہ فاروق اس وقت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں