25

6 ارب ڈالر پروگرام سے پاکستان اقتصادی طور پر مستحکم ہوگا

واشنگٹن (نیوزڈیسک) : عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا عندیہ دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان آئی ایم ایف جیری رائس کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں معاشی اصلاحات چاہتے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان پر قرضوں کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ آن لائن میڈیا

بریفنگ کے دوران جیری رائس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا۔ انہوں نے پاکستان میں معاشی اصلاحات پر زور دیا۔ جیری رائس نے اُمید ظاہر کی کہ 6 ارب ڈالر قرضے کا پروگرام طے پانے سے پاکستان میں اقتصادی ترقی بڑھے گی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا مقصد پاکستان کے مالی معاملات کی بہتری، قرضوں میں کمی اور پاکستان کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ اس پروگرام سے سماجی شعبے پر زیادہ اخراجات ممکن ہو سکیں گے، انفرا اسٹرکچر اور انسانی وسائل کی بہتری ممکن ہوگی۔ جیری رائس نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان میں سماجی شعبوں کے لئے زیادہ فنڈز میسر آئیں گے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دئے جانے والی بیل آؤٹ پیکج کی تصدیق بھی کی اور کہا کہ آئی ایم ایف منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈ نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان 12 مئی کو 6 ارب ڈالر کے 3 سالہ پروگرام پر اسٹاف لیول مذاکرات ہوئے۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا لیکن ملک کی خراب معاشی صورتحال کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا جس پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ تاہم اب پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات طے پا چکے ہیں۔ اس حوالے سے مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ پاشا نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے لئے ایف اے ٹی ایف سے کلئیرنس لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 ارب ڈالرز حجم کا قرضہ دراصل تین ارب ڈالرز ہے کیونکہ باقی تین ارب ڈالرز تین سال میں آئی ایم ایف کو واپس ادا کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں