23

نجی ٹی وی چینل کے سی ای او سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ گئے

اسلام آباد (نیوزڈیسک) : چئیرمین نیب کی خاتون سے ساتھ بد سلوکی کرنے کی مبینہ ویڈیو نشر کرنے والے نجی ٹی وی چینل کے سی ای او کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سید عمر نامی چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مبینہ طورپر کراچی واٹربورڈ کی 25 ارب مالیت کی زمین

پر قبضہ کر رکھا تھا، سید عمر کے خلاف نیب کراچی میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ نیب ذرائع کے مطابق ملزم نے کراچی واٹر سپلائی بورڈ کی 25 ایکڑ زمین پر قبضہ کر رکھا تھا جس کی مالیت 25 ارب روپے ہے۔ سید عمر کو نیب کے 2018ء میں ریفرنس نمبر 28 میں ملزم قرار دیا گیا تھا، وہ کراچی واٹر بورڈ کی 25 ایکٹر سرکاری زمین پر قبضہ کرنے میں ملوث تھا۔ نیب ذرائع کے مطابق ملزم نے الزامات سے انکار کیا لیکن ملزم کی انگلیوں کے نشانات کی فرانزک رپورٹ سے ملوث ہونے کا ثبوت ملا۔ ملزم کو دو ماہ تک نیب جیل میں بھی رکھا گیا اور تحقیقات کی گئیں جس کے دو ماہ بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا، ملزم کی معافی کی اپیل چیئرمین نیب کے پاس ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے خاتون کو ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کی نیب نے سختی سے تردید کر دی تھی۔ نجی ٹی وی چینل نیوز ون نے اپنے چینل پر ایک وڈیو چلائی جس تھی جس میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی تصویر کے ساتھ ایک فون کال کی ریکارڈنگ چلائی گئی تھی جس میں کوئی شخص جس کی شخص عورت کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا تھا۔ نیوز ون نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ آواز نیب نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ہے اور انہوں نے خاتون کو ہراساں کیا لیکن کچھ دیر بعد ہی نجی ٹی وی چینل نے اپنی اس ویڈیو کو نہ صرف جعلی قرار دیا تھا بلکہ اس پر معذرت بھی کر لی تھی۔ جبکہ چئیرمین نیب کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی خبر نشر کیے جانے کے معاملے پر وزیراعظم نے اپنے مشیر خاص طاہر اے خان کو برطرف کر دیا تھا ، ان پر اس معاملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں