23

ڈالر سے جان چھڑانے کی تیاریاں ۔۔۔۔ مہاتیر محمد نے ایشیائی لیڈروں کو شاندار مشورہ دے دیا

کولمبو (نیوز ڈیسک) ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے تجویز پیش کی کہ مشرقی ایشیا میں سونے کی بنیاد پر ایک مشترکہ کرنسی رائج کی جانی چاہئیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ ہمیں خطے میں آزاد تجارت اور معیشت کے فروغ کے لیے ڈالر پر انحصار محدود بنانا ہو گا۔

مہاتیر محمد نے تجویز پیش کی کہ یہ مشترکہ کرنسی خطے میں تجارت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر تمام ممالک اپنی اپنی رائج کرنسی جاری رکھیں۔واضح رہے کہ خطے میں ڈالر کے استعمال میں کمی لانے اور ایک ہی کرنسی رائج کرنے کی اس تجویز پر ماہرین معیشت بھی تبصرے کر رہے ہیں جبکہ کچھ مبصرین نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ ہوا۔ جس کے بعد ڈالر کی قیمت 148 روپے 75 پیسے ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں آج کاروبار کے آغاز پر ڈالر سستا ہوا تاہم بعد ازاں ریٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا، انٹر بینک میں پاکستانی روپے کی قدر کے مقابلے 50 پیسے اضافے کے بعد ڈالر 148 روپے 75 پیسے پر فروخت ہوا۔واضح رہے کہ اس سے قبل آج صبح ڈالر کے ریٹ میں 40 پیسے گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی جس کو کرنسی ڈیلرز عید کے باعث بیرون ممالک سے ترسیلات زر میں اضافہ بتا رہے تھے، گذشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں نمایاں کمی آئی تھی جب ڈالر 1 روپیہ 43 پیسے کمی کے بعد 148 روپے 21 پیسے

پر بند ہوا۔دو روز قبل گذشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر92 پیسے سستا ہوا تھا۔دو روز قبل کارباری دن کے آغاز میں اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی۔ مجموعی طور پر کے ایس سی 100انڈیکس میں 923 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد 100 انڈیکس 35873 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل کئی روز اضافہ دیکھنے کے بعد منگل کے روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا۔ قبل ازیں پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ہفتے کے پہلے کاروباری دن کے آغاز میں ہی سٹاک مارکیٹ میں 114پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور 3 کاروباری سیشنز میں ڈالر2 روپے 45 پیسے سستا ہو گیا تھا۔جبکہ گذشتہ ہفتے 21 مئی بروز منگل کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 153 پر پہنچ گیا تھا ۔ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد عوام نے ذخیرہ کیے گئے ڈالرز مارکیٹ میں واپس کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس باعث ڈالر کی مانگ میں کمی ہوئی اور روپے کی قدر میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ دوسری جانب کچھ معاشی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی اور پیسے کی قدر میں استحکام صرف وقتی ہے کیونکہ بجٹ کے بعد ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اُتار چڑھاؤ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں