28

نریندرمودی نے اپنے حلف برداری تقریب میں عمران خان کو کیوں نہیں بلایا ؟ سفارتی تعلقات پر گہری نظررکھنے والے صحافی نے بتا دیا

قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ نریندر مودی دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کو شرکت کی دعوت دیں گے۔ لیکن مودی نے پاکسانی ہم منصب کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے حسینہ واجد اور دوسرے علاقائی لیڈروں کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا۔

سینئر صحافی جاوید صدیقی اپنے کام میں لکھتے ہیں کہ مودی کی دوسری حکومت کے آغاز میں پاکستان کے بارے میں اس کی پالیسی پہلے سے بھی زیادہ سخت نظر آرہی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا الزام بڑے تواتر سے لگایا جارہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج نے حسب روایت کم وبیش روزانہ کی بنیادوں پرکشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ہے ۔ داخلی طور پر مسلمانوں کے لیے مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ گائے کا گوشت رکھنے اور کھانے کے الزام میں مسلمانوں پر تشدد کے کئی واقعات گزشتہ چند روز میں ہو چکے ہیں۔عمران خان نے بطور وزیراعظم نریندرمودی کو انتخابات میں کامیابی اور وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے اور یہ خواہش ظاہر کی پاکستان اور بھارت کو اپنے مسائل مل جل کر اور بات چیت سے حل کرنا چاہئیں۔ لیکن نریندر مودی کی دوسری حکومت نے پاکستان کے بارے میں پالیسی یا رویہ ہی بظاہر کسی تبدیلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نریندر مودی کی دوسری حکومت کوبھارتی میڈیا مودی 2 حکومت کا نام دے رہا ہے۔ یہ حکومت ایسے افراد پر مشتمل ہے جن میں سے کوئی بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی نظر نیں آرہا۔ بھارتی وزیراعظم کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ وزیراعظم مودی کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ کے ایک رکن دیواشر نے حال ہی میں بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون لکھا ہے۔

جو PLAY THE LONG GAME کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں دیواشرنے بھارتی وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے سات ایک طویل المدت کھیل کھیلیں۔ دیواشرنے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اگلے چار برس اقتدار میں رہ سکتے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ پاک فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور اسے خوش رکھیں۔ بھارت کے سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ کے رکن نے پاکستان کی معیشت کا نچوڑ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تباہی کے کنارے پہنچ چکی ہے۔ پاکستانی روپے کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے بجٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف 6 ارب ڈالر کا قرضہ دینے کے لیے سخت شرائط عائد کررہا ہے۔ دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے اور وہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے راستے بند کرے۔بھارتی مشیر کے مطابق امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں اگرچہ افغانستان میں قیام امن اور افغان مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں پاکستان کا کردار امریکہ کے لیے بہت اہم ہے۔ دیواشر نے اپنے مضمون PLAY THE LONG GAME میں تجویز دی ہے کہ بھارت کو ان حالات میں پاکستان کے حوالے سے طویل المدت پالیسی اپنانا ہوگی۔ موصوف نے پاکستان کی فوج کے بارے میں بھارت کی روایتی سوچ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں فوج کی بنیادی فیصلے کرتی ہے۔

خاص طور پر خارجہ پالیسی اور سکیورٹی معاملات میں فوج کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔عمران خان کے بارے میں دیواشر نے کہا ہے کہ ان کی شخصیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ عمران خان مشیروں سے مشورے کئے بغیر اعلانات کرنے کے عادی ہیں اور ان اعلانات کے بارے میں وہ جلد یوٹرن بھی لے لیتے ہیں۔ دیواشرنے لکھا ہے کہ عمران خان ایک فاسٹ بولر ہیں۔ فاسٹ بولر بھی جلد غصے میں آجاتے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے کھل کر بولنے کے عادی ہیں۔ عمران خان ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ تجاویز بھی دینے کے عادی ہیں۔بھارت کی سیکورٹی کے بارے میں مشاورتی بورڈ کے رکن نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سائیڈ لائنز پر پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کرنی ہیں تو انہیں کوئی واضح پالیسی نہیں اپنانی چاہیے۔ بلکہ وہ اپنے پتے سینے کے ساتھ لگا کر رکھیں۔ اصل ارادے ظاہر نہ ہونے دیں۔ایس سی او سربراہ کانفرنس میں اگر پاکستان کے وزیراعظم سے نریندر مودی ملتے ہیں تو پھر انہیں پاکستان سے افغانستان تک تجارتی رسائی کے لیے خشکی کے راستے تجارت کے لیے روٹ کھولنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ عمران خان نے خود علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات میں وزیراعظم مودی کو حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا معاملہ بھی اٹھانا چاہیے۔ دیواشر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان خاموش اور پس پردہ سفارت کاری شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ دیواشر نے تجویز دی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان افسروں کی سطح پر بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے لیکن اس بات چیت کا ایجنڈا دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ہونا چاہیے۔ بھارتی مشیر کے خیال میں پاکستان داخلی حالات کے شدید دباؤ کا شکار ہے اس کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کرلیا گیا تو پاکستان کو ایک طرح سے ریلیف مل جائے گا۔ فی الحال بھارت پاکستان کو یہ سہولت نہ فراہم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں