13

میں مریم نواز کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں کیونکہ ۔۔۔ سینئرصحافی اجمل نیازی نے موجودہ سیاسی صورتحال کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا

ہمیشہ باپ بیٹیوں کو رخصت کرتے ہیں مگر ایک ایسی بیٹی کو جانتا ہوں جس نے اپنے باپ کو گھر سے رخصت کیا۔ لڑکی تو اپنے گھر جاتی ہے‘ باپ جیل گیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی جیل کو ہمیشہ اپنا سسرال کہتے تھے۔ وہ عمر بھر غیر شادی شدہ رہے۔ مریم نواز کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں۔

سینئر صحافی ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے کام میں کھتے ہیں کہ عمران خان نے بلاول بھٹوزرداری کو صاحبہ کہا۔ بہت باتیں ہوئیں۔ برادرم شیخ رشید کی وہ بات بھی یاد آئی جس میں اس نے بلاول کو بلو رانی کہہ دیا تھا۔ اب عمران خان شیری رحمن کو شیری راجہ کہیں اور اسے شیری رحمان صاحب کہہ دیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ مائنڈ نہیں کریں گی۔زرتاج گل کہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اڈیالہ جیل میں نوازشریف کی طرف سے دیئے گئے حلوے کی پلیٹ کھا رہے ہونگے۔ قومی اسمبلی میں آصف زرداری جس نیازمندانہ انداز میں حضرت مولانا کو مل رہے ہیں اور انہیں نہایت خاکساری سے اپنے ساتھ ملا رہے ہیں‘ ان کا بس چلتا تو وہ حضرت مولانا کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی میں لاتے اور ان کے کارکن حضرت مولانا زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہوتے۔ وہ شہبازشریف کا بھی اسی انداز میں استقبال کر رہے تھے اور مجھے شہبازشریف کی وہ تقریر یاد آرہی تھی کہ ہم آصف زرداری کو چوک میں الٹا لٹکائیں گے۔صدر زرداری کیلئے ایک جذبہ دل میں رکھتے ہیں‘ مگر یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان میں احساس نام کی چیز نہیں ہے۔ وہ ایک دوسرے کیلئے جس جذبے کی دشمنی رکھتے ہیں‘ وہیں اتنی ہی دوستی رکھتے ہیں۔ یہ باتیں سیاستدانوں کو یاد کیوں نہیں رہتیں۔ انہیں اپنے کسی عمل اور ردعمل میں شرم کیوں نہیں آتی۔ ایک دوسرے سے این آر او بھی لیتے ہیں یا مطالبہ کرتے ہیں۔میرے بہت اچھے دل والے دوست ایک کاروباری آدمی عظمت صاحب

نے بڑی بات کی جو سیاستدانوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ عظمت صاحب نے کہا کہ سب سے بڑا این آر او دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مگر سیاستدان آپس میں ہی تمام معاملہ چکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک بات اور بڑی شاندار کی جبکہ اس حوالے سے بھی ہم اپنی ذات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ سودا بک جاتا ہے‘ ریڑھی پر اور فٹ پاتھ پر اور ایک شاندار دکان میں بھی جو بہت بڑے بازار میں ہو۔عظمت صاحب ایک غیر سیاسی آدمی ہیں مگر جس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ انہوں نے کیا‘ ہمارے سیاستدان پریشان رہتے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔ انہوں نے بے چارے لوگوں بلکہ اپنے ووٹروں کیلئے سوائے پریشانی کے کچھ نہیں کیا۔عظمت صاحب کہتے ہیں کہ وہ نوازشریف کے حق میں نہیں ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی بار ان کے والد بڑے میاں شریف کیلئے دعا کی مگر نوازشریف کیلئے کبھی دعا نہیں کی۔ ایک دفعہ مجھے خواب میں بڑے میاں صاحب نے گڑ دیا اور کہا کہ لوگوں میں بانٹ دو۔ میں نے گڑ خرید کے لوگوں میں بانٹ دیا مگر نوازشریف کو نہ دیا۔ وہ مجھے ملے ہی نہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ اپنا گڑ ان سے لے لیں۔ وہ یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے بات کو سمجھا ہے؟ایک بڑے اچھے دل و دماغ کی شاعرہ لبنیٰ صفدر کے شعری مجموعے کا نام ہے ’’خوشبو صندل کی۔‘‘کیسے تم بن گزارہ ہو تم محبت کا استعارہ ہو، دوسرا مصرعہ اتنا خوبصورت اور بامعنی ہے کہ اس نے دوسرے مجموعے کا نام ہی ’’تم محبت کا استعارہ‘ ہو‘‘

رکھ دیا۔وہ ہمارے دوست اور بہت خوبصورت شاعر حسن عباسی کی اہلیہ ہیں۔ ’’خوشبو ہے وہ صندل کی‘‘ کی اتنی دھوم ہوئی کہ تنہائی میںشنہائی کے سُر بکھر گئے۔اس دور میں رسالے ختم ہو گئے ہیں۔ ڈائجسٹ اب تک چلتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ اعجاز حسن قریشی اور الطاف حسن قریشی کو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سے اردو ڈائجسٹ ابا جی گھر لاتے تھے۔ اب رسالوں میں کشش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں چند ادبی رسالے باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔برادرم اظہر جاوید مرحوم کا رسالہ ’’تخلیق‘‘ ہے۔ ان کے بعد ان کے فرزند ارجمند مولانا اظہر جاوید اپنے والد کی بہ نسبت بڑھائے ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک رسالہ ’’ادب دوست‘‘ ہے جسے بہت محترم اور مستحکم جذبے والے اے جی جوش شائع کرتے تھے۔ ہم انہیں محبت سے لاہوری جوش کہتے تھے۔ جوش صاحب کے مقابلے میں اس نام کی عزت رکھنا بڑا کام ہے۔ اب ان کے بیٹے شہید ناموس رسالتؐ مولانا سمیع الحق کیلئے ماہنامہ ’’الحق‘‘ خصوصی اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے۔ ان کیلئے دوستوں سپ اپیل ہے کہ وہ اپنے روابط کے حوالے سے کوئی تحریر مولانا راشد الحق سمیع کو بھیجیں۔ وہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک کے۔ مدیر اعلیٰ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں