14

وزیرستان کے مسائل کا حل کیا ہے؟ اچھے اور برے طالبان کیا ہیں ؟ سینئر صحافی نے بڑے کام کی باتیں کردیں

لاہور (ویب ڈیسک) آہ! وزیرستان اور فاٹا کے قبائلی بھائیوں نے کیا کیا ستم ہیں کہ جو اپنے کشادہ سینوں پہ نہ سہے۔ 40 برس تک وہ مارے جاتے رہے، گھروں سے بے گھر ہوئے اور اپنی تباہ حال بستیوں کو چھوڑ کر کیمپوں یا پھر کہیں اجنبی جگہوں پہ مارے مارے پھرتے رہے۔

صحافی امتیاز عالم اپنے کام میں لکھتی ہیں کبھی ’’مجاہدین‘‘ قابض ہوئے، تو کبھی تحریکِ طالبان پاکستان یا پھر طرح طرح کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اُن پر اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی۔ قبائلی علاقوں پہ پاکستان کی رٹ ختم ہوئی اور وحشت ناک امارات کا قبضہ ہوا۔ یہاں تک کہ سوات و دیگر ملحقہ اضلاع بھی دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ گئے اور جانے پہلے جنرل ضیا الحق اور پھر جنرل مشرف کی حکمتِ عملی کی کیا منطق تھی کہ پاکستان پر دہشت گردوں کا بھوت چھا گیا اور ہر طرف مارا ماری میں پاکستانی لقمۂ اجل بنتے رہے۔ جب طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر دُور رہ گئے تو صدر زرداری، عوامی نیشنل پارٹی اور جنرل کیانی نے سوات سے ان بدرُوحوں کو مار بھگایا بھی اور وہاں لوگوں کو واپس بسا بھی دیا۔ لیکن ’’اچھے‘‘ اور ’’بُرے‘‘ طالبان کی تذویراتی کھچڑی پھر بھی پکتی رہی۔ تاآنکہ، جب ریاست کو بڑا خطرہ نان اسٹیٹ ایکٹرز سے حدیں پار کر گیا تو ریاست پھر حرکت میں آئی کہ کوئی بھی ریاست اپنی عملداری یا اقتدارِ اعلیٰ گنوا کر ریاست کہلانے کے لائق نہیں رہتی۔ لیکن ابھی سیاسی و عسکری قیادت گومگو کے عالم میں تھی۔ اگر وزیراعظم نواز شریف مصالحت پہ مصر رہے، تو عمران خان طالبان کے دفاتر کھولنے کی دعوت دے رہے تھے۔ لیکن، جب آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو سفاک دہشت گردوں نے گولیوں سے بھون ڈالا اور اُنکے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس انسان سوز کارروائی کا بڑی بے شرمی سے اعتراف

بھی کر لیا (جو خیر سے اب سرکاری مہمان ہیں) تو پوری قوم اور مملکت خوابِ غفلت سے جیسے ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔ یوں دہشتگردی اور مذہبی انتہاپسندی کے سدباب کیلئے قومی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ ہماری پاک افواج نے کمال بہادری اور بھاری قربانیاں دیکر پہلے آپریشن ضرب عضب سے اُنکا صفایا کیا اور بعد ازاں اِنکی باقیات کے خاتمے کیلئے آپریشن ردّالفساد شروع کیا جو ابھی بھی جاری ہے۔دوسری طرف چار دہائیوں سے جاری تباہی و بربادی کے ہاتھوں زخم خوردہ اور تباہ حال قبائلی بھائی بے بسی اور غریب الوطنی کے ہاتھوں ضبط کا دامن کھو چکے تھے اور اُن کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ بجائے اس کے کہ اُن کی داد رسی ہوتی، وہ بڑی بے بسی سے نیک محمد، گل بہادر، بیت اللہ محسود، طالبان و دیگر دہشت گردوں کے ساتھ ریاستی ’’امن معاہدوں‘‘ کو تکتے کے تکتے رہ گئے۔ اچانک پھر ایک اور واقعہ نے اُن کے ضبط کے آخری بندھن بھی توڑ دئیے۔ وہ تھا خوبرو نقیب اللہ محسود کا کراچی میں ایک ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں قتل اور وہ بھی اس کام کے ماہر رائو انوار کے مبینہ ہاتھوں سے۔ پھر کیا تھا پورے قبائلی عوام سراپا احتجاج بن گئے اور اس احتجاج میں وہ نوجوان قیادت اُبھر کر آئی جو امن و آشتی، جمہوری و انسانی حقوق اور آئین کی عملداری کے پرچم تھامے ہوئے تھی۔ یہ ایک خود رو تحریک تھی جو پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے جانی گئی۔ سچی بات ہے کہ ایک ایسے علاقے سے جو دہائیوں تک دہشت کے کلچر میں ڈوبا ہوا تھا،

ایک ایسی پُرامن اور مہذب تحریک کا اُبھرنا میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ یہ ایک ایسا اُبھار تھا جس میں طرح طرح کے لوگ شامل ہوتے گئے اور کچھ ایسے بھی جو جلتی پہ تیل ڈالنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن ایک آدھ اشتعال انگیز نعرے کو چھوڑ کر اس تحریک کا خمیر امن پسند اور جمہوری رہا۔ باوجودیکہ اس میں نسلیاتی خلوت کا عنصر تھا، لیکن اس نے ملک بھر کی جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس کے مطالبات کو اُصولی طور پر جنرل باجوہ سے عمران خان تک سبھی تسلیم کر رہے تھے۔ بات چیت کے سلسلے بھی چلے، لیکن مسائل کا حل تشنہ رہا اور بے چینی ختم نہ ہوئی۔اب سابق فاٹا کے دگرگوں حالات کو بدلنے کے لئے جو حکمتِ عملی اپنائی گئی، اسکے مطابق پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جانا تھا جس میں ہماری مسلح افواج نے بیش بہا قربانیاں دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسرا مرحلہ اپنے ’’پائوں جمانے‘‘ کا تھا جو بخوبی انجام کو پہنچا۔ اب تیسرا مرحلہ ہے جس میں متاثرہ قبائل کی بحالی اور انتظام سول ہاتھوں میں منتقل کیا جانا ہے۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے پہلی بار حصہ لیا اور اب صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا عمل جاری ہے اور قبائل کی نمائندگی بڑھانے کے حوالے سے ایک آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور کی جا چکی ہے جسکے محرک وہ دو منتخب اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر تھے جنہیں اب سنگین الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قبائلی عوام کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک تاریخی واقعہ تھا جسکی اس علاقے کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ کیونکہ قبائل نے ہمیشہ اپنی خودمختاری برقرار رکھی تھی۔

یقیناً اس انضمام پر افغانستان راضی نہیں کہ وہ ’’ڈیورنڈ لائن‘‘ کو سرے سے مانتا ہی نہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کی ایک فوجی چوکی پہ ہونیوالے خونریز تصادم میں درجنوں معصوم لوگ اور سپاہی زخمی اور بہت سے شہری شہید ہوئے۔ اس تصادم پہ صرف وہ خوش ہوں گے جو قبائلی عوام کی بھلائی نہیں چاہ رہے۔ نہ ہی یہ ریاستی حکمتِ عملی کیلئے کوئی اچھا شگون ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس جھگڑے کو سلجھا کر قبائل کی بحالی اور انضمام کی طرف جانا ہے یا مخاصمت کو بڑھا کر دشمن کے مقاصد کو پورا کرنا ہے۔ آخری تجزیئے میں صلح جوئی اور مفاہمت میں ہی سب کا بھلا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں