1

گزشتہ روزپیش ہونے والے بجٹ میں تحریک انصاف نے اپنے ہی صدرعارف علوی کو کیا بڑا سرپرائز دے دیا ؟ خبر ہرکسی کو دنگ کر ڈالے گی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے مالی سال 2019-20کے بجٹ میں صدر مملکت کے تفریحی و تحائف اور صوابدیدی فنڈز تقریباً ختم کردیے ہیں،مالی سال 2019-20کے بجٹ میں صدر مملکت کے تفریحی و تحائف فنڈز 3کروڑ70لاکھ سے کم کر کے محض ایک ہزار جبکہ صوابدیدی فنڈز 6کروڑ سے کم کر کے ایک ہزار کر دیے گئے

جبکہ صدر مملکت کی تنخواہ تقریباً9لاکھ روپے ماہانہ برقرار رکھی گئی ہے، واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2019-20کے بجٹ میں صدر مملکت کے تفریحی و تحائف اور صوابدیدی فنڈز تقریباً ختم کردیے ہیں، دوسری جانب ایک خبر یہ بھی ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے وفاقی بجٹ 20-2019 کو مسترد کردیا۔وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے تقریباً 50 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن سے چینی، کوکنگ آئل، سیگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت متعدد اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔متحدہ اپوزیشن نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ مسترد کیا ہے، پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی کی پوری کوشش ہوگی کہ بجٹ پارلیمان سے پاس نہ ہو۔بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے 4 ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر اسپیکر اسد قیصر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ بھی دیا۔متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت کئی جماعتیں شامل ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ نہیں ملکی نااہلوں اور عالمی ساہوکاروں کا عوام کا خون چوسنے کا نسخہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی یہ کالی دستاویز نااہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے، یہ پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دے گا اور غریب کا سانس لینا دشوار بنا دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں