26

شوہر کے خلاف اغواء کا مقدمہ ۔۔۔ پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی نے الزام پی ٹی آئی رہنما پر لگا دیا ، مسلمان لڑکی افشاں نے وزیراعظم سے اہم اپیل بھی کر دی

لندن (ویب ڈیسک) پاکستانی نژاد برطانوی دلہن نے برطانوی ہائی کمشن اور پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس کے خاوند کی زندگی کی حفاظت کی جائے جو کہ ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپ رہا ہے۔ 19سالہ افشاں نے کہا ہے کہ اس کے خاندان کی طرف سے اس کے 27سالہ شوہر

پرجھوٹا مقدمہ درج کروایا گیا ہے کہ اس کے شوہر نے اسےاغوا کیا ہے ۔افشاں صنم نے بتایا ہے کہ اس نے 20اپریل کو ساؤل سٹیو سے شادی کی۔ ساؤل سٹیو پاکستانی عیسائی تھا جس نے افشاں سے شادی سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا اور یہ شادی قانونی طور پر ہوئی تھی۔ افشاں کا والد خالد حسین جو کہ برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیور ہے نے پاکستان آ کر اس کے شوہر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا کہ ساؤل سٹیو نے اس کی بیٹی کو اغواء کر لیا ہے۔ میرا خاوند پولیس سے چھپتا پھر رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے ایک لیڈر کے دباؤ میں پنجاب پولیس میرے سسرال کو تنگ کر رہی ہے، میرے خاوند کی جان کو خطرہ ہے، افشاں کے مطابق اس کی ساؤل سے دوستی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہوئی اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے جس کے بعد رواں سال فروری میں افشاں پاکستان آئی اور ساؤل سے ملی جس کے بعد انہوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ۔ شادی کا فیصلہ کرنے کے بعد افشاں واپس برطانیہ گئی اور اپنے والد سےشادی کی اجازت مانگی لیکن خالد حسین نے افشاں کو شادی کرنے سے روکنے کی کوشش کی، افشاں کے مطابق اس نے اپنے والد سے 3بار شادی کرنے کی اجازت مانگی لیکن اس کے والد نے اسے منع کر دیا جس پر وہ بغیر بتائے اپریل میں پاکستان آ گئی اور اس نے قانونی طریقے سے ساؤل سے شادی کر لی جبکہ ساؤل شادی سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا۔افشاں نے بتایا کہ شادی کے بعد اسنے اپنے والد کو فون کر کے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہے اور اس نے شادی کر لی ہے جس پر اس کا والد غصے میں آ گیا اور اسی دن پاکستان اس کے سسرال پہنچ گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں