23

نائن الیون کے حملوں کا 40 دن پہلے ہی علم ہوچکا تھا، لیکن پھر بھی کیوں نہ کچھ ہو سکا ؟ سالوں بعد انٹیلی جنس کے اہم ترین عہدے دار نے بڑا دعویٰ کر دیا

انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی کے انٹیلی جنس کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے ایک سابق عہدہ دار محمد ایمور نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک خبر رساں اداروں کو 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں 40 دن پہلے علم ہوچکا تھا مگراْنہیں سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

ان کا کہنا ہیکہ ترکی کو یہ معلومات ترکی کے منشیات کے ایک تاجر مصطفیٰ کے ذریعے حاصل ہوئی تھیں۔ ایمور نے دعویٰ کیا کہ وہ بعض ملکوں میں جاسوس کے طور پرکام کرتے رہے ہیں تاہم انہوںنے ان ملکوںکا نام نہیں لیا۔عرب ٹی وی کےمطابق محمدایمور نے یہ لرزہ خیز انکشافات اپنی تازہ کتاب رازوں کا افشاء میں کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ نائن الیون کا واقعہ وقوع پذیر ہونے سے چالیس دن قبل مجھے اس کا علم ہوگیا تھا۔ ہم نے اس حوالے سے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کو خبر دی اور اپنے ساتھیوں کومطلع کیا مگر انہوں نے اس تنبیہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ان کاکہنا ہے کہ اگر انٹیلی جنس ادارے ان کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیتے تو دہشت گردانہ حملے میں ہزاروںافراد کو بچایا جاسکتا تھا۔خیال رہے کہ گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکی ریاست مین ہٹن میں واقع جڑواں ٹاورز پرجہازوں کے ذریعے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں القاعدہ کو ملوث بتایا جاتا ہے مگر اس حوالے سے کئی اور مفروضے بھی مشہور ہیں۔ ترک انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار کا بیان بھی ان مفروضوں اور قیاس آرائی پرمبنی کہانیوں میں ایک نیا اضافہ ہے۔محمد ایمور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہیں نائن الیون کے واقع کے وقوع پذیر ہونے سے 40 دن پہلے علم ہوگیا تھا مگر ہم ان حملوں کو نہیں روک پائے جس کے نتیجے میں 2996 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمیں نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کی خبر منشیات کے ایک تاجر مصطفیٰ کے ذریعے پہنچی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں