46

سابق مس یونیورس پر حملہ ۔۔۔۔ 15 لڑکوں نے مل کر کیا کارروائی ڈال دی ؟

کولکتہ(ویب ڈیسک) بھارت کی سابق مس انڈیا یونیورس اوشوشی سین گپتا پر 15 لڑکوں نے حملہ کرکے نہ صرف انہیں ڈرایا دھمکایا بلکہ ڈرائیور کو بھی باہر نکال کر مارا پیٹا، اس واقعے کے بعد اوشوشی نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرکے بھارتی پولیس کو بروقت مدد نہ کرنے پرشدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

2010 میں مس انڈیا یونیورس کا خطاب جیتنے والی اوشوشی سین گپتا نے اپنے ساتھ پیش آئے خوفناک واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہیں اور پولیس بھی خواتین کی مدد کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی ہے۔اوشوشی نے فیس بک پر اپنے ساتھ پیش آئے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا منگل کی رات تقریباً پونے بارہ بجے وہ کولکتہ کے ہوٹل سے کام ختم کرنے کے بعد اوبر کی کار سے واپس اپنے گھر جارہی تھیں کہ تقریباً 15 نوجوان لڑکوں نے ان کی کار پر حملہ کردیا اور مسلسل کار کا دروازہ پیٹتے ہوئے ڈرائیور کو باہر آنے کا کہہ رہے تھے۔ بلآخر ان لڑکوں نے ڈرائیور کو گھسیٹ کر باہر نکال کرپیٹنا شروع کردیا اس موقع پر میں کار سے باہر نکلی اور لڑکوں پر چلانا شروع کردیا اور ان کی ویڈیو بھی بنائی۔اوشوشی نے کہا کہ وہ بھاگ کر نزدیکی پولیس اسٹیشن گئیں اور وہاں موجود پولیس آفیسر سے مدد مانگی لیکن اس نے یہ کہہ کر مدد کرنے سے انکار کردیا کہ یہ علاقہ اس کی عملداری میں نہیں آتا، تاہم بہت زیادہ منت کرنے کے بعد وہ آفیسر ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوا، پولیس آفیسر کو دیکھ کر وہاں موجود لڑکے آفیسر کو دھکا دے کر بھاگ گئے۔ واضح رہے کہ بھارت کی سابق مس انڈیا یونیورس اوشوشی سین گپتا پر 15 لڑکوں نے حملہ کرکے نہ صرف انہیں ڈرایا دھمکایا بلکہ ڈرائیور کو بھی باہر نکال کر مارا پیٹا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں