30

کراچی میں جو کوئی نہ کر سکا وہ میئر وسیم اختر نے کر دکھایا ، زبردست اعلان کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کا آئندہ مالی سال کا میزانیہ ترتیب دینے میں مشکلات ہیں، حکومت نے ضلعی ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1600 ملین کم مختص کئے ہیں۔ رواں سال چوتھا کوارٹر نہیں ملا اس صورتحال میں شہر

کی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہو گا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اعلیٰ سطحی اجلاس میں غیر ترقیاتی اخراجات کو مزید کم کرنے پر غور کیا گیا۔ تمام محکمہ جاتی سربراہان اپنے ماتحت اداروں کے بجلی کے بل بر وقت ادا کریں آئندہ بل کی وقت پر ادائیگی نہ کرنے پر بجلی منقطع ہوئی تو متعلقہ محکمے کا سربراہ ذمہ دار ہو گا۔فیصلہ کیا گیا کہ لانڈھی مذبحہ خانہ کی بجلی کا بل ایگریمنٹ کے تحت متعلقہ کنٹریکٹر ادا کرے گا اس کی اطلاع ”کے الیکٹرک“ کو دی جائے۔ ہر ذیلی ادارے کے الگ سے میٹرز لگا دیئے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کمیٹی روم میں آئندہ مالی سال کے میزانیہ کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے منعقد محکمہ جاتی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر سید ارشد حسن، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، مشیر مالیات ریاض کھتری اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فنانس سمیت تمام محکمہ جاتی سربراہان موجود تھے۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کے ایم سی کے وسائل کا بہتر استعمال کیا جائے اور غیر ضروری اخراجات کو کم سے کم کیا جائے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ کسی رہائشی کوارٹر کا بجلی کا بل ادا نہیں کرے گی۔ سب سے زیادہ اخراجات بجلی کے بلوں پر ہیں رہائشی کوارٹرز میں بجلی کی غیرضروری اور غیر قانونی استعمال کی ادائیگی بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کرنا پڑتی ہے۔چیف انجینئر کے الیکٹرک انیس قائم خانی نے اجلاس کو بتایا کہ رہائشی زون میں بجلی کا استعمال صحیح نہیں اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں