33

پاکستانی سینیٹ میدان جنگ بن گیا ۔۔ دو اہم سینیٹر آمنے سامنے ، چیئرمین سینیٹ کو سیکیورٹی بلانا پڑگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان کی تقریر کے دوران سینیٹ کا اجلاس ہنگامے کی نذر ہوگیا جس کے بعد اسپیکر نے کل شام تک اجلاس کو ملتوی کردیا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے اجلاس میں مولانا عطاء الرحمان نے گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر

اعتراض اٹھاتے ہوئے توہین کا الزام عائد کیا۔ سینیٹر کے الزام پر حکومتی اراکین نے شدید احتجاج کیا اور وہ اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ اسی دوران شبلی فراز نے عطاء الرحمان کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ ایوان میں اس طرح کی باتیں نہیں ہوں گی۔مولانا عطا الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کی ذاتی زندگی پرکبھی بات نہیں کی، میرا ریکارڈ دیکھ لیں کبھی ذاتی حملہ نہیں کیا یا کسی سے متعلق کوئی غیر اخلاقی بات کی۔اسی دوران حکومتی اوراپوزیشن ارکان ایک دوسرےپرحملہ آور ہوئے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے سارجنٹ ایٹ آرمز سے مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ حکومتی سینیٹر نعمان وزیر اپوزیشن ارکان پر حملہ آور ہوئے تو اپوزیشن اراکین بھی مکمل تیار ہوگئے۔شدید ہنگامہ آرائی کے بعد اسپیکر نے سینیٹ کا اجلاس کل شام ساڑھے 4بجے تک ملتوی کردیاگیا۔قبل ازیں سینیٹر مشاہد اللہ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس میں ہر ایک کو بات کرنے کا حق ہے، عمران خان کو روکیں جس سے مسائل پیدا نہ ہوں۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو بات کرنےکی اجازت ہےمگر ضابطہ اخلاق ہوتاہے۔ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ اراکین آپس میں لڑنے کے بجائے ایوان میں صرف بجٹ پر بحث کریں۔مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ ایسےباتیں نہیں کرنی چاہئے جس سے اجلاس میں خلل پیداہو، عوام کے بھی کچھ جذبات ہیں، وزیراعظم اور حکومت کو کچھ خیال کرنا ہوگا، پی ٹی آئی اب حکومت میں ہے لہذا وہ کنٹینر سے نیچے اتر آئے۔ مولابخش چانڈیوکےاظہارخیال پر حکومتی رکن سینیٹر فیصل جاویدکا سخت ردِ عمل دیا اور انہیں بے بی کا لقب دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں