15

’’ اگر میرے اوپر اس سانحہ کا الزام لگایا گیا تو میں بتا دونگا کہ ۔۔۔‘‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کا حکم کس نے دیا؟ رانا ثناء اللہ پھٹ پڑے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے کہا کہ 17 جون کو وہ سیاہ دن تھا جب حاملہ خواتین کے منہ اور پیٹ پر گولیاں ماری گئیں۔ اس کے علاوہ بچوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ چوہدری

غلام حسین نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے سامنے تین لوگوں عطا مانیکا، رانا مشہود اور زعیم قادری، نے کہا تھا کہ ہمارے سامنے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر میرے پر اس سانحہ کا الزام ڈالا گیا تو میں بتا دوں گا کہ مجھے نواز شریف نے سانحہ کا حکم دیا تھا۔یاد رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 5 سال بیت چکے ہیں۔ 17 جون 2014ء کوماڈل ٹاؤن لاہورمیں تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ کے سامنے سے سیکیورٹی بیئررزہٹائے جانے کے لئے آپریشن کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔اس واقعے کے چند روز بعد مقامی پولیس کی مدعیت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آردرج ہوئی جس کا نمبر 510 تھا۔14 افراد کی ہلاکت اور زخمیوں کو انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک نے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا ، اسلام آبادمیں طویل دھرنا دیا گیا جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایک اورایف آئی آر نمبر696 درج کی گئی جس میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف، شہبازشریف، خواجہ سعدرفیق، اس وقت کے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، اس وقت کے ڈی سی او لاہورکیپٹن (ر) محمدعثمان سمیت کئی حکومتی شخصیات اورافسران کو نامزد کیا گیا لیکن کسی بھی نامزد ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ عوامی تحریک نے حصول انصاف کے لئے ملک بھر میں شہر شہر احتجاج اور مظاہرے کئے جبکہ دوسری طرف قانونی جنگ بھی لڑی مگر پانچ سال گزرجانے کے باوجود سانحہ کے متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں