56

احسن اقبال کو بھی گرفتار کرنے کی تیاریاں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا کہ ایف بی آر نے بینکوں کو انتباہ کیا ہے کہ یہ آخری ہفتہ ہے اس کے بعد کوئی سفارش قبول نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں لوگوں کو اس چانس سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے۔ جس کے پاس اثاثے ہیں وہ ان کو ڈکلئیر کرے اور

بے نامی کھاتوں کو ختم کرنا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑی اہم خبر یہ ہے کہ احسن اقبال کی گرفتاری کا امکان ہے۔ احسن اقبال جو اسپورٹس کمپلیکس بنا رہے تھے 2.99 بلین کا، اُس پر وہ پیسے لگے نہیں ہیں۔ اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر 26 کو پیش ہو رہا ہے۔ اور ڈی جی اسپورٹس جس کو حمزہ شہباز کا قریبی شخص سمجھا جاتا ہے وہ پہلے ہی سے حراست میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ احسن اقبال نے دو بڑے کارنامے انجام دئے ہیں ۔ ذوالفقار چیمہ اُس وقت ڈی آئی جی تھے اور انہوں نے احسن اقبال کو ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا۔ ایک تو الیکشن جیتنے کے لیے احسن اقبال نے وہاں اشتہاری مُجرم پالے ہوئے تھے اور ایک انہوں نے پانچ ایکڑ زمین مال روڈ لاہور پر لارنس گارڈن میں اپنے بھائی کو لے کر دینے کی کوشش کی ، ان کی نرسری تھی اور احسن اقبال انہیں سرکاری ٹھیکے بھی دلواتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے آخری وقت میں اخبار نویسوں نے شور مچا دیا جس سے یہ معاملہ سامنے آیا۔ ہارون الرشید نے کہا کہ احسن اقبال نے بھائی کو باغبانی کا ایک ادارہ بنانے کے لیے یہ زمین لے کر دینے کی کوشش کی تھی ۔ اب ایسے میں اگر یہ سب کچھ ثابت ہو گیا کہ احسن اقبال نے پیسے کھانے کی کوشش کی ہے یا پیسے کھائے ہیں تو پھر ان کی گرفتاری پکی ہے۔ خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا شمار مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ احسن اقبال کی گرفتاری کی صورت میں مسلم لیگ ن کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں