76

مون سون کی آمد ، سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ،پاکستان کے کونسے شہر سیلاب کی نذر‎ہو سکتے ہیں ؟ ماہرین نے انتباہ جاری کر دیا

لاہور( ویب ڈیسک )پاکستان میں رواں برس مون سون بارشوں کے تمام ریکارڈز ٹوٹ جانے کا امکان، اگلے ماہ 20 جولائی سے 20 اگست تک لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید بارشوں اور بارشوں کے باعث سیلاب کی پیش گوئی کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بیشتر علاقوں خاص کر صوبہ پنجاب میں

پری مون سون بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور صوبے کے بیشتر شہروں میں 3 روز کے دوران موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ پری مون بارشوں کے سلسلے کے آغاز کے باعث جون کے ماہ میں گرمی کی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب ماہرین موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ رواں برس پاکستان میں مون سون بارشوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 20 جولائی سے 20 اگست تک کے عرصے کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید بارشوں اور ان بارشوں کے باعث سیلاب کی پیش گوئی کر دی ہے۔ماہرین موسمیات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں پری مون سون بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ پری مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ 20 جولائی تک جاری رہے گا اور صوبائی داراحکومت سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں ہلکی بارشیں ہوں گی۔ ان بارشوں کے باعث گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 جولائی کے بعد سے بارشوں کے سلسلے میں شدت آنے کا امکان ہے۔20 جولائی سے 20 اگست تک بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ 20 جولائی سے 20 اگست تک

بارشوں کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت لاہور کے شہری علاقہ میں شدید سیلاب آئے گا۔ رپورٹ میں لاہور کے متعلقہ اداروں کو تلقین کی گئی ہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات شروع کر دیے جائیں۔ رپورٹ میں لاہور کے شہری علاقہ میں مکانوں سمیت اندرون شہر میں واقعہ خستہ مکانوں کو انتہائی خطر ناک قرار دیتے ہوئے ان مکانوں میں مقیم رہائشیوں کو فوری طور پر نکالنے کی تلقین کی گئی ہے۔اس رپورٹ اور حالیہ بارشوں کے بعد وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے صوبائی انتظامیہ اور امدادی سرگرمیوں سے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے، نکاسی آب کیلئے متحرک انداز میں کام کیا جائے اور نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بہترین کوآرڈینیشن کے تحت فرائض سرانجام دیں۔ نکاسی آب کے کاموں میں غفلت قطعا برداشت نہیں کی جائے گی۔افسران دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے خود فیلڈ میں نکلیں اور نکاسی آب کے کام کی نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی روانی میں خلل نہیں پڑنا چاہیئے اور ٹریفک حکام اس ضمن میں خود فیلڈ میں موجود رہیںاور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں۔وزیراعلی نے کہا کہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہونا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں