33

وہ عظیم دانشور جن کے دن رات مریم نواز کی خوشی میں خوش اور دکھ میں غمگین ہوتے ہیں، 2020 کا پہلا دن ان لوگوں کو کیا سرپرائز دینے والا ہے اور پاکستانی قوم کو کیا خوشخبری ملنے والی ہے ؟ اوریا مقبول جان نے خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) پرانے ناموں کے بوسیدہ اشتہاروں کا فصیلِ ملک سخن پر جواز کچھ بھی نہیں میرے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہ اس دنیا کے نقشے پر بعد میں ابھرا، لیکن اسکے دشمن اس سے بہت پہلے پیدا ہوگئے تھے۔ ان دشمنوں کو نہ اس ملک کے جغرافیے سے دشمنی تھی اور نہ ہی اسکے

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عوام سے۔مگر انہیں قیام پاکستان سے پہلے ہی سے یہ تصور خوفزدہ کر رہا تھا کہ پوری دنیا اب رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہو رہی ہے لیکن یہ “پسماندہ” اور بیوقوف برصغیر کے مسلمان، اللہ کے نام پر اپنی نسلی قومیتوں کو ترک کرکے ایک علیحدہ وطن بنانا چاہتے ہیں۔ چودہ اگست 1947ء سے اب تک یہ ملک اور اسکی شناخت ان دانشوروں کی چھاتی پر مونگ دل رہی ہے۔ اسی لئے جوبھی اس ملک کی اساس کا دشمن ہے،انکے نزدیک اگر وہ ادیب اور شاعر ہو تو عظیم ہے، سیاستدان ہو تو انکے نزدیک اصول پرست اور سچا ہے اور اگر شدت پسند اور دہشت گرد ہو تو آزادی و حریت کا علمبردار ہے۔ میرے ملک کے ان دانشوروں نے سینے کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے ہمیشہ ان سیاستدانوں کے کردار کو عظیم بنایا اور ان ملک دشمن علیحدگی پسند لوگوں کو حریت پسند ثابت کیا جو پاکستان کی بنیادی اساس کے منکر تھے۔ اگر تلہ سازش کیس کے مجیب الرحمن سے لے کر بلوچستان لبریشن آرمی کے حیر بیار مری تک سب ان کے پسندیدہ کردار ہیں۔ انہیں ویتنام میں داخل ہونے والا امریکہ ظالم لگتا تھا اور افغانستان میں فوجیں اتارنے والا سوویت یونین ،محسن۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ افغانستان میں جو حکومت پاکستان دشمن اور بھارت نواز ہو وہ ان کی محبوب ہوتی ہے لیکن ملا عمر اور حکمت یاراگر پاکستان سے محبت کا اظہار کریں تویہ انکے خلاف نفرت اگلنے لگتے ہیں۔ انکی جمہوریت کے بھی اپنے پیمانے ہیں۔ بلوچی گاندھی

عبدالصمد اچکزئی کو 1970ء کے انتخابات میں ایک سادہ سا مولوی عبدالحق ذلت آمیز شکست دے، لیکن انکا ہیرو عبدالصمد اچکزئی اور اس کا بیٹا محمود خان ہی رہتا ہے۔ جی ایم سید اور اسکی پارٹی ساری زندگی چند ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے مگر یہ اسے اور اسکی فلاسفی کو احترام دیتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی اساس کے خلاف ہے۔ انکے نزدیک اسٹیبلشمنٹ اسی وقت گناہگار ہے جب وہ اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کی بات کرے،یہی وجہ ہے کہ ضیاء الحق مطعون ہے ورنہ یہ تمام لوگ پرویز مشرف کی ظالم ترین آمریت کی گود میں اٹھکیلیاں کرتے تھے۔ خیر بخش مری آئی ایس آئی کے سی 130 طیارے میں ناکام و نامراد وطن واپس لوٹے تو پھر بھی ہیرو اور خان عبدالولی خان کے بارے میں اسکا اپنا ساتھی جمعہ خان صوفی اپنی کتاب میں لکھے کہ وہ بھارت کے سفیر سے ملتا تھا اور بھارت کے ایما پر اسکی پارٹی پاکستان میں دھماکے کرتی تھی تو وہ پھر بھی جمہوریت پسند اور عظیم سیاسی قائد۔ یہ تمام ادیب، دانشور اور صحافی پاکستان کے نظریے سے اپنی نفرت کا برملا اظہار نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ ان سیاسی لیڈروں، علیحدگی پسند تنظیموں اور ان غیر ملکی حکمرانوں، سیاستدانوں اور لکھاریوں کے پیچھے چھپ کر بات کرتے ہیں۔ کوئی کسی بڑے انگریزی اخبار کے کالم نگار کی بات کو اچھالے گا تو کوئی افغانستان کے ٹوڈی سربراہ کے بیان کا سہارا لے کر پاکستان کو گالی دے گا۔ کسی کو امریکی صدر کا پاکستان مخالف بیان بہت اچھا لگے گا

تو کوئی بھارت کے دانشوروں کی تحریر کو امن کا پرچم بنائے گا۔ گزشتہ دس سالوں سے ان پر ایک نئے عشق کا بھوت سوار ہے۔ نواز شریف اور اسکے بیانیے سے عشق اور اس عشق کی نئی شمع مریم نواز کی صورت جگمگا رہی ہے۔ میرے ان “عظیم دانشوروں” کے دن رات مریم نواز کی خوشی میں خوش اور دکھ میں غمگین ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وقت بہت بدل چکا ہے۔ تاریخ اپنا فیصلہ تحریر کر چکی ہے اور اس فیصلے کو دنیا کی ہر بڑی طاقت نے پڑھ لیا ہے اور اس پر ایمان بھی لے آئی ہے۔ تاریخ کا یہ فیصلہ اس وقت دنیا کے قرطاس پر لکھا جانا شروع ہوا تھا جب قطر میں فتح مند طالبان کا پہلا دفتر کھولا گیا تھا اور آج میرے اللہ کی نصرت نے جو جھنڈا طالبان کے ہاتھ میں تھما کر دنیا کی واحد سپر طاقت کو بدترین شکست سے دوچار کرکے اس طاقت کو پاکستان سے مدد کا خواستگار بنایا ہے ، اشرف غنی کو کان سے پکڑ کر پاکستان کے دروازے پر جھکایا گیا ہے ، نریندر مودی کو روس میں ذلت و رسوائی کے بعد کرتارپور تقریب میں آنے پر مجبور کیا گیا ہے ، یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ وقت کی دیوار سے اب ایسے تمام بوسیدہ پوسٹر اکھاڑ کر پھینک دیئے جائیں گے جن کو بیرونی امداد کی گوند سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف بنائی دیوار پر چپکایا گیا۔ 1974ء سے بلوچ فراریوں کو پناہ دینے والا افغانستان اور بلوچ جلاوطن رہنماؤں کو رہائش فراہم کرنے والا یورپ، دونوں اب بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم کہے جانے کے بعد دم بخود ہیں۔ بھارت کا بوریا بستر افغانستان سے لپیٹا جا چکا اور اسے یہ باور کروا دیا گیا کہ اگر پاکستان کمزور ہوا، اس ملک کی فوج ناکام ہوئی تو پھر پاکستان میں موجود سرفروش مجاہدوں کے سامنے کوئی سرحدی دیوار نہیں رہے گی جو انہیں کشمیر اور افغانستان میں جاکر لڑنے سے روک سکے۔ ٹرمپ کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی کی لسٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے الفاظ نکل چکے ہیں۔ اب کہا گیا ہے “Interstate competition not terrorism” “ریاستوں کے درمیان مقابلہ ہوگا, دہشت گردی سے نہیں”۔ ایسے میں ریاستِ پاکستان کی ضرورت امریکہ کو بھی ہے اور روس کو بھی، چین کو بھی ہے اور یورپ کو بھی۔ اس ریاست کی دیوار سے اب ہر وہ بوسیدہ پوسٹر اتار کر گٹر میں پھینک دیا جائے گا جس کا بیانیہ اسکی تخریب ہے۔ وقت کا انتظار کرو۔ 2020ء کا پہلا سورج جس پاکستان پر طلوع ہوگا اسکے چہرے پر ان بوسیدہ قیادتوں کا کوئی داغ نہ ہوگا۔ (ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں