13

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی لیگی اراکین کی بغاوت۔۔۔ کتنے سینیٹر حکومت کے ساتھ جا ملے؟ (ن) لیگ کے لیے ایک اور بُری خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اور سینیٹر فیصل جاوید چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے پُوری طرح سے سرگرم ہیں اور نواز لیگ کے ارکان سے اس وقت رابطے میں ہیں۔اس حوالے سے سینیٹر فیصل جاویدنے کہا ہے کہ

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہو گی۔اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ تحریک عدم اعتماد واپس لے لے ورنہ اُسے نقصان ہو گا۔ اپوزیشن کا کیمپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے مسلم لیگ کے 12 سے 13 سینیٹرز تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپنی جماعت کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن کا سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔دُوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے نئے چئیرمین سینیٹ کے لیے ممکنہ نام سامنے آ گئے ہیں۔ن لیگ کی جانب سے نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے جو چار نام زیرِ غور ہیں ان میں ظفر الحق،مصدق ملک،پرویز رشید اور حاصل بزنجو شامل ہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروادی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن کے دیگر ارکان نے چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تحت قرارداد سیکرٹری سینیٹ کو جمع کروائی۔تحریک عدم اعتماد کیقرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے 38 ارکان نے دستخط کیے تھے۔ قرارداد کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان کی جانب سے سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کروا دی گئی ہے۔سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن پر 50 ارکان کے دستخط ہیں۔ سیکریٹری سینیٹ کے مطابق ریکوزیشن پر اجلاس چیئرمین سینیٹ ہی بلائیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس مطلوبہ اکثریت سے زائد کی تعداد موجود ہے، 104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 میں سے چیئرمین کی نشست کے لئے 53 ارکان کی حمایت درکارہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں