کالم – Azaad.pk http://www.azaad.pk Pakistan's Emerging Urdu Blog Tue, 25 Jun 2019 11:39:35 +0000 en hourly 1 https://wordpress.org/?v=4.9.7 123420660 وزیرستان کے مسائل کا حل کیا ہے؟ اچھے اور برے طالبان کیا ہیں ؟ سینئر صحافی نے بڑے کام کی باتیں کردیں http://www.azaad.pk/2019/06/02/84944/ Sun, 02 Jun 2019 11:15:03 +0000 http://www.azaad.pk/?p=84944 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) آہ! وزیرستان اور فاٹا کے قبائلی بھائیوں نے کیا کیا ستم ہیں کہ جو اپنے کشادہ سینوں پہ نہ سہے۔ 40 برس تک وہ مارے جاتے رہے، گھروں سے بے گھر ہوئے اور اپنی تباہ حال بستیوں کو چھوڑ کر کیمپوں یا پھر کہیں اجنبی جگہوں پہ مارے مارے پھرتے رہے۔

صحافی امتیاز عالم اپنے کام میں لکھتی ہیں کبھی ’’مجاہدین‘‘ قابض ہوئے، تو کبھی تحریکِ طالبان پاکستان یا پھر طرح طرح کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اُن پر اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی۔ قبائلی علاقوں پہ پاکستان کی رٹ ختم ہوئی اور وحشت ناک امارات کا قبضہ ہوا۔ یہاں تک کہ سوات و دیگر ملحقہ اضلاع بھی دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ گئے اور جانے پہلے جنرل ضیا الحق اور پھر جنرل مشرف کی حکمتِ عملی کی کیا منطق تھی کہ پاکستان پر دہشت گردوں کا بھوت چھا گیا اور ہر طرف مارا ماری میں پاکستانی لقمۂ اجل بنتے رہے۔ جب طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر دُور رہ گئے تو صدر زرداری، عوامی نیشنل پارٹی اور جنرل کیانی نے سوات سے ان بدرُوحوں کو مار بھگایا بھی اور وہاں لوگوں کو واپس بسا بھی دیا۔ لیکن ’’اچھے‘‘ اور ’’بُرے‘‘ طالبان کی تذویراتی کھچڑی پھر بھی پکتی رہی۔ تاآنکہ، جب ریاست کو بڑا خطرہ نان اسٹیٹ ایکٹرز سے حدیں پار کر گیا تو ریاست پھر حرکت میں آئی کہ کوئی بھی ریاست اپنی عملداری یا اقتدارِ اعلیٰ گنوا کر ریاست کہلانے کے لائق نہیں رہتی۔ لیکن ابھی سیاسی و عسکری قیادت گومگو کے عالم میں تھی۔ اگر وزیراعظم نواز شریف مصالحت پہ مصر رہے، تو عمران خان طالبان کے دفاتر کھولنے کی دعوت دے رہے تھے۔ لیکن، جب آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو سفاک دہشت گردوں نے گولیوں سے بھون ڈالا اور اُنکے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس انسان سوز کارروائی کا بڑی بے شرمی سے اعتراف

بھی کر لیا (جو خیر سے اب سرکاری مہمان ہیں) تو پوری قوم اور مملکت خوابِ غفلت سے جیسے ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔ یوں دہشتگردی اور مذہبی انتہاپسندی کے سدباب کیلئے قومی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ ہماری پاک افواج نے کمال بہادری اور بھاری قربانیاں دیکر پہلے آپریشن ضرب عضب سے اُنکا صفایا کیا اور بعد ازاں اِنکی باقیات کے خاتمے کیلئے آپریشن ردّالفساد شروع کیا جو ابھی بھی جاری ہے۔دوسری طرف چار دہائیوں سے جاری تباہی و بربادی کے ہاتھوں زخم خوردہ اور تباہ حال قبائلی بھائی بے بسی اور غریب الوطنی کے ہاتھوں ضبط کا دامن کھو چکے تھے اور اُن کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ بجائے اس کے کہ اُن کی داد رسی ہوتی، وہ بڑی بے بسی سے نیک محمد، گل بہادر، بیت اللہ محسود، طالبان و دیگر دہشت گردوں کے ساتھ ریاستی ’’امن معاہدوں‘‘ کو تکتے کے تکتے رہ گئے۔ اچانک پھر ایک اور واقعہ نے اُن کے ضبط کے آخری بندھن بھی توڑ دئیے۔ وہ تھا خوبرو نقیب اللہ محسود کا کراچی میں ایک ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں قتل اور وہ بھی اس کام کے ماہر رائو انوار کے مبینہ ہاتھوں سے۔ پھر کیا تھا پورے قبائلی عوام سراپا احتجاج بن گئے اور اس احتجاج میں وہ نوجوان قیادت اُبھر کر آئی جو امن و آشتی، جمہوری و انسانی حقوق اور آئین کی عملداری کے پرچم تھامے ہوئے تھی۔ یہ ایک خود رو تحریک تھی جو پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے جانی گئی۔ سچی بات ہے کہ ایک ایسے علاقے سے جو دہائیوں تک دہشت کے کلچر میں ڈوبا ہوا تھا،

ایک ایسی پُرامن اور مہذب تحریک کا اُبھرنا میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ یہ ایک ایسا اُبھار تھا جس میں طرح طرح کے لوگ شامل ہوتے گئے اور کچھ ایسے بھی جو جلتی پہ تیل ڈالنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن ایک آدھ اشتعال انگیز نعرے کو چھوڑ کر اس تحریک کا خمیر امن پسند اور جمہوری رہا۔ باوجودیکہ اس میں نسلیاتی خلوت کا عنصر تھا، لیکن اس نے ملک بھر کی جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس کے مطالبات کو اُصولی طور پر جنرل باجوہ سے عمران خان تک سبھی تسلیم کر رہے تھے۔ بات چیت کے سلسلے بھی چلے، لیکن مسائل کا حل تشنہ رہا اور بے چینی ختم نہ ہوئی۔اب سابق فاٹا کے دگرگوں حالات کو بدلنے کے لئے جو حکمتِ عملی اپنائی گئی، اسکے مطابق پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جانا تھا جس میں ہماری مسلح افواج نے بیش بہا قربانیاں دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسرا مرحلہ اپنے ’’پائوں جمانے‘‘ کا تھا جو بخوبی انجام کو پہنچا۔ اب تیسرا مرحلہ ہے جس میں متاثرہ قبائل کی بحالی اور انتظام سول ہاتھوں میں منتقل کیا جانا ہے۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے پہلی بار حصہ لیا اور اب صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا عمل جاری ہے اور قبائل کی نمائندگی بڑھانے کے حوالے سے ایک آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور کی جا چکی ہے جسکے محرک وہ دو منتخب اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر تھے جنہیں اب سنگین الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قبائلی عوام کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک تاریخی واقعہ تھا جسکی اس علاقے کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ کیونکہ قبائل نے ہمیشہ اپنی خودمختاری برقرار رکھی تھی۔

یقیناً اس انضمام پر افغانستان راضی نہیں کہ وہ ’’ڈیورنڈ لائن‘‘ کو سرے سے مانتا ہی نہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کی ایک فوجی چوکی پہ ہونیوالے خونریز تصادم میں درجنوں معصوم لوگ اور سپاہی زخمی اور بہت سے شہری شہید ہوئے۔ اس تصادم پہ صرف وہ خوش ہوں گے جو قبائلی عوام کی بھلائی نہیں چاہ رہے۔ نہ ہی یہ ریاستی حکمتِ عملی کیلئے کوئی اچھا شگون ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس جھگڑے کو سلجھا کر قبائل کی بحالی اور انضمام کی طرف جانا ہے یا مخاصمت کو بڑھا کر دشمن کے مقاصد کو پورا کرنا ہے۔ آخری تجزیئے میں صلح جوئی اور مفاہمت میں ہی سب کا بھلا ہے۔

]]>
84944
میں مریم نواز کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں کیونکہ ۔۔۔ سینئرصحافی اجمل نیازی نے موجودہ سیاسی صورتحال کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا http://www.azaad.pk/2019/06/02/84895/ Sun, 02 Jun 2019 09:43:28 +0000 http://www.azaad.pk/?p=84895 مزید پڑھیں]]> ہمیشہ باپ بیٹیوں کو رخصت کرتے ہیں مگر ایک ایسی بیٹی کو جانتا ہوں جس نے اپنے باپ کو گھر سے رخصت کیا۔ لڑکی تو اپنے گھر جاتی ہے‘ باپ جیل گیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی جیل کو ہمیشہ اپنا سسرال کہتے تھے۔ وہ عمر بھر غیر شادی شدہ رہے۔ مریم نواز کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں۔

سینئر صحافی ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے کام میں کھتے ہیں کہ عمران خان نے بلاول بھٹوزرداری کو صاحبہ کہا۔ بہت باتیں ہوئیں۔ برادرم شیخ رشید کی وہ بات بھی یاد آئی جس میں اس نے بلاول کو بلو رانی کہہ دیا تھا۔ اب عمران خان شیری رحمن کو شیری راجہ کہیں اور اسے شیری رحمان صاحب کہہ دیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ مائنڈ نہیں کریں گی۔زرتاج گل کہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اڈیالہ جیل میں نوازشریف کی طرف سے دیئے گئے حلوے کی پلیٹ کھا رہے ہونگے۔ قومی اسمبلی میں آصف زرداری جس نیازمندانہ انداز میں حضرت مولانا کو مل رہے ہیں اور انہیں نہایت خاکساری سے اپنے ساتھ ملا رہے ہیں‘ ان کا بس چلتا تو وہ حضرت مولانا کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی میں لاتے اور ان کے کارکن حضرت مولانا زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہوتے۔ وہ شہبازشریف کا بھی اسی انداز میں استقبال کر رہے تھے اور مجھے شہبازشریف کی وہ تقریر یاد آرہی تھی کہ ہم آصف زرداری کو چوک میں الٹا لٹکائیں گے۔صدر زرداری کیلئے ایک جذبہ دل میں رکھتے ہیں‘ مگر یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان میں احساس نام کی چیز نہیں ہے۔ وہ ایک دوسرے کیلئے جس جذبے کی دشمنی رکھتے ہیں‘ وہیں اتنی ہی دوستی رکھتے ہیں۔ یہ باتیں سیاستدانوں کو یاد کیوں نہیں رہتیں۔ انہیں اپنے کسی عمل اور ردعمل میں شرم کیوں نہیں آتی۔ ایک دوسرے سے این آر او بھی لیتے ہیں یا مطالبہ کرتے ہیں۔میرے بہت اچھے دل والے دوست ایک کاروباری آدمی عظمت صاحب

نے بڑی بات کی جو سیاستدانوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ عظمت صاحب نے کہا کہ سب سے بڑا این آر او دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مگر سیاستدان آپس میں ہی تمام معاملہ چکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک بات اور بڑی شاندار کی جبکہ اس حوالے سے بھی ہم اپنی ذات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ سودا بک جاتا ہے‘ ریڑھی پر اور فٹ پاتھ پر اور ایک شاندار دکان میں بھی جو بہت بڑے بازار میں ہو۔عظمت صاحب ایک غیر سیاسی آدمی ہیں مگر جس سیاسی بصیرت کا مظاہرہ انہوں نے کیا‘ ہمارے سیاستدان پریشان رہتے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔ انہوں نے بے چارے لوگوں بلکہ اپنے ووٹروں کیلئے سوائے پریشانی کے کچھ نہیں کیا۔عظمت صاحب کہتے ہیں کہ وہ نوازشریف کے حق میں نہیں ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی بار ان کے والد بڑے میاں شریف کیلئے دعا کی مگر نوازشریف کیلئے کبھی دعا نہیں کی۔ ایک دفعہ مجھے خواب میں بڑے میاں صاحب نے گڑ دیا اور کہا کہ لوگوں میں بانٹ دو۔ میں نے گڑ خرید کے لوگوں میں بانٹ دیا مگر نوازشریف کو نہ دیا۔ وہ مجھے ملے ہی نہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ اپنا گڑ ان سے لے لیں۔ وہ یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے بات کو سمجھا ہے؟ایک بڑے اچھے دل و دماغ کی شاعرہ لبنیٰ صفدر کے شعری مجموعے کا نام ہے ’’خوشبو صندل کی۔‘‘کیسے تم بن گزارہ ہو تم محبت کا استعارہ ہو، دوسرا مصرعہ اتنا خوبصورت اور بامعنی ہے کہ اس نے دوسرے مجموعے کا نام ہی ’’تم محبت کا استعارہ‘ ہو‘‘

رکھ دیا۔وہ ہمارے دوست اور بہت خوبصورت شاعر حسن عباسی کی اہلیہ ہیں۔ ’’خوشبو ہے وہ صندل کی‘‘ کی اتنی دھوم ہوئی کہ تنہائی میںشنہائی کے سُر بکھر گئے۔اس دور میں رسالے ختم ہو گئے ہیں۔ ڈائجسٹ اب تک چلتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ اعجاز حسن قریشی اور الطاف حسن قریشی کو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سے اردو ڈائجسٹ ابا جی گھر لاتے تھے۔ اب رسالوں میں کشش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں چند ادبی رسالے باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔برادرم اظہر جاوید مرحوم کا رسالہ ’’تخلیق‘‘ ہے۔ ان کے بعد ان کے فرزند ارجمند مولانا اظہر جاوید اپنے والد کی بہ نسبت بڑھائے ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک رسالہ ’’ادب دوست‘‘ ہے جسے بہت محترم اور مستحکم جذبے والے اے جی جوش شائع کرتے تھے۔ ہم انہیں محبت سے لاہوری جوش کہتے تھے۔ جوش صاحب کے مقابلے میں اس نام کی عزت رکھنا بڑا کام ہے۔ اب ان کے بیٹے شہید ناموس رسالتؐ مولانا سمیع الحق کیلئے ماہنامہ ’’الحق‘‘ خصوصی اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے۔ ان کیلئے دوستوں سپ اپیل ہے کہ وہ اپنے روابط کے حوالے سے کوئی تحریر مولانا راشد الحق سمیع کو بھیجیں۔ وہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک کے۔ مدیر اعلیٰ ہیں۔

]]>
84895
نریندرمودی نے اپنے حلف برداری تقریب میں عمران خان کو کیوں نہیں بلایا ؟ سفارتی تعلقات پر گہری نظررکھنے والے صحافی نے بتا دیا http://www.azaad.pk/2019/06/02/84892/ Sun, 02 Jun 2019 09:41:42 +0000 http://www.azaad.pk/?p=84892 مزید پڑھیں]]> قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ نریندر مودی دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کو شرکت کی دعوت دیں گے۔ لیکن مودی نے پاکسانی ہم منصب کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے حسینہ واجد اور دوسرے علاقائی لیڈروں کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا۔

سینئر صحافی جاوید صدیقی اپنے کام میں لکھتے ہیں کہ مودی کی دوسری حکومت کے آغاز میں پاکستان کے بارے میں اس کی پالیسی پہلے سے بھی زیادہ سخت نظر آرہی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا الزام بڑے تواتر سے لگایا جارہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج نے حسب روایت کم وبیش روزانہ کی بنیادوں پرکشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ہے ۔ داخلی طور پر مسلمانوں کے لیے مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ گائے کا گوشت رکھنے اور کھانے کے الزام میں مسلمانوں پر تشدد کے کئی واقعات گزشتہ چند روز میں ہو چکے ہیں۔عمران خان نے بطور وزیراعظم نریندرمودی کو انتخابات میں کامیابی اور وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے اور یہ خواہش ظاہر کی پاکستان اور بھارت کو اپنے مسائل مل جل کر اور بات چیت سے حل کرنا چاہئیں۔ لیکن نریندر مودی کی دوسری حکومت نے پاکستان کے بارے میں پالیسی یا رویہ ہی بظاہر کسی تبدیلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نریندر مودی کی دوسری حکومت کوبھارتی میڈیا مودی 2 حکومت کا نام دے رہا ہے۔ یہ حکومت ایسے افراد پر مشتمل ہے جن میں سے کوئی بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی نظر نیں آرہا۔ بھارتی وزیراعظم کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ وزیراعظم مودی کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ کے ایک رکن دیواشر نے حال ہی میں بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون لکھا ہے۔

جو PLAY THE LONG GAME کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں دیواشرنے بھارتی وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے سات ایک طویل المدت کھیل کھیلیں۔ دیواشرنے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اگلے چار برس اقتدار میں رہ سکتے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ پاک فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور اسے خوش رکھیں۔ بھارت کے سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ کے رکن نے پاکستان کی معیشت کا نچوڑ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تباہی کے کنارے پہنچ چکی ہے۔ پاکستانی روپے کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے بجٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف 6 ارب ڈالر کا قرضہ دینے کے لیے سخت شرائط عائد کررہا ہے۔ دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے اور وہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے راستے بند کرے۔بھارتی مشیر کے مطابق امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں اگرچہ افغانستان میں قیام امن اور افغان مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں پاکستان کا کردار امریکہ کے لیے بہت اہم ہے۔ دیواشر نے اپنے مضمون PLAY THE LONG GAME میں تجویز دی ہے کہ بھارت کو ان حالات میں پاکستان کے حوالے سے طویل المدت پالیسی اپنانا ہوگی۔ موصوف نے پاکستان کی فوج کے بارے میں بھارت کی روایتی سوچ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں فوج کی بنیادی فیصلے کرتی ہے۔

خاص طور پر خارجہ پالیسی اور سکیورٹی معاملات میں فوج کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔عمران خان کے بارے میں دیواشر نے کہا ہے کہ ان کی شخصیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ عمران خان مشیروں سے مشورے کئے بغیر اعلانات کرنے کے عادی ہیں اور ان اعلانات کے بارے میں وہ جلد یوٹرن بھی لے لیتے ہیں۔ دیواشرنے لکھا ہے کہ عمران خان ایک فاسٹ بولر ہیں۔ فاسٹ بولر بھی جلد غصے میں آجاتے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے کھل کر بولنے کے عادی ہیں۔ عمران خان ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ تجاویز بھی دینے کے عادی ہیں۔بھارت کی سیکورٹی کے بارے میں مشاورتی بورڈ کے رکن نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سائیڈ لائنز پر پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کرنی ہیں تو انہیں کوئی واضح پالیسی نہیں اپنانی چاہیے۔ بلکہ وہ اپنے پتے سینے کے ساتھ لگا کر رکھیں۔ اصل ارادے ظاہر نہ ہونے دیں۔ایس سی او سربراہ کانفرنس میں اگر پاکستان کے وزیراعظم سے نریندر مودی ملتے ہیں تو پھر انہیں پاکستان سے افغانستان تک تجارتی رسائی کے لیے خشکی کے راستے تجارت کے لیے روٹ کھولنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ عمران خان نے خود علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات میں وزیراعظم مودی کو حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا معاملہ بھی اٹھانا چاہیے۔ دیواشر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان خاموش اور پس پردہ سفارت کاری شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ دیواشر نے تجویز دی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان افسروں کی سطح پر بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے لیکن اس بات چیت کا ایجنڈا دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ہونا چاہیے۔ بھارتی مشیر کے خیال میں پاکستان داخلی حالات کے شدید دباؤ کا شکار ہے اس کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کرلیا گیا تو پاکستان کو ایک طرح سے ریلیف مل جائے گا۔ فی الحال بھارت پاکستان کو یہ سہولت نہ فراہم کرے۔

]]>
84892
قومی اسمبلی میں پشتون ہی پشتون : بات کرنے والے بھی پشتون اور سننے والے بھی ۔۔۔ اس سوال پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کیا زبردست جواب دیا ؟ سینئر صحافی نے اسمبلی کے ایک خوشگوار دن کا حال بتا دیا http://www.azaad.pk/2019/06/02/84889/ Sun, 02 Jun 2019 09:39:45 +0000 http://www.azaad.pk/?p=84889 مزید پڑھیں]]> مجھے پیپلز پارٹی کے ایک دوست سے پتہ چلا کہ آج پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے قومی اسمبلی میں کچھ ایسا کرنا ہے جسےبرسوں یاد رکھا جائے گا۔ اس نے بتایا کہ ہم نے رات بھر بلاول بھٹو کی تیاری کرائی ہے اُس کی تقریر سننے والی ہے ۔نیب کے دفتر کے باہرپیپلز پارٹی کی خواتین ورکرزاور ایم این ایز کے ساتھ جو کچھ پولیس نے کیا ۔

وہ اب حکومت کو اسمبلی میں بھگتنا پڑے گا ۔پیپلز پارٹی باقاعدہ تحریک استحقاق پیش کرے گی ، سچ مچ بڑی زیادتی کی گئی ہے ۔ہماری ایم این ایز کو پولیس نے گرفتار کیا،یعنی ملک کی مقدس ترین خواتین گرفتار کرلی گئیں اور نون لیگ بھی ججوں کے معاملے پر پوری طرح تیار ہوکر آئے گی ۔سومیں بھی کارروائی دیکھنے پہنچ گیا ۔اسمبلی کی کارروائی کا آج آخری دن تھا۔میں اندر داخل ہوا تو قاسم خان سوری اسپیکر کی نشست پر جلوہ افروز تھے ۔روحیل اصغر کہہ رہے تھے ۔’’یہ عجیب اتفاق ہےسوال کرنے والا پختون ، جواب دینے والا پختون اور اوپر سے بات کرنے والا پختون ۔ ہے ناعجیب اتفاق ۔‘‘تو قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے فوری طور پر مداخلت کی اور کہا ۔’’ اس ہال کے اندر سارے پاکستانی ہیں ۔یہ ہال پاکستانیوں کا ہال ہے ،اس کے اندر سب ایک قوم ہیں ۔ہمیں الحمدللہ فخر ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں ‘‘اور ہال تالیوں سے گونجنےلگا‘‘بلاول بھٹو کی طرف سے تقریر کا بار بار مطالبہ ہورہا تھا مگر قاسم خان سوری نے علی محمد کو جواب دینے کےلئے ٹائم دے دیا اور علی محمد خان نے آج اپنی زندگی کی سب سے اچھی تقریر کی ۔ان کی تقریر کچھ اتنی تیز تھی کہ نہ تو بلاو ل بھٹو کو تقریر کا موقع مل سکا اور نہ ہی نون لیگ والے ججوں کے حوالے سے شور و غوغا کر سکے ۔جس ہنر مندی سے قاسم خان سوری نے اجلاس چلایا وہ قابل داد تھا ،

بلاول بھٹو تو اس پر اتنے غصے میں آئے کہ باہر آکر قاسم خان سوری کے خلاف پریس کانفرنس کی کہ اسمبلی ہال میں بھی آمریت قائم ہو گئی ہے۔علی محمد خان نے اپنی تقریر میں کہا ’’علی وزیر اور محسن داوڑ کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی جائےانہوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستانی پرچم کو نہیں مانتے ہم دو قومی نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے ،ایسے لوگوں کواسمبلی ہال میں بیٹھنے کا حق تو کجاپاکستان میں رہنے کا حق بھی نہیں۔ اس موقع پر بلاول سمیت اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوگئے۔ معاملہ تلخ کلامی سے ہاتھا پائی تک پہنچا توقائم مقام اسپیکر نےاسمبلی اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا ۔نون لیگ بھی ججز کے خلاف بھیجے جانے والے ریفرنسز پر احتجاج نہ کر سکی ۔نواز شریف نے بھی ججز کےلئے تحریک چلانے کا حکم دے دیا۔ججز کے معاملے پر لوگ خاصے تشویش میں ہیں کیونکہ حقیقت حال واضح نہیں کی گئی ۔ قصہ صرف اتنا ہے سپریم جوڈیشل کونسل میں جج کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا ہے ۔ فیصلہ جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے جس میں ارکان جج ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستا ن اُس کے سربراہ ہیں ۔یعنی ججز کا معاملہ ججز ہی کو بھیجا گیا ہے۔اگر جج صاحبان نے سمجھا کہ ججز پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں تو معاملہ خود بخود ختم ہو جائے گا اس میں احتجاج کی کہاںگنجائش ہے۔مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ ججز کیخلاف ریفرنس سے عدلیہ پر حملہ کیاگیاہے ،کیسا حملہ محترمہ !۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ

حکومت نے خود اس ریفرنس کاکچھ حصہ میڈیا کو لیک کرکے اس کو متنازعہ بنایا ہے ۔جواباً ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے ہم تحقیقات کررہے ہیں کہ ریفرنس کی تفصیل کیسے لیک ہوئی ۔ اُن کا مسئلہ میں ہی حل کردیتا ہوں۔ ریفرنس کیا ہے ، یہ خبر مجھے اتفاقاً معلوم ہو گئی تھی۔خبر کا کیا ہے ۔ دو دن پہلے ریلیز ہوئی یا دو دن بعد ۔فیصلہ تو یہ ہونا ہے کہ ریفرنس میں موجود الزام درست ہیں یا غلط ۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن اپنے لئے بولنے کا جمہوری حق تو چاہتی ہے لیکن حکومتی ارکان کو یہ حق دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔بے شک اس وقت قومی اسمبلی کو کرپشن کے آگے ڈھال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نیب نے آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں ۔انہوں نے جوپچھلی بار نیب کو انٹرویو دیا تھااس کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کسی بے نامی اکائونٹ کا ذکر کرتے تھے تو اسے بزنس اکائونٹ کہتے تھے ۔بے شک آصف علی زرداری کےلئے ان کے تمام بے نامی اکائونٹس بزنس اکائونٹ ہی ہیں۔قومی اسمبلی کواپوزیشن مچھلی منڈی بنانا چاہتی ہے ۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ قومی اسمبلی دراصل قانون ساز اسمبلی ہے اس کے ممبران کا بنیادی مقصد قانون سازی ہےمگر کتنے ارکان ایسے ہونگے جو قانون سازی کے کام کو سمجھتے ہونگے ۔یہاں تو زیادہ تر بزنس مین ہیں یا جاگیردار،انہیں کیا پتہ کہ قانون سازی کیا ہوتی ہے ۔وہ تو سب اسمبلی کو اقتدار حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں ۔گزشتہ دنوں یہ خبر بڑی عام تھی کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرتبدیل ہونے والے ہیں، عمران خان اُن سے ناراض ہیں،انہوں نے ان سے ملنے سے انکار کردیا ہے ۔ دراصل اسد قیصر نے شہباز شریف کیساتھ خفیہ ملاقات کی تھی ، اپوزیشن کے ساتھ ان کے مراسم کے کچھ اور قصے بھی مشہور ہوئے ۔ مگر جیسے ہی اسد قیصر کی تبدیلی کی خبر آئی ،اسد قیصر عمران خان سے ملے عمران خان نے انہیں کچھ اور ٹائم دیا مگر اسد قیصر پی ٹی ایم والا قصہ دیکھ کر چھٹی پر چلے گئے ۔ایک خبر یہ بھی تھی کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد ہی رہیں گے ممکن ہے قیصر کی جگہ عمر کا لفظ آجائے ۔مجھے تو مستقبل میں قاسم خان سوری اسپیکر قومی اسمبلی بنتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

]]>
84889
دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والے چوہدری نثار کیسے اس گڑھے میں خود گر گئے ؟ جاوید ہاشمی اور چکری کے چوہدری کی دیرینہ مخالفت کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات http://www.azaad.pk/2019/05/05/74582/ Sun, 05 May 2019 12:13:00 +0000 http://www.azaad.pk/?p=74582 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) آثار تو یہی بتا رہے ہیں کہ شریف خاندان پاکستانی سیاسی اُفق سے غائب ہونے جا رہا ہے۔ نواز شریف تاحیات نااہل ہو چکے ہیں، باہر جانے کے لئے پَر تول رہے ہیں، شہباز شریف لندن جا چکے ہیں اور واپسی کے امکانات معدوم ہیں، مریم نواز سیاست نہیں کر سکتیں،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک سزا سے بَری نہ ہو جائیں، حمزہ شہباز پوری طرح نیب کے ریڈار پر ہیں اور آج نہیں تو کل انہیں نیب کی حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہباز شریف پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سے دستبردار ہو گئے ہیں،حالانکہ انہوں نے یہ منصب بہت لڑ جھگڑ کر لیا تھا۔ پارلیمانی لیڈر بھی نہیں رہے اور شنید ہے کہ اپوزیشن لیڈر بھی کوئی دوسرا بن جائے گا۔ پھر شاید یہ نوبت بھی آئے کہ مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر بھی کسی کو بنانا پڑے، تو یہ ساری صورتِ حال1999ءکی یاد دِلا رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کو ایک بار پھر شریف خاندان کے بغیر زندہ رکھنے کی نوبت آ گئی ہے۔ ان کے بغیر پہلے اجلاس ہی میں اختلافات اُبھر کر سامنے آ گئے اور نواز شریف کے بیانیہ کو چھوڑنے پر سعد رفیق اور جاوید لطیف نے کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔آگے چل کر کیا ہوتا ہے، اس کے آثار کچھ اچھے نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) کے اندر کوئی ایسی شخصیت ہے جو اس دورِ ابتلا میں پارٹی کو متحد اور زندہ رکھ سکے۔ کیا خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر حسین، احسن اقبال یا دوسرے رہنماﺅں میں اتنی جان ہے کہ کارکنوں اور ارکانِ اسمبلی کو حوصلہ دے سکیں…. کیا یہ سیاسی لوگ ہیں یا صرف اقتدار کی وجہ سے سیاسی بنے ہیں؟ یہ بات مَیں اس تناظر میں کہہ رہا ہوں جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور شریف خاندان کو معاہدہ کر کے جلا وطن ہونا پڑا

تو پیچھے ایک سیاسی بندہ موجود تھا، میری مراد جاوید ہاشمی سے ہے، جاوید ہاشمی نے مشکل حالات میں مسلم لیگ(ن) کو زندہ رکھا اور اُن کی وجہ سے وہ سیاسی میدان میں ایک قوت کے طور پر موجود رہی، دو ایسی شخصیات تھیں جو مسلم لیگ(ن) کے لئے اُس زمانے میں امرت دھارا ثابت ہوئیں، بیگم کلثوم نواز اور جاوید ہاشمی۔ اب یہ دونوں نہیں ہیں، بیگم کلثوم نواز دُنیا سے رخصت ہو گئیں اور جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) کے کارروائی گروپ نے کارنر کر دیا ہے۔ نواز شریف کو کئی بار موقع ملا کہ جاوید ہاشمی کو پارٹی میں بڑا عہد دے کر واپس لے آئیں،مگر اُن کے اردگرد موجود خوشامدیوں نے یہ ممکن نہ ہونے دیا۔ ذرا غور فرمائیں کہ اس وقت مسلم لیگ(ن) کے جو لوگ آگے آ رہے ہیں، وہ سب نیب زدہ ہیں۔خواجہ آصف ہوں یا شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال یا خواجہ سعد رفیق، سب کے خلاف انکوائری چل رہی ہیں یا ریفرنس دائر ہونے والے ہیں۔ ایسے رہنماﺅں سے کسی بڑے کام کی امیدیں وابستہ کرنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں،پوری مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایسا سیاسی بندہ نظر نہیں آتا، جو اسے لیڈ کر سکے۔مَیں نے سیاسی بندے کی بات جان بوجھ کر کی ہے۔ ایسا سیاسی آدمی جس نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہوں،جس کی شخصیت کے بارے میں یہ تاثر موجود ہو کہ مشکل حالات میں ڈٹ جانے والی ہے،جسے بیرون ملک بھاگنے کی حاجت نہ ہو،جس نے اقامے نہ لئے ہوں اور جیل جانے سے نہ ڈرتا ہو،ایسا کون ہے اِس وقت مسلم لیگ (ن) میں؟

اب میاں برادران کو جاوید ہاشمی کی یاد آئے گی،جو آمر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے اور جیل میں بیٹھ کر بھی پارٹی چلائی،جنہوں نے مشکل حالات میں کبھی بیرون ملک جانے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔سیاسی جماعتیں چُوری کھانے والوں کے ذریعے نہیں چلتیں۔ ایک تو خود شریف برادران دورِ ابتلا کا مقابلہ بہادری سے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، جیل کی کوٹھری اُن کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں،خود نواز شریف یہ درخواست دے چکے ہیں کہ جیل کا ماحول اُن کے دِل پر اثر انداز ہوتا ہے۔شہباز شریف نے نیب کی حراست سے بچنے کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ اپوزیشن لیڈر، پھر چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بن کر اجلاس پر اجلاس رکھوائے تاکہ نیب سے بچا جا سکے۔ اب چونکہ وہ نیب کی حراست میں نہیں،اِس لئے عہدے بھی چھوڑ دیئے اور اسمبلی یا پی اے سی کے اجلاسوں سے بھی انہیں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ آج نواز شریف جب تنہائی میں بیٹھتے ہوں گے تو نجانے کیسی کیسی فلمیں اُن کے ذہن میں چلتی ہوں گی،انہیں اپنے سیاسی فیصلوں پر کس قدر غصہ آتا ہو گا،جس چودھری نثار علی خان کے کہنے پر انہوں نے جاوید ہاشمی کو اُس زمانے میں اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا تھا ،پھر جن کی مخالفت کے باعث وہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) میں واپسی کا پروانہ نہیں دے سکے تھے، آج وہ چودھری نثار علی خان کہاں ہے؟جاوید ہاشمی تو آج بھی ملتان میں بیٹھ کر نواز شریف کی حمایت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔انہوں نے نواز شریف کے

اُس بیانیہ کی مکمل حمایت کی جو انہوں نے ججوں یا جرنیلوں کی وجہ سے منتخب وزیراعظم کو بیک جنبش ِ قلم گھر بھیجنے کے خلاف اختیار کیا۔ وہ آج بھی اس بیانیہ کے مبلغ ہیں،لیکن باقی سب مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہیں۔مَیں جب تصور کرتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) کا صدر بنا دیا گیا ہے تو مجھے سارا سیاسی منظر بدلا ہوا لگتا ہے۔وہ موثر آواز جو اِس وقت مسلم لیگ(ن) کو منجدھار سے نکال سکتی ہے، صرف جاوید ہاشمی کے پاس ہے،جن پرنہ تو نیب کا کوئی کیس ہے اور نہ جنہیں انتقامی کارروائی کا کوئی خوف ہے، لیکن اُس کی کوئی گنجائش موجود نہیں، ایک ایسی جماعت میں جو شدید بحران سے دوچار ہے، آنے والے دِنوں میں جس کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہماری سیاسی قیادتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے بعد کسی کو سیاست دان سمجھتے ہی نہیں،انہیںجی حضوری کرنے والے چاہئے ہوتے ہیں،مگر ایسے لوگ نظریاتی ہر گز نہیں ہو سکتے۔ مسلم لیگ(ن) ایک نظریاتی جماعت نہیں ہے، ہاں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُس کا ایک بیانیہ ضرور ہے، جو نواز شریف نے دیا، جس میں ووٹ کو عزت دو اور منتخب وزیراعظم کی توقیر کرو، جیسے نکات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر نواز شریف کو صرف انہی دو باتوں کی وجہ سے نکالا گیا ہوتا تو وہ واقعی آج پاکستان میں ایک نظریے کی علامت ہوتے،مگر وہ تو کرپشن اور حقائق چھپانے پر نااہل ہوئے ہیں،دو بار سزا ہو چکی،

دونوں ریفرنسوں میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔نظریاتی آدمی کے ہاتھ بھی صاف ہونے چاہئیں، وہ اگر نہیں ہیں تو نااہلی کے بعد جمہوریت کی پاداش میں انتقامی کارروائی کا پروپیگنڈہ تو کیا جا سکتا ہے، شواہد سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لئے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے،اُن کی بیماری بھی اب سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔اُن کی جماعت اجنبی بن کر اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں لگتا ہے سب بُرے وقت میں اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں، ایسے مواقع پر صرف نظریاتی کارکن ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،بدقسمتی سے نظریاتی لوگ مسلم لیگ(ن) میں ہمیشہ ناپسندیدہ قرار پاتے رہے ہیں۔ سب سے بڑی مثال جاوید ہاشمی ہیں۔ پارٹی کو آمریت کے دور میں زندہ رکھنے والے کے خلاف اچھے دِنوں میں جو سلوک روا رکھا گیا، وہ اسے جسمانی معذور بنا گیا، پھر بے دِلی کے ساتھ پارٹی چھوڑی اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو ایک پل دِل نہ لگا۔ پھر نواز شریف کی محبت میں مسلم لیگ(ن) کی طرف رجوع کیا، مگر در وا نہ ہو سکا۔ اب شریف خاندان پھر مشکلات میں گِھر چکا ہے۔ پارٹی ایسے لوگوں کو سونپی جا رہی ہے جو اقتدار کے ساتھی ہیں، جن پر مشکل وقت آیا تو کچھ وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے۔ آج پھر مسلم لیگ(ن) کو جاوید ہاشمی جیسے کارکن کی ضرورت ہے،مگر اُن کے لئے کوئی جگہ نہیں،پارٹی اُن لوگوں کے نرغے میں ہے، جنہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہمیشہ نواز شریف کو نرغے میں لئے رکھا اور اب پارٹی پر قبضے کی سکیمیں بنا رہے ہیں۔

]]>
74582
ایاک نعبد و ایاک نستعین : عمران خان نے آج سے کئی سال قبل یہ آیت کس مشہور پاکستانی شخصیت کے کہنے پر اپنی تقریروں سے قبل پڑھنا شروع کی ؟ ڈاکٹر اجمل نیازی کا شاندار انکشاف http://www.azaad.pk/2019/05/05/74536/ Sun, 05 May 2019 12:01:28 +0000 http://www.azaad.pk/?p=74536 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ محبوب کی جدائی میں وزن کم ہو جاتا ہے۔ ایک آدمی زندگی میں 70 لٹر سے زیادہ آنسو بہاتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں روتے کہ لوگ بزدل کہیں گے۔ مگر دل کھول کر رونے سے ذہن کا دبائو کم ہو جاتا ہے‘ لیکن یہ بھی لوگ سوچتے ہیں کہ

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس عمر میں کون محبت کرے۔ محبوب بنائے پھر اس کی جدائی میں آنسو بہائے۔ کہتے ہیں کہ رونا اچھا ہوتا ہے۔اسے معصومیت بھی کہتے ہیں۔ بچے اور عورت رونے کے لئے بہت آسان ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے کم کم لوگوں کو روتے دیکھا ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان پتلی ہو گئی ہیں۔ عمران نے اسے معاون خصوصی بنایا۔ وزیر کیوں نہ بنایا۔ وزیر مملکت ہی بنا دیتے۔ کیا وزیر شذیر سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ عمران کو کسی نے تو اسد قیصر کے سپیکر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ کوئی ایاز صادق جیسا آدمی تحریک انصاف میں نہ تھا۔ کسی نے فردوس عاشق کو فردوس باجی کہہ دیا۔ یہ خواہ مخواہ کا مذاق ہے۔ جس نے کہا وہ باجی نہیں اس کی چھوٹی بہن ہے۔ فردوس نے بھی بلاول کو مشورہ دیا ہے۔ وہ تنقید کی بجائے سندھ میں ایڈز کو کنٹرول کریں۔ ایڈز کا شکار ڈاکٹر گندے انجکشن لگا کے لوگوں کو موت سے زیادہ بھیانک زندگی دے رہے ہیں۔ اس کے خلاف سندھ حکومت کارروائی کرے۔ میرے محبوب رسول کریمؐ نے فرمایا ’’لوگو رویا کرو‘ رو نہیں سکتے تو روتے ہوئے لوگوں جیسی شکل بنا لو۔ریاست مدینہ کی بات کیلئے عمران کو مذاق بنا دیا گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے رسول کریمؐ کی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضور کریمؐ سے بڑا حکمران کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ عمران ان کا امتی حکمران بن کے دکھائے۔ بہت دانشور سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان ان کی مدد کریں۔ انہیں بتائیں کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے۔ اسے سیاست کرنا آگیا ہے کہ

اس نے شریف برادران کوشکست دی ہے مگر ابھی حکومت کرنا نہیں آیا۔ جبکہ وہ اپنی شخصیت اور فطرت میں ایک حکمران ہے۔ اس تقریب میں جو آیات پڑھی گئیں‘ ان میں اللہ رسول کریمؐ سے کہتے ہیں ہم نے آپؐ کا سینہ کھول دیا۔ آپ کے سر سے وہ بوجھ ہلکا کر دیا جس نے آپؐ کی کمر کو دوہرا کر دیا تھا۔ ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیا۔ بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیلئے امید کی بات کی ہے۔ عمران نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی۔ اچھی بات ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ ہر دفعہ اپنی تقریر سے پہلے عمران یہ آیت مبارکہ ضرور پڑھتا ہے۔ سنا ہے یہ آیت جاوید میاں داد نے عمران کو پڑھنے کیلئے کہی تھی۔ ایاک نعبدو ایاک نستعین۔ اے اللہ ہم تمہاری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ پنڈی‘ اسلام آباد میں نیشنل بک فائونڈیشن کی تقریبات میں عائشہ مسعود کے کشمیر سیمینار میں ہم پہنچے۔ وہاں برادر مقصود جعفری بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ میرے شاگرد ہیں۔ آرمی چیف نے کیا تخلیقی بات کی ہے کہ آزادی مانگنے سے نہیں ملتی۔ یہ بھی کہا کہ ہماری بیورو کریسی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتی۔ آرمی چیف کی خدمت میں عرض ہے کہ ہماری بیوروکریسی داخلہ امور میں بھی دلچسپی نہیں لیتی۔ افسران کو اپنی فکر ہوتی ہے، پروٹوکول اور شان و شوکت کی۔ میرے قارئین بھی میرے اس انداز کو پسند کرتے ہیں۔ میں بیورو کریسی کو مذاق مذاق میں برا کریسی کہتا ہوں۔ چنگا نہ کریسی برا کریسی۔ شاہ محمود قریشی کے والد نے اپنی گورنری کے دوران سائلین کے ساتھ یہ انداز اپنایا تھا۔ اللہ کریسی تیرا کم تھی ویسی۔ لوگ برا کریسی سے پریشان تھے۔ اب انہیں اللہ کریسی سے بھی واسطہ پڑا رہا تھا۔ وہ اسے حکمرانوں اور افسروں سے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے۔ حکام امیدیں کیوں لگاتے ہیںجبکہ عوام کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

]]>
74536
جناب والا : نیلسن منڈیلا اور بھٹو بننے کے لیے جان کی قربانی دینا پڑتی ہے مگر آپ تو ہر بار سب کچھ درمیان میں چھوڑ کر باہر بھاگ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک (ن) لیگی متوالے کے اس جملے کا میاں صاحب نے کیا جواب دیا ؟ سہیل وڑائچ کا دھماکہ خیز انکشاف http://www.azaad.pk/2019/05/05/74526/ Sun, 05 May 2019 11:58:35 +0000 http://www.azaad.pk/?p=74526 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) متوالا ورکر: (بے تکلفی اور منہ پھٹ انداز میں گاتے ہوئے) اکیلے نہ جانا،ہمیں چھوڑ کر تم، اس بار ڈیل کرنی ہے تو پہلے سے بتا دیں۔ لیڈر :(سنجیدہ اور دھیمے لہجے میں) ایسی کوئی بات نہیں، ڈیل ہو رہی ہوتی تو ہم پر سختیاں کم نہ ہو جاتیں،

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تک نئے نئے مقدمات بن رہے ہیں، علاج کیلئے ضمانت نہیں ہو رہی، باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ متوالا:بیس سال پہلے بھی آپ نے ایسے ہی ڈیل کر لی تھی اور ہم اکیلے رہ گئے تھے اور آپ جدہ کے سرور محل میں جابسے تھے۔ لیڈر:وہ فیصلہ بھی درست تھا وگرنہ مشرف تو ہمیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتا، نہ رہتا بانس نہ بجتی بانسری (مسکراتے ہوئے) نہ پارٹی باقی رہنا تھی نہ ہم۔ ہماری حکمت عملی درست نکلی۔ متوالا:کل سے مجھے جیالے اور انصافی دونوں طعنے دے رہے ہیں کہ تمہارے لیڈر فرار ہونے والے ہیں، این آر او ہو رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیڈر:ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ مقدمات عدالتوں میں ہیں، اِس میں ڈیل یا ڈھیل والی کوئی بات سرے سے ہی نہیں ہے۔ متوالا:رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر نامزد کرنا اِس بات کی صاف نشانی ہے کہ ہماری قیادت نظروں سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے اور اپنے ذاتی معاملات ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔ یہ کوئی اچھی سیاست نہیں، اِس کا ہماری جماعت پر برا سیاسی اثر پڑے گا۔ لیڈر:رانا تنویر اور خواجہ آصف دونوں بااعتماد ساتھی ہیں، اُن کو عہدے دینے کا مقصد اختیارات کی تقسیم ہے۔ اب بھی پارٹی صدارت شہباز شریف کے پاس ہے، ہر بات پر میرا مشورہ بھی شامل ہوتا ہے۔ متوالا:کچھ تو ہے کہ جس کی پردہ داری ہے، نہ آپ بولتے ہیں نہ مریم بی بی کے ٹویٹر سے کچھ سامنے آتا ہے اور نہ ہی شہباز شریف کوئی واضح موقف لے رہے ہیں، پارٹی کنفیوژ ہے۔

لیڈر:ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو چھپایا جائے، یہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اِس وقت نہ الیکشن ہو رہے ہیں، نہ جلسے اور نہ ہی کوئی تحریک چلنے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف خود اپنے بوجھ سے ناکام ہورہی ہے، ہماری پالیسی فی الحال ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی ہے۔ متوالا:پارٹی مردہ ہو رہی ہے، نہ کوئی جلسہ، نہ جلوس اور نہ ہی کوئی تنظیمی اجلاس، اِس طرح تو لوگ ہماری جماعت سے مایوس ہو جائیں گے۔ آپ بیرون ملک چلے گئے تو پارٹی تتربتر ہو جائے گی۔ فارورڈ بلاکس بھی بن سکتے ہیں۔لیڈر:دیکھو ہمارا ووٹ بینک پارٹی کے ساتھ وفادار ہے، یہ بزنس مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، تحریک انصاف بجٹ میں اُن پر ٹیکس لگائے گی اور یہ ہمیں پہلے سے زیادہ یاد کریں گے۔ متوالا:اگر تحریک انصاف نے بازاری طبقے کو ریلیف دے دیا تو یہ ہمیں چھوڑ کر تحریک انصاف کی بینڈ ویگن میں بیٹھ جائیں گے۔ لیڈر:آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے جارہا ہے، 600ارب روپے کے نئے ٹیکس لگنا ہیں اور یہ سارے کے سارے بزنس مڈل کلاس پر لگنا ہیں، اِس لئے ہمارے منظر سے ہٹنے کے باوجود ہمارا ووٹر ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ جدہ جلاوطنی کے دوران بھی ہمارے ووٹر نے ہمیں نہیں چھوڑا تھا اور اب بھی ہم اگر علاج کے لئے باہر گئے تو کوئی ہمیں نہیں چھوڑے گا۔ متوالا:آپ بادشاہ لوگ ہیں، گلیوں بازاروں میں لوگوں کے طعنے تو ہم سنتے ہیں۔ پچھلی دفعہ آپ جلاوطن ہوئے تو (ق)لیگ بن گئی تھی، ہماری آدھی قیادت ہمیں چھوڑ گئی تھی۔ لوگ پچھلی دفعہ بھی ناراض ہوئے تھے،

دوبارہ یہی کام ہوا تو زیادہ ناراض ہوں گے۔ لیڈر:( جذباتی انداز میں) اصل میں کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ ہم پر کتنی سختیوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ میری بیگم مجھ سے بسترِ مرگ سے بات کرنا چاہتی تھی، وہ نہیں کرنے دی گئی۔ میری بے قصور بیٹی مریم سالوں عدالتوں میں دھکے کھاتی رہی، اب شہباز شریف کے خاندان کی عورتوں تک کو مقدمات میں ڈال دیا گیا ہے، ایسا تو پاکستانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ہم نے اپنے حصے سے کہیں زیادہ لڑائی لڑ لی، قربانیاں دے دیں، اب باقی قوم بھی اپنا حصہ ڈالے۔ کدھر ہیں صحافی؟ کدھر ہیں وکلاء اور کدھر ہیں تاجر اور سیاستدان؟ کیا ساری لڑائی اکیلے شریف خاندان نے ہی لڑنی ہے۔ متوالا:(ٹھنڈے لہجے میں) آپ جو کہہ رہے ہیں درست کہہ رہے ہیں مگر لیڈر سب کے لئے مثال بنتے ہیں۔ بھٹو اور بے نظیر نے جان قربان کردی مگر ڈیل نہیں کی۔ جیالے ہمیں ڈیل کے طعنے دے رہے ہیں۔ (تلخی سے) اگر تحریک کو منزل تک نہیں لے جانا تھا تو یہ جمہوری موقف لیا کیوں تھا؟ اُس وقت ہی ڈیل کر لیتے۔ لیڈر:(متوالے کو تھپکی دیتے ہوئے) ایک اکیلے لیڈر یا ایک خاندان کی قربانیوں سے ملک میں مکمل جمہوریت نہیں آسکتی، پوری قوم کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ہمارے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی رہی اور پوری قوم سوتی رہی، کسی بھی منصف، وکیل، صحافی اور ہمارے دوست نے آواز تک بلند نہ کی۔ جدوجہد خلا میں نہیں ہوتی، اُس کے لئے اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوامی امداد اور تعاون حاصل نہ ہو تو قربانی بھی رنگ نہیں لاتی۔ متوالا:ناراض نہ ہوں تو عرض کروں، نیلسن منڈیلا اور بھٹو کی طرح پہلے خود قربانی دینا پڑتی ہے، آخری حد تک یعنی سولی تک چڑھنے کے لئے تیاری کرنا پڑتی ہے پھر کہیں جاکر لوگ باہر نکلتے ہیں اور آپ کے ہم آواز بنتے ہیں۔ ہماری کمزوری یہی ہے کہ ہم جمہوری تحریک کو درمیان میں چھوڑ کر جان بچانے کے لئے ڈیل کرتے رہے ہیں۔ لیڈر:(قہقہہ لگاتے ہوئے) جان ہے تو جہان ہے جب جدوجہد کا وقت تھا تو ہم اُس وقت نہیں جھکے، اب جدوجہد کا نہیں مصلحت اور حکمت عملی بنانے کا وقت ہے، ہر کام اور ہر فیصلہ وقت پر کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ متوالا:تو کیا یہ سمجھا جائے کہ اِس حکمت عملی کا مطلب کوئی ڈیل ہے ،انڈراسٹینڈنگ ہے یا صرف کوئی سیاسی دائو؟ لیڈر:جو مرضی سمجھو یہ اعتماد بحال کرنے، وقفہ لینے اور نئے سرے سے دوبارہ آنے کی کوشش ہے۔ متوالا:اچھا تو یہ سی بی ایم (Confidence Building Measures)ہیں۔

]]>
74526
خان صاحب : صرف دو ہزار بندے لے کر ایک سیاستدان آپ کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر نے والا ہے وہ نواز شریف اورآصف زرداری سے خرچے کی بات چیت شروع کر چکا ہے جس روز اسے خرچ مل گیا وہ ۔۔۔۔۔۔ صف اول کے صحافی نے عمران خان کو خبردار کر دیا http://www.azaad.pk/2019/05/01/72710/ Wed, 01 May 2019 05:56:07 +0000 http://www.azaad.pk/?p=72710 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) کپتان ایک غیر روائتی آدمی ہے۔ ویسے ہمارے سماج میں روایتی اور غیر روائتی کی شناخت عرصہ ہوا دھندلا چکی ہے۔ روائت سے جڑا ہوا شاعر ہو تو وہ اساتذہ کے رنگ میں شعر کہتا ہے۔ شعری خیالات کو باندھتا ہے اور لفظیاتت کے ہنر کو استعمال کرتا ہے۔

نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ کا روائتی کھلاڑی ہو تو بھلا مانس بنا رہتا ہے‘ بیٹ کو قدیم کلاسیکل شاٹس کے لئے مہارت سے استعمال کرتا ہے۔ سٹائل‘ تحمل اور صاف ستھری کرکٹ کو ترجیح دیتا ہے ۔ بائولر ہو تو روائتی انداز میں غصہ ظاہر کرنے کے لئے باونسر پر اکتفا کرتا ہے۔ کچھ روایات سیاست کی ہیں۔ میں نے ایک بار جمہوریت کے نام پر حکومتیں گرانے ‘ بنانے اور پھر گرانے کی تحریکوں پر نوابزادہ نصراللہ پر تنقید کی۔ مرحوم یہ کالم پڑھ کر خفا ہوئے۔ ایک دوست کے توسط سے کچھ مدت بعد ان کے انٹرویو کے لئے گیا تو نوابزادہ نے اپنی گرائو بنائو سیاست کھول کر بیان کی۔ پھر ان سے اچھا تعلق بن گیا۔ میں نے بہت بار ڈاکٹر مبشر حسن سے مکالمہ کیا۔ وہ ہر بجٹ کو ریاستی طاقت میں اضافہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ ان کا زاویہ نظر ہے۔ جناب قیوم نظامی شفقت فرماتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے ہیں۔ ان دنوں کالم لکھتے ہیں عوامی انقلاب پسند قیوم نظامی سیاست کی روائت سے الگ نہیں ہوئے سیاست سے الگ ہو گئے۔ میاں نواز شریف سیاست میں اسی روائت سے داخل ہوئے جو ایوب خان نے ڈالی تھی۔ ایوب خان نے امیر محمد خان کو نواب کہلانے کا حق دیا۔ اس کے خاندان کو ریاست دوست قرار دے کر سیاست میں موقع دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت کو پذیرائی بخشی اور سیاسی مواقع فراہم کئے ۔ ایوب خان فوجی آمروں کے لئے آئیڈیل رہے ہیں۔

جنرل ضیاء نے پوری نئی نرسری کاشت کی۔ نواز شریف اسی نرسری کا پودا ہیں جس نے اپنے بیج مزید جگہوں پر لگا دیے ہیں۔بے نظیر بھٹو نے پہلا انٹرویو بشیر ریاض کو دیا۔ اس انٹرویو میں وہ ایسی انقلابی لڑکی معلوم ہوتی ہیں جو امریکہ کو دنیا بھر کی پریشانیوں کا ذمہ دار گردانتی ہے۔ بھٹو صاحب کی موت‘ قید اور جلاوطنی کے بعد 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہو چکی تھیں۔ وہ غیر روائتی بننے کا سفر طے کر کے پاکستان آئیں اور لاکھوں لوگوں نے ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دیں۔ عمران خان نے 1996میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کی تعمیر احتساب‘ عوامی اختیار اور سچی جمہوریت کے ریشمی خوابوں سے ہوئی۔ نوابزادہ نصراللہ سے عمران خان نے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا ہو گا۔ قاضی صاحب سے دھرنے کی سیاست سکھی ہو گی۔دونوں کے ساتھ 1999ء میں نواز ہٹائو تحریک میں اکٹھے تھے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اس وقت ان کے ساتھی ہوا کرتے تھے۔ عمران خان کو شروع دن سے نواز شریف اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ اخباری فائلیں گواہ ہیں 1997ء کے انتخابات میں نواز شریف نے عمران خان کو پیشکش کی کہ وہ 26نشستیں لے کر ن لیگ کے اتحادی بن جائیں۔ عمران خان راضی نہ ہوئے۔ انہیں پورے ملک سے ایک بھی نشست نہ ملی۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کے فوائد جانتے ہوئے یہ پیشکش قبول نہیں کی تو عمران خان نے خود کو مفاداتی سیاست کی روائت سے الگ کر لیا۔

نوے کے عشرے میں سیاست نے نئی روایات کی بنیاد رکھی۔ شیخ رشید کی شکل میں نواز شریف نے بدزبانی والی توپ اپنی حفاظت پر رکھ لی تھی جو پارلیمنٹ میں گندے جملے اور ذومعنی بیانات سے مخالفین کی توہین کرتے۔ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف کی بدبودار مہم کا نشانہ عمران خان بنے۔ وہ تمام کردار اور اخبار ابھی موجود ہیں جو سیتا وائٹ سکینڈل کو ہر روز نیا مسالحہ لگا کر شائع کرتے۔ اس وقت وہ سب لوگ پارلیمنٹ میں موجود تھے جو آج بزرگ سیاستدان کہلاتے ہیں‘ کئی سابق وزیر اعظم ہو چکے ہیں اور کئی اپنی جماعتوں کے سربراہ ہیں اور خود کو روائت پسند کہلانا پسند کرتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہماری باڈی بلڈنگ ٹیم کے کوچ کہا کرتے تھے غصے کو ریاضت اور مشق میں ڈھالو۔ عمران خان کو بھی ان کے کسی کوچ نے یہ ضرور نصیحت کی ہو گی مگر کپتان نے کئی بار اپنے پرستاروں کو زیادہ قریب آنے پر تھپڑ دے مارا۔ جن دنوں دھرنے پر تھے اپنے ایک کارکن کو سیڑھیاں اترتے ہوئے چانٹا رسید کر دیا۔ کرپشن سے لڑتے لڑتے کپتان ہر اس شخص سے لڑ پڑتا ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ پنجاب آدھا پاکستان ہے۔ یہاں کے بارہ کروڑ لوگ اگر حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں گے یا کپتان کے مقرر کردہ وزیر اعلیٰ کو قبول نہیں کریں گے تو وفاق میں عمران خان مضبوط نہیں ہو سکے گا۔ وہ اسمبلی اور اسمبلی سے باہر جو گفتگو کرے‘ جو زبان استعمال کرے اور جو چاہے لباس پہنے مگر پنجاب کو گونگی فلموں کی روائت کا حصہ نہ بنائے۔ پنجاب اس کی غیر روائتی سوچ سے فائدہ اٹھانے کا مستحق ہے نقصان کا نہیں۔عمران خان ایک علاقے کی محرومی کا علاج کرتے کرتے وسطی پنجاب کو محرومی کا شکار بنا رہے ہیں۔ عمران خان مطمئن ہیں کہ عوام کرپشن سے آلودہ سیاستدانوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ خان صاحب آپ غلط سمجھ رہے ہیں جس رفتار سے آپ کی ٹیم آپ کی محنت پر پانی پھیر رہی ہے بہت جلد یہ لٹیا ڈبو سکتی ہے۔ لوگوں کے حافظے بہت کمزور اور ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ہدائت کی۔ دیکھ لیں آپ کے ساتھی سابق کرکٹر اس کی مخالفت کر رہے ہیں‘ کیونکہ آپ نے مسئلے کو صرف اپنے انداز سے دیکھا ہے‘ اجتماعی نظر کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنائیں گے تو آپ کی حکمت عملی میں جامعیت اورپذیرائی کی صفات پیدا ہوں گی۔ اگر آپ اب بھی مطمئن ہیں تو جان لیں کہ صرف دو ہزار طالب علم لے کر ایک سیاستدان آپ کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ وہ نواز شریف اورآصف زرداری سے خرچے کی بات چیت شروع کر چکا ہے جس روز اسے خرچ مل گیا وہ اس جگہ آ بیٹھے گا جہاں آپ 126روز تک بیٹھے رہے۔

]]>
72710
مجھے اسکی ایک چیز واپس کرنی ہے ۔۔۔۔ پاکستان کا نامور کالم نگار آج بھی لاہور شہر کے ایک مولوی کی بیٹی کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے ؟ مگر کیوں ؟ ایک شاندار تحریر جو آپ کو مدتوں یاد رہے گی http://www.azaad.pk/2019/05/01/72702/ Wed, 01 May 2019 05:55:03 +0000 http://www.azaad.pk/?p=72702 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے دادا حضور نورالدین جنہیں ہم باباجی کہتے تھے، سعدی پارک مزنگ میں اپنے ہم عمروں کی بیٹھک میں بیٹھا کرتے تھے، مزنگ بازار اور چاہ پچھواڑا کے درمیانی راستے میں ایک چھوٹا سا لکڑی کادروازہ تھا، جو بظاہر کسی چھوٹے سے گھر کا داخلی راستہ معلوم ہوتا تھا،

نامور کالم نگار خاور نعیم ہاشمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درحقیقت یہ دروازہ (جو اب بھی موجود ہے)، سعدی پارک اور چاہ پچھواڑے کا شارٹ کٹ تھا جسے صرف محلے کے لوگ ہی جانتے تھے ، ہم اسی دروازے سے اسکول جایا کرتے تھے، اس دروازے میں داخل ہوتے ہی گھنے قدیمی درخت آپ کا استقبال کرتے ،شروع میں ہی بائیں ہاتھ ایک چھوٹی سی مسجد تھی، اور مسجد سے ملحق ایک گھر جس میں باریش مولوی صاحب اپنی بیوی اور جوان بیٹی اور دیگر کئی بچوں سمیت رہائش پذیر تھے، ایک طویل صحن تھا اور اس کے آگے دالان اور پھر ایک بڑا کمرہ ،اس گھر کے قریب ہی بزرگوں کاوہ ڈیرہ تھا جہاں موڑھوں پر بیٹھ کروہ حقہ پیتے اور حالات حاضرہ پر تبصرے کیا کرتے تھے، بابا جی کی گھر میں کوئی ایمر جنسی ضرورت پڑ جاتی ، کوئی مہمان،رشتہ دار آ جاتے تو میں ہی انہیں ان کے ہم عصر دانشوروں کے ڈیرے سے بلانے جایا کرتا تھا، باباجی ہمارے گھر کے وزیر خزانہ بھی تھے، ہم دن میں کئی کئی بار ان سے جیب خرچ لیا کرتے ، میں جب بھی باباجی کودیکھنے اس ڈیرے پر جاتا ، مولوی صاحب کے گھر کا چکر بھی لگا لیا کرتا تھا،اس دور میں محلے کے ہر گھر سے مساجد میں کھانے بھجوانے کا رواج تھا، میں جب بھی مولوی صاحب کے گھر جاتا تو ان کی بیوی مجھے طرح طرح کے پکوان کھلاتیں، وہ ایک انتہائی شفیق اور پیار کرنے والی مہربان خاتون تھیں، کبھی کچھ کھلائے بغیر واپس جانے نہیں دیتی تھیں۔ 1960ء میں ہم مزنگ سے اچھرہ نقل مکانی کر گئے، فاصلہ کچھ زیادہ نہیں تھا،

پیر غازی روڈ سے سعدی پارک تک پیدل دس منٹ میں پہنچا جا سکتا تھا، ہمارے بابا جی کو گو نئے محلے میں اپنی عمر کے دوست مل گئے ، ایک کا نام بابا بھاٹی اور دوسرے کا بابا شریف تھا، بابا بھاٹی ذرا رنگین مزاج تھے ، وہ شمع سینما میں فلم کا آخری شو دیکھنے بھی چلے جایا کرتے تھے اور اگلے دن فلم کا ایک ایک سین بابا جی کو سناتے ، اگر کسی فلم میں ہاشمی صاحب ہوتے تو وہ ہمیں بھی ان کا پورا کریکٹر ڈائیلاگز سمیت سناتے اور خوب ہنستے، جبکہ بابا شریف ہمارے دادا جی کی طرح بہت پرہیزگار اور نمازی تھے، بابا شریف کا تو ان کے انتقال کے بعد مزار بھی بنا دیا گیا جہاں اب ہر سال عرس ہوتا ہے، پیر غازی کے مزار کے عین سامنے۔۔۔ اچھرہ میں شفٹ ہوجانے کے بعد بھی بابا جی مزنگ والے ڈیرے پر روزانہ کی بجائے گاہے بگاہے جانے لگے،مگر میں سعدی پارک سے بہت اداس ہو گیا تھا،مجھے لگتا کہ اچھرے میں آ جانے کے بعد میرا کچھ کھو گیا ہے۔ جب بھی موقع ملتا میں اپنے پرانے محلے میں پہنچ جاتا، ایک ایک گھر میں جا کر سب کو سلام کرتا اور گھروں کی مائوں سے پیار لیتا، اسی عادت کی وجہ سے میرا مولوی صاحب کے گھر جانے کا سلسلہ بھی جاری رہا، حتی کہ انیس سو چھیاسٹھ میں اپنے باباجی کے انتقال کے بعد بھی ،،، ایک دن میں مزنگ بازار میں گھوم رہا تھا کہ کوئی چیز پسند آ گئی ، جو پانچ روپوں کی تھی اور پانچ روپے میری جیب میں نہ تھے، میں مولوی صاحب کے گھر چلا گیا، مولوی صاحب کی بیوی سے پیسے مانگے تو وہ بے چاری شرمندہ ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں ضروری نہیں تھا کہ

کسی مولوی صاحب کی بیگم کے بٹوے میں اتنے،، زیادہ،، پیسے ہوتے، ماں کو شرمندہ دیکھ کر پاس کھڑی بیٹی نے کہا کہ اس نے عیدی کے پیسے جمع کر رکھے ہیں جو پورے دس روپے ہیں ، ان میں سے پانچ روپے میں دے دیتی ہوں، وہ لڑکی کمرے میں گئی اور مجھے پانچ روپے لا کر دے دیے۔ کئی دن گزر گئے ، میں پانچ روپے واپس نہ کر سکا، کچھ اور دن گزرے تو شرمندہ رہنے لگا، کچھ اور دن گزر گئے تو پیسے ہونے کے باوجود نہ جا سکا، سوچتا رہا کہ پیسے لوٹانے میں دیر ہو گئی ہے، کہیں مولوی صاحب کی بیٹی اب جانے پرکہیں شرمسار ہی نہ کردے؟ وقت پر لگائے اڑتا رہا، بہت مہینے بیت گئے،ان پانچ روپوں کا بوجھ بڑھتا ہی رہا،اسی طرح کئی سال گزر گئے۔ کئی سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری زندگی میں کئی نشیب و فراز آتے رہے،کئی موڑ آتے رہے، کئی حادثے ہوتے رہے، مگر میں ان تمام حوادث کے باوجود آگے بڑھ رہا تھا ، مجھے اس منزل تک پہنچنا تھا جسے میں ٹارگٹ کر چکا تھا، پیدل بہت چلا ہوں لیکن کبھی بائیسکل نہیں خریدی،تین چار سال موٹر سائیکل چلائی پھر گاڑیوں پر آگیا،ان تمام مراحل میں مولوی صاحب کی بیٹی کے پانچ روپے کبھی نہ بھول سکا، کئی بار گاڑی مولوی صاحب کے گھر کے قریب میں سڑک پر کھڑی کی، اس سڑک پر جو ایم اے او کالج کی جانب جاتی ہے، گھنٹہ گھنٹہ، آدھا آدھا گھنٹہ وہاں کھڑا ہوتا رہا، سوچتا رہا، پتہ نہیں کیوں ہمت نہیں پڑتی تھی، ان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی،

پھر میری شادی ہو گئی، بچے ہوئے، بچے بڑے ہو گئے، وہ پانچ روپے میرے دماغ سے کبھی باہر نہ نکل سکے،اس کے بعد بھی میں درجنوں بار مولوی صاحب کے گھر کے قریب رکا، ارد گرد لوگوں سے مولوی کا حال احوال پوچھ لیتا، پھر کچھ عرصہ اور گزرا تو پتہ چلا کہ مولوی صاحب بیمار ہیں ، موقع مناسب تھا خیریت پوچھنے ان کے گھر جانے کا، مگر نہ جانے کیوں ہمت نہ پڑتی تھی ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا۔ بالآخروہ ایک دن آ ہی گیا ، سالہا سال کی گردش کے بعد، پوری ہمت باندھی اورمولوی صاحب کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا ہی دیا، اندر سے دو نوجوان نکلے،میں نے سوچا،،، یہ دونوں یقینا مولوی صاحب کے بیٹے ہونگے اب شادی شدہ اور بال بچوں والے بھی ہونگے، ان دونوں لڑکوں کے دروازے پر آنے کے بعد چھوٹے چھوٹے تین چار بچے بھی گھر سے نکل کر ان کے پیچھے آن کھڑے ہوئے تھے،، میرے استفسار پر ان لڑکوں نے بتایا کہ مولوی صاحب اندر ہی ہیں لیکن ان کی حالت نہیں کہ وہ کسی کو آسانی سے پہچان لیں،شاید وہ مجھے اپنے گھر کے اندر نہیں لے جانا چاہتے تھے۔ میرے بہت اصرار پر وہ اپنے والد کو سہارا دے کر دروازے تک لے آئے،میں نے اپنی شناخت کرانے کے لئے انہیں بہت حوالے دیے لیکن مولوی صاحب نے کسی طور بھی مجھے نہ پہچانا،ان کی یادداشت ہی باقی نہیں رہی تھی۔ میں نے جھجکتے جھجکتے ان نوجوانوں سے ان کی والدہ کے بارے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ کئی سال پہلے قصور میں ایک ٹریفک حادثہ میں جان بحق ہو چکی ہیں ،،، آپ کی بڑی بہن بھی ہوا کرتی تھیں، ،، میرے اس لرزتے سوال کا جواب ملا،،،،،وہ پچھلے پندرہ سال سے اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ امریکہ میں رہ رہی ہیں،،،،،،،۔۔اب اس واقعہ کو بھی بہت سال ہو گئے،لیکن آج بھی مجھے پانچ روپے کا وہ ادھار یاد ہے ، لیکن خلش نہیں۔ اب بھی سوچتا ہوں کہ مولوی صاحب کی اس نیک دل بیٹی سے ایک دن ضرور ملوں گا، اس کا ادھار بھی چکائوں گا اور ادھار کی واپسی میں تاخیر کی ساری کہانی بھی سنائوں گا اسے، میں اس زمانے کو واپس لائوں گا اور کچھ لمحے اس زمانے میں زندہ بھی رہوں گا، اس سے ملوں گا تو اس کی مرحومہ ماں کے بارے میں بھی ڈھیر ساری باتیں کروں گا۔

]]>
72702
ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا حکم سنانے والا جسٹس مولوی مشتاق ہرگز مولوی نہیں تھا ، اس نے ایک داشتہ رکھی ہوئی تھی اور ایک بار جب پکڑا گیا تو ۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے اپنی ڈائری کے اوراق قوم کے سامنے رکھ دیے http://www.azaad.pk/2019/05/01/72690/ Wed, 01 May 2019 05:52:55 +0000 http://www.azaad.pk/?p=72690 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) اصل جنگ ہو رہی ہو تو اول تو غسل خانے کی حاجت نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو غیر منصوبہ جاتی (Un-planned) ہوتی ہے۔ میری ہدائت ہے کہ مشقی ایریا میں غسل خانہ ساتھ لئے پھرنا ایک ایکسٹرا لوڈ ہے، اس سے گریز کیا جائے بس جہاں ضرورت پیش آئے،

پاک فوج کے اعلیٰ ریٹائرڈ افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اِدھر اُدھر دیکھئے،ذرا مجمع سے دور نکل جایئے اور کوئی موزوں جگہ تلاش کرکے فوراً اپنے آپ کو ہل ڈاؤن (Hull Down) پوزیشن میں لا کر معاملہ صاف کر دیجئے۔(ٹینک وار فیئر کی اصطلاح میں ہل ڈاؤن پوزیشن وہ ہے کہ جب ٹینک کی مین گن زمین کی طرف نیچے کی جاتی ہے)…… جنرل صاحب کی ہدایت میں ”گن“ سے کیا مراد تھی اور ہل ڈاؤن والا پوز کیا نقشہ سامنے لاتا ہے اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ 12نومبر 1978ء آج عیدالاضحی ہے۔ پاک پتن میں ہوں۔ دو دن کی چھٹی لی ہے۔ عیدگاہ میں نماز پڑھی اور قربانی دی۔ والدین کی خدمت میں سلام کے لئے حاضری دی اور شام تک وہیں رہے۔ واپس گھر آئے تو چار یار انتظار میں تھے۔ ہمیں سال میں دو دن ”جواء“ کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ایک دن عیدالفطر کا اور دوسرا عیدالاضحی کا…… پہلے ڈبل رمّی کا دور چلتا ہے اور آخر میں فلاش کی باری آتی ہے۔ میرا ٹریک ریکارڈ بڑا ”شاندار“ ہے۔ رمّی پر ایک آنہ فی پوائنٹ لگتا ہے اور دو گھنٹے میں میری جیب بھر جاتی ہے۔پھر محفل کچھ دیر کو برخاست ہوتی ہے۔ دوست احباب گھر جاتے ہیں اور ازسرِ نو جیب بھاری کرکے لاتے ہیں اور فلاش کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ شائد یہ بھی اتفاق ہے کہ آخر صبح کے تین بجے جب محفل برخاست ہوتی ہے تو میری جیب اور بھر جاتی ہے اور دوست احباب منہ بسور کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ محبوب اور فرید (برادرانِ نسبتی) بھی تہی دامن ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔

صبح ہوتی ہے تو اپنی بہن سے کہتے ہیں: ”بھائی جان نے رات ہمارے ساتھ بڑا ہاتھ کر دیا۔…… ساری عیدی ہتھیالی۔ باجی! کچھ کریں“……اس کے بعد میرا اور اہلیہ کا مکالمہ ہوتا ہے:”جیلانی صاحب! اس دفعہ پھر آپ نے میرے بھائیوں سے عیدی چھین لی ہے“۔”لاحول ولا قوہ…… اول تو میرے اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ ان کا نام کیوں نہیں لیتیں؟آپ کے بھائیوں کو کس نے کہا تھا کہ کھیلو اور ہارو“”چلو اگر بچوں نے غلطی کر ہی لی ہے تو آپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے۔ وَرے دن کا وَرے دن ہے اور آپ نے ان سے یہ سلوک کیا ہے؟…… واپس کریں ان کے پیسے!“”یہ بچے ہیں کیا؟…… میرے جتنے ہیں۔ کئی بار میری جیب بھی خالی ہوئی لیکن فلاش میں ہار جیت تو ہوتی ہے“”لیکن آپ تو ہر عید بقر عید پر ان کو خالی کر دیتے ہیں۔ جلدی کریں۔ میں نے ناشتہ ان کے سامنے رکھا تھا تو وہ کہتے ہیں کہ جب تک بھائی جیلانی ہمارے پیسے واپس نہیں کریں گے، ہم ناشتہ نہیں کریں گے۔“اس کے بعد مجھے ہتھیار ڈالنا پڑتے ہیں!13نومبر 1978ء آج شام پاک پتن سے لالہ موسیٰ پہنچا ہوں۔صبح دفتر حاضری ہے۔ بچے کچھ روز بعد آئیں گے۔ 14نومبر 1978ء صبح 7بجے لالہ موسیٰ سے کھاریاں کے لئے روانہ ہوا۔ رم جھم ہو رہی تھی۔ جونہی ریلوے کراسنگ پار کی، زور دار بارش شروع ہو گئی۔ یہ عجیب منظر ہے۔ لالہ موسیٰ میں بوندا باندی ہوتی ہے لیکن کھاریاں جاتے ہوئے جونہی ریل کا پھاٹک آتا ہے موسلا دھار مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک دو گز کا فرق ہوتو ہو، زیادہ نہیں۔

یہ یہاں کا ایک عجیب موسمی Phenominonہے…… ذرا آگے بڑھے تو دو سٹاروں والی ٹیوٹا جیب پر نظر پڑی جو GT روڈ کے شولڈز پر کھڑی تھی۔ اس کا ہُڈ (Hood) اترا ہوا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جنرل شاہ رفیع عالم GOC 6آرمرڈ ڈویژن اپنی جیپ کا ایک پنکچر شدہ ٹائر بدل رہے ہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ عید کے دن تھے اور سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں نے جیپ روک لی اور جنرل صاحب کو سلیوٹ کرنے کے بعد کہا: Sir` Kindly allow me to help.……جنرل صاحب نے جواب دیا: No, No, Jilani carry on. میں یہ سن کر کچھ دیر کو رکا تو جنرل صاحب نے دوبارہ ہاتھ کا اشارہ کیا کہ جاؤ، میرے لئے مت رکو۔ دفتر میں آیا تو MTجے سی او کو بلایا اور پوچھا: ”صوبیدار صاحب! کیا GOC کی جیب میں جیک وغیرہ نہیں رکھا ہوتا…… وہ GT روڈ پر جیپ کو خود اٹھا کر ٹائر تبدیل کرا رہے تھے؟“ ”جیک تو تھا۔ شائد جام ہو گیا ہو گا!“صوبیدار صاحب نے جواب دیا۔ 30اپریل 1980ء آج بریگیڈیئر (جیم) کے پاس بیٹھا تھا کہ گفتگو کا رخ سیاست کی طرف مڑ گیا۔ وہ اپنی بِپتا بیان کر رہے تھے کہ: ”مارشل لائی دور میں بعض دفعہ ذہنی کوفت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ میں خود فلاں علاقے کا سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (SMLA) ہوں لیکن بعض احکامات نہ چاہتے ہوئے بھی ماننے پڑتے ہیں“۔میرے ساتھ بریگیڈیئر صاحب کی گپ شپ کافی فری ہوتی ہے۔ وہ میری اس عادت کو پسند کرتے ہیں کہ میں اول تو ان معاملات میں زبان بند رکھتا ہوں

اور کچھ کہتا بھی ہوں تو تجزیہ بڑا متوازن رکھتا ہوں …… اس کے بعد اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر مولوی مشتاق کے کردار پر بحث ہونے لگی۔ بریگیڈیئر صاحب نے بتایا کہ مولوی مشتاق ”برعکس نہند نامِ زنگی کافور“ کے مصداق ہرگز مولوی نہیں۔ زیڈ اے بھٹو کے دور میں انہوں نے ایک Keep رکھی ہوئی تھی۔ جنرل گل حسن کی طرح نامِ خدا کنوارے تھے اور جب ZAB کیس میں ان پر یہ الزام لگا کہ وہ تو خود ایک عدد Keep کے Keeper ہیں تو انہوں نے جھٹ ایک عدد نکاح نامہ بطور شہادت پیش کر دیا کہ موصوفہ میری باقاعدہ منکوحہ اہلیہ ہے۔ واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند ۔۔ آنکہ در خلوت روند، آں کارِ دیگر می کنند ۔۔ پھر ذکر مولانا مفتی محمود تک آ گیا۔ کہنے لگے مولوی مشتاق صاحب کا گھر جو لاہور میں زیرِ تعمیر ہے وہ قابلِ دید بھی۔ اور ایک جج کی جو مالی حیثیت ہوتی ہے اس کے حساب سے تو وہ ساری عمر کی کمائی میں کوئی کوارٹر بھی نہیں بنا سکتا۔ پھر چودھری ظہور الٰہی اور مولوی مشتاق کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے کا قصہ چھڑا اور ناقابلِ یقین راز ہائے سربستہ بے نقاب ہوئے۔ مجید فاروقی کے ہاتھوں چودھری ظہور کی شکست ایک تاریخی واقعہ تھا۔ لیکن رِٹ ہوئی تو تاحال تاریخ نہیں نکلی۔ اس طرح گورنر پنجاب صادق قریشی اور جنرل گل حسن کا یارانہ مشہور تھا۔ صادق قریشی پر کوئی مقدمہ بنا تو اس نے گل حسن کو اپروچ کیا۔ گل نے مولوی مشتاق کو فون کیا: ”اوے مولوی! صادق قریشی کا بال بھی بیکا نہیں ہونا چاہیے“…… اور اب تک وہ لوگ محفوظ و مامون ہیں۔ اس طرح جج صاحبان کی تقرریوں کا ذکر وغیرہ ہوتا رہا کہ وہ کس طرح ریگولیٹ کی جاتی ہیں اور میں سوچتا رہا: رموزِ مملکتِ خویش خسرواں د انند۔

]]>
72690