دلچسپ و عجیب – Azaad.pk http://www.azaad.pk Pakistan's Emerging Urdu Blog Wed, 10 Jul 2019 14:48:29 +0000 en hourly 1 https://wordpress.org/?v=4.9.7 123420660 اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے سے کو نسی خطر ناک بیماری شروع ہو جا تی ہے ؟ http://www.azaad.pk/2019/05/25/82414/ Fri, 24 May 2019 19:49:34 +0000 http://www.azaad.pk/?p=82414 مزید پڑھیں]]> آپ بھی زندگی میں کبھی نہ کبھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوں گے اور کبھی بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ اس طرح بیٹھنے سے صحت پر کیا اثر ہوتا ہوگا۔لیکن اب ایک جرمن ماہر ہڈی رینہارڈشنیڈیران نے خبردار کیا ہے کہ اگر صرف 30منٹ تک ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا

جائے تو اس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی ،گردن اور کمر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتاہے اور ان میں درد رہنے لگتا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ انسانی جسم اس طرح کی پوزیشن کے لئے نہیں بنا لیکن ہم بے دھیانی میں اس طرح بیٹھنے لگتے ہیں جس کا نقصان کمر اور گردن کے درد کی صورت میں سامنے آنے لگتا ہے۔ڈاکٹر رینہا کا کہنا ہے کہ چونکہ لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوپاتا کہ اس طرح بیٹھنے کی وجہ سے یہ نقصان ہورہا ہے اور وہ بے دھیانی میں ایسا کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایک اور ماہر ہڈی ویون ایسین سٹاڈ کا کہنا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے ہمارے چوکلوں اس طرح کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جس سے ہماری کمر کے مہروں کو نقصان پہنچتا ہے اور کمر میں پریشر کی وجہ سے اس کا اثر گردن پر جاتا ہے جس میں درد رہنے لگتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ دیر آپ اس پوزیشن میں بیٹھیں گے اتنا ہی زیادہ نقصان آپ کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی کو ہوگا۔اس کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ اس طرح بیٹھنے سے مکمل نہیں تو زیادہ سے زیادہ پرہیز کیا جائے اور ٹانگیں سیدھی کرکے بیٹھا جائے۔

]]>
82414
عراقی موچی کی حضرت حسنؓ سے محبت پر ایک شاندار رواداد http://www.azaad.pk/2019/05/17/79394/ Fri, 17 May 2019 11:05:30 +0000 http://www.azaad.pk/?p=79394 مزید پڑھیں]]> آقا و مولا حضرت سیدنا امام حسن المجتبی علیہ السلام خلافت کے زمانے میں جب امام حسن علیہ السلام نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی صلح کروائی تو ایران کے بادشاہوں اور وزیروں نے حضرت امام حسن علیہ السلام کو دعوت پر بلایا ۔ آپ علیہ السلام نے ان کی دعوت قبول کرلی ۔

لہٰذا ایران میں اعلان کردیا گیا نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں ۔ ایران میں حضرت مولا علی مشکلکشاہ علیہ السلام کے عاشق بھی بہت زیادہ تھے جب انہوں نے سنا کہ ہمارے مولا کا بیٹا فرزند امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں تو وہ سب دوڑے کوئی کہتا میں یہ تحفہ پیش کروگا کوئی کہتا میں سب سے زیادہ قیمتی تحائف پیش کروگا ۔ان سب میں ایک موچی تھا بہت ہی زیادہ غریب تھا موچی آسمان کی طرف دیکھ کر رونے لگا ۔ لوگوں نے پوچھا ارے بھائی سب خوشی منارہے ہیں تم کیوں رورہے ہو ۔ موچی کہنے لگا میں بہت زیادہ غریب ہوں یہ سب امیر ہیں میرے پاس کچھ نہیں جو میں اپنے مولا علی علیہ السلام کے فرزند کو تحفہ پیش کرسکو ۔ موچی سارا دن روتا رہا ادھر سب لوگ جشنِ آمد حسن علیہ السلام منارہے ہیں ۔ جب امام حسن علیہ السلام تشریف لے آئے ۔تو سارے لوگ وہاں چلے گئے جہاں پر آپ علیہ السلام تشریف فرما تھے ۔ موچی شرمندگی کی وجہ سے روتے ہوئے کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی اس طرف دیکھتا جہاں امام علیہ السلام تشریف فرما تھے بغیر دیکھے امام علیہ السلام کو گھر آگیا ۔ زور زور سے رونے لگا ۔اس کی بیوی نے پوچھا کیا ہوا ۔جب موچی نے ساری بات بتائی تو وہ پہلے بہت خوش ہوئی کہ میرے مولا علی کا فرزند آیا ہے اور پھر وہ بھی رونے لگ گئی ۔ لہٰذا بیوی نے اپنے خاوند سے کہا تم ایک موچی ہو ۔

تم امام حسن علیہ السلام کےلیے ایک نعلین مبارک بناو اور وہ تحفہ پیش کرنا ۔ لہذا موچی اسی وقت نعلین مبارک بنانے لگ گیا ساری رات لگا کر نعلین مبارک بنالی ۔صبح سویرے جب نعلین مبارک بناکر آپ علیہ السلام کو تحفہ دینے کےلیے نکلا تو بیوی نے پیچھے سے آواز دی رکو ۔ موچی رک گیا ۔ بیوی نے موچی سے حضرت امام حسن علیہ السلام کو جو نعلین مبارک تحفے میں دینے تھے موچی سے لےکر پہلے ان کو چوما اور پھر رونے لگی اور نعلین مبارک پکڑ کر مدینہ کی طرف منہ کرکے کہنے لگی یا سین زھرا سلام اللہ علیہا ہم بہت غریب ہیں ہمارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں یہ کہہ کر بیوی نے موچی سے کہا ان نعلین مبارک کو ایسے عام پکڑ کے نا لے جانا ۔ موچی کی بیوی نے اپنا ڈوبٹاں اتارا اور نعلین مبارک اس میں لپیٹ کر کہنے لگی موچی سے ان نعلین مبارک کو اپنے سینے سے لگا کر لے جاو.موچی نے نعلین مبارک اٹھا کر سینے سے لگائے ہوئے مجمع میں پہنچ گیا ۔ سب لوگ امام حسن علیہ السلام کو دیکھ رہے تھےایران کے بادشاہ نے 5 ہزار سکے آپ علیہ السلام کو تحفہ میں دیئے ۔ آپ علیہ السلام کے سامنے بیشمار تحفہ پڑے تھے ۔ موچی بھی اس مجمع میں شام ہوکر تحفے دینے کےلیے بڑھا مگر لوگوں نے موچی کی غریبی والی حالت دیکھ کر پیچھے جہاں جوتے پڑے تھے دھیکیل دیا ۔ موچی وہاں بیٹھ گیا جہاں جوتے پڑے تھے آگے مجمع میں امیر ترین لوگ تھے ۔

موچی نعلین مبارک کو چومنے لگا کبھی رو کر آسمان کی طرف دیکھتا تو کبھی امام علیہ السلام کے چہرے انور کؤ دیکھتا ۔ ادھر غم زدوں کے حال جاننے والوں کو خبر ہوگئی ۔امام حسن علیہ السلام نے اچانک مجمع میں دیکھنے لگ گئے ۔ آپ نے اٹھ کر فرمایا اے فلاں شخص ادھر آو ۔ موچی نے سنا دوڑتا ہوا امام حسن علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑا عرض کرنے لگا حضور میں بہت غریب ہوں یہ سب امیر لوگ ہیں میرے پاس اس نعلین مبارک کے سوا آپ کےلیے کچھ نہیں امام حسن علیہ السلام رونے لگے اور فرمایا ہمارے آل بیت المقدس میں سیرت نہیں بلکہ نیت دیکھی جاتی ہے موچی نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی نعلین مبارک سے اس کی بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے موچی رو کر عرض کرنے لگا اے نواسہ رسول ﷺ میری بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے اور آپ نے جو پہن رکھی ہے وہ بہت بڑی ہے اگر آپ میری نعلین مبارک استعمال کرے گئے تو آپ کے پاوں پر زخم ہوجائے گئے ۔امام حسن علیہ السلام نے فرمایا تمہارا دل دیکھوں یا اپنے زخم دیکھو ۔۔سبحان اللہ آپ علیہ السلام کی لجپالی پر میں صدقے جاؤں ۔جب موچی نعلین مبارک دے کر جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے آواز دے کر فرمایا رک جاو یہ پانچ ہزار سکے لے جاو ۔ موچی کہنے لگا حضور میری ساری زندگی کےلیے 2 سکے ہی کافی ہیں یہ تو پانچ ہزار ہیں لہذا امام کے دوبارہ کہنے پر موچی نے پانچ ہزار سکے اٹھائے اور خوشی سے چلنے لگا ۔ پھر امام حسن علیہ السلام نے فرمایا اے شخص رک جاو موچی پھر واپس پلٹا امام حسن علیہ السلام نے فرمایا وہ سکے مجھے بادشاہ نے تحفے میں دیئے تھے اور میں نے تجھے دے دیئے میں نے ابھی تک تمہیں کچھ نہیں دیا ۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا جاو تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں. موچی خوشی سے اور زیادہ جھومنے لگا سارا مجمع حیران ہوگیا ۔ موچی جب واپس جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے تیسری بار پھر فرمایا اے بزرگ روک جاؤ موچی واپس پلٹا تو امام حسن علیہ السلام نے فرمایا ہمارے اہلِ بیت کی چاہنے والی بیوی کو بھی بتا دینا وہ بھی جنتی ہے ۔۔ اب تو موچی کی خوشی کی انتہا نا رہی ۔پھر جب گھر کے لئے واپس چلنے لگا چوتھی بار پھر امام نے فرمایا ادھر آو اور سارے مجمع کے سامنے امام حسن علیہ السلام نے اپنے عاشق موچی کو سینے سے لگایا ۔ ادھر سارے مجمع والے جو پہلے اس موچی کو پیچھے دھکیل رہے تھے موچی اس قسمت پر عش عش کرنے لگے

]]>
79394
ایک شخص نے حضرت علی (ر ض) سے پوچھا کیسے معلوم ہو گا کہ ایک خواجہ سرا عورت ہے یا مرد؟ امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ نے کہا کہ اللہ نے اس کا جواب قرآن مجید میں ایسے دیا ہے http://www.azaad.pk/2019/05/17/79388/ Fri, 17 May 2019 11:03:32 +0000 http://www.azaad.pk/?p=79388 مزید پڑھیں]]> ایک شخص نے ایک خنثیٰ سے شادی کی اور مہر میں اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کو ایک لونڈی دی‘ وہ خنثیٰ اس قسم کا تھا کہ اس کا فرج‘ مردوں اور عورتوں دونوں قسم کا تھا‘ اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کے ساتھ جماع کیا تو اس سے ایک لڑکا

تولد ہوا اور جب اس خنثیٰ نے اپنی لونڈی کے ساتھ جماع کیا تو اس سے بھی ایک لڑکا پیدا ہوا‘ یہ بات مشہور ہوگئی اور معاملہ امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے خنثیٰ مشکل سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کا فرج عورتوں والا بھی ہے‘ کہ اس سے ماہواری بھی آتی ہے اور مردوں والا بھی ہے کہ اس سے خروج منی بھی ہوتا ہے. حضرت علی  نے اپنے دونوں غلاموں برقغلاموں برقدونوں غلاموں برق اور قنبر کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خنثیٰ مشکل کی دونوں طرف والی پسلیاں شمار کریں‘ اگر بائیں جانب کی ایک پسلی دائیں جانب کم ہو تو پھر اس خنثیٰ مشکل کو مرد سمجھا جائے گا‘ ورنہ عورت‘ وہ اسی طرح ثابت ہوا‘ تو حضرت علی  نے اس کے مرد ہونے کا فیصلہ صادر فرمایااور اس کے خاوند اور اس کے درمیان تفریق کردی‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اکیلا پیدا فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر احسان کا ارادہ فرمایا کہ اس کا جوڑ پیدا فرمائے تاکہ ان میں سے ہرایک اپنے جوڑے سے سکون حاصل کر ے‘ جب حضرت آدم علیہ السلام سو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں جانب سے اماں حضرت حوا کو پیدا فرمایا‘ جب بیدار ہوئے تو ان کی بائیں جانب ایک حسین وجمیل عورت بیٹھی ہوئی تھی. تو اس لئے مرد کی بائیں جانب کی پسلی عورت سے کم ہوتی ہے اور عورت کی دونوں جانب کی پسلیاں برابر ہوتی ہے‘ کل پسلیوں کی تعداد چوبیس ہے‘ بارہ دائیں جانب اور بارہ بائیں جانب ہوتی ہیں جبکہ مرد کی دائیں جانب بارہ اور بائیں جانب گیارہ ہوتی ہیں‘ تو مرد کی کل پسلیاں چوبیس کی بجائے تئیس ہوتی ہیں‘ اس حالت کے اعتبار سے عورت کو ”ضلع اعوج“ کہا جاتاہے‘ اور حدیث شریف میں تصریح ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘ اگر تو اس کو سیدھا کرنا چاہے تو یہ ٹوٹ جائے گی‘ اس لئے اس کو اپنی حالت پر چھوڑ کر اس سے نفع اٹھا.

]]>
79388
نومسلم دوشیزہ کی روح کو جھنجوڑ دینے والی داستان جس نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن ایک مولوی نے تباہ کردیا http://www.azaad.pk/2019/05/07/75660/ Tue, 07 May 2019 18:56:08 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75660 مزید پڑھیں]]> انسان جب خدا کی خدائی کا قائل ہوجاتا ہے تو پھر لاکھ مصائب والم آئیں وہ اپنے محبوب کی محبت میں گرفتار ہوکر سبھی مصائب کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے جھیل جاتا ہے کیوں کہ ان کا تعلق باالراست خدا سے ہوتا ہے دنیا کی مصیبتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں ان کے

پاؤں توحید پر جمے رہتے ہیں۔ صحابہؓ کی تاریخ سے لے کر آج تکلاکھوں واقعات بکھرے پڑے ہیں کہ ان کو دنیا کی ستم نے ان کے پاؤں میں ذرا بھی لغزش پیدا نہ ہونے دی اور وہ اپنے توحید پرڈٹے رہے ۔ عشق رسول اور عشق خدا سے سرشار ایک نومسلم دوشیزہ کی روح فرسا داستاں جو بھوپال شہر کے پنڈت اور متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والی گیتا شرما (بدلا ہوا نام) کا ہے ۔ راقم نے جب انسے سوال کیا کہ آپ کس طرح ایمان لائے اور کن کن مصائب سے دوچار ہوئیں تو انہوں نے جو انکشاف کیا وہ دل کو خون کے آنسو رلانے کے لیے کافی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ میرا نام گیتا شرما ہے(بدلا ہوا نام)میں ایک پنڈت گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میں نے BBAاور MBAسکنڈ سال کیا ہے میرے خاندان کے لوگ بہت ہی اچھے تھے، پاپا کا بزنس تھا وہ شراب کے ٹھیکہ چلاتے تھے، اور میں کوٹک مہندرا لائف انشورنش میں بطور ڈرائیور کام کرتی تھی۔ ہماری آفس میں کچھ دوست تھے جو مسلم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے تھے ۔ ہم لوگ پارٹی ڈسکو وغیرہ انجوائے کیاکرتے تھے کیوں کہ شہروں میں لڑکی اور لڑکے ایسے ہی رہتے ہیں اور میں ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی تو ہمارے یہاں یہ

بات معیوب بھی نہیں تھی ۔ 2013ء کی بات ہے جب اس سال رمضان آیا اور مجھے اس سے پہلے پتہ نہیں تھا کہ رمضان کیا ہوتا ہے۔میں نے رمضان المبارک میں ایک پارٹی رکھی اور اپنے دوستوں کو بھی بلایا جس میں سمرین، عائشہ، اور ذوالفقار ، عمران شعیب یہ تمام مسلمان دوست نہیں آئے۔ اور میں نے دیکھا کہ تمام لڑکیاں برقعے میں آنے لگی، اور لڑکے ٹوپی لگانے لگے تو میں نے کہاکہ تم لوگ پاگل ہوگئے ہو کیا؟ تو ان انہوں نے بتایاکہ یہ ہمارے اللہ کا سب سے پاک مہینہ ہے، اس میں ہم ہر وہ کام سے دوری اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کرنے کو منع فرمایا ہے۔ اب مجھے غصہ آگیا اور کہا تم کچھ کھاؤگے بھی نہیں اس مہینے میں ہمارے ساتھ تو میں کیا کھاؤں گی اکیلے ؟میں بھی روزہ رکھوں گی۔ میں نے بھی تین روزے سے روزہ رکھنا شروع کردیا اس وقت یہاں برسات ہورہی تھی ہم لوگ سب ساتھ میں روزہ رکھتے تھے صبح مجھے فون کرکے میرے مسلم دوست اٹھادیتے، صحری کراتے شام کو افطاری ۔ ہم کبھی ان کے گھر میں یا کبھی ہوٹل میں افطاری کرتے۔ میں اللہ اور اس کے نبیﷺ کی باتوں کو سنتی رہتی میں گاڑی بھی چلا رہی ہوتی تو کان میں اےئرفون لگا کر اسلامی بیانات سے اپنے دل کو منور کرتی رہتی۔اسی وقت سے

اللہ نے مجھے چن لیا میرے گھر والوں کو شک ہونے لگا کہ میں شلوار سوٹ اور نقاب باندھنے لگی ہوں، میرے فون کی رنگ ٹون بھی اللہ کے نام کی نظم ہوگئی تھی۔ ایک دن میری بہن اور اور بہنوئی آئے مجھے لے کر مندر گئے میں نے صاف منع کردیا اندر جانے سے اور پوجا کرنے سے وہ گھر آکر بہت ڈانٹے اور گھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا امی ابو کہنے لگے کہ یہ کوئی مسلمان لڑکے سے پیار تو نہیںکربیٹھی ۔۔۔میں اپنے گھر کی مصیبت بنتی جارہی تھی سب لوگ پریشان رہتے مسلمانوں کی غلط چیزوں کو دکھاتے، مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے آتنک وادیوں کی کلپ بتاتے پتہ نہیں اور کیا کیا مجھے دکھاتے تاکہ میں اسلام سے متنفر ہوجاؤں ۔ لیکن میرے دل میں تو خدا کی محبت رچ بس گئی تھی ایک دن مجھے قرآن پاک دیکھنے کی دل میں خواہش پیدا ہوئی میں پاس کی ایک مسجد میں گئی جہاں میں نے کلام پاک مانگا اور اسے بائیں طرف سے دیکھنے لگی انہوں نے کہاکہ یہ کیا کررہی ہو یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔اسی وقت میں نے اس دکاندار سے اپنے دل کی بات سچ سچ بتادی اس وقت انہوں نے مجھے ایک آپا جی کا نمبر دیا جو قرآن پڑھاتی تھی، پھر میں ان کے وہاں

گئی اور اس وقت میں اپنی کار سے گئی تھی ابو اور بھائی میرے پیچھے پیچھے تھے لیکن مجھے پتہ نہیں تھا ،میں کار سے اتر نے لگی تو میں نے کار کی کانچ میں دیکھا کہ پیچھے ابو ہیں تو میں نے باجی کو دور سے اشارہ کرکے روک دیا ۔پاپا مجھے وہیں مارنا شروع کردئے اور مجھے لے کر گھر آگئے۔ اسی دن میں نے یہ طے کرلیا کہ جب میں نے غلط کیا تو کسی نے نہیں روکا اور آج میں کچھ اچھا کرنے جارہی ہوں تو سب روک کیوں رہے ہیں؟ میں نے خدا سے اپنی محبت کا اعلان کر ہی دیا ۔ رمضان کے آخری روزے کے دن میں نے اسلام قبول کرلیا ۔ ابو نے میرا موبائل فون چھین لیا اور مجھے بہت کچھ کہا میں نے بھی کہہ دیا کہ میں اس اللہ سے اور اس کے نبیﷺ سے محبت کرتی ہوں آپ کو جو بھی کرنا ہے تم کرلو میں دین حنیف سے پھر نہیں سکتی پھر میں نے اللہ سے دعا کی اور روتے روتے میں چھت پر چلی گئی وہاں میں دیکھتی ہوںکہ آسمان میں کعبہ شریف میرے سامنے ہے ایسا منظر تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی وہ کیا منظر تھا اور ایسے کئی دیگر چمتکار ہونے لگے مثلاً میں جو نیت کروں اللہ اسے پوری کردیتے تو میں نے آخری بار اللہ سے دعا کی کہ اگر میں تجھے پا نہیں سکتی تو

تیرے پاس ہی آجاناچاہتی ہوں ۔ میں نے رات چار بجے کے قریب بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر ہارپک تیزاب پی لیا اور پھر کیا ہوا ایمبولینس آئی اور مجھے پاس کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا ابو نے ڈاکٹر کی باہر سے ٹیم بلوا لی کہ مجھے کسی بھی طرح کسی بھی حال میں بچا لیا جائےڈاکٹر نے بھی تھوڑا گھبرا رہے تھے میرا کیس لینے سے ۔ میرے گلے سے پیٹ تک پورا اندر سے جل گیا میرے آنت کی ایک پائپ خراب ہوگئی۔ 19دن تک آئی سی یو میں رہی اور پھر باہر آئی میں خدا کی قدرت سے بچ گئی تھی اس وقت بھی میں اپنے منہ سے صرف اللہ اللہ کہتی رہی اور ابو مجھے سمجھاتے رہے انہوں نے کئی تانترک کو لے آئے اور گھر میں پوجا کروائی میں ہاسپٹل میں آئی سی یو سے نکل کر پرائیوٹ روم میں آگئی تھی وہاں سے میں اپنے لیپ ٹاپ میں نیٹ سے سرچ کرتی رہی پھر مجھے میرے فیس بک دوست نے کھتولی کے عبدالقدیر بھائی کا نمبر دیا میں نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے کہاکہ مجھے آنا ہےپھر میں نے کہاکہ میں یہاں سے تین دن میں ڈسچارج ہوجاؤں گی انہوں نے میرے لیے اے سی ٹکٹ بک کروایا میں اپنے گھر میں بہت

برا محسوس کرتی تھی مجھے گھٹن سی محسوس ہوتی تھی پھر میں گھر سے مکمل طور پر ناطہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا اور وہاں سے بھاگ گئی اور میں نے بھوپال سے اے سی کوچ میں بیٹھ گئی، اور میں حضرت نظام الدین پہنچ گئی، وہاں مجھے شاہنواز اور قدیر بھائی لینے آئے وہ مجھے لے کر مظفر نگر کے پاس کھتولی گاؤں لے گئے وہاں آکر میں نے ان کے گھر والوں کو اپنے ساتھ پیش آئے واقعات سے بتائے اور بہت جلد جلد اسلام سیکھنے لگی میں نے قرآن پاک انگلش میں اور ہندی میں پڑھ لیا کافی عورتیں مجھے دین سکھاتی تھیںمیں دن بھر وہاں رہ کر کتابیں پڑھتی میں نے وہاں بہت ہی قلیل مدت میں بہت کچھ سیکھ گئی۔ پھر حضرت مولانا کلیم صاحب صدیقی کے بارے میں مجھے بتایاگیا میں نے کہاکہ یہ کون ہیں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں عبدالقادر بھائی نے کہاکہ ان سے ملنا آسان کام نہیں ہے میں نے کہاکہ ٹھیک ہے انشاء اللہ میں کہتی ہوں کہ میں ان کے پاس نہیں بلکہ وہ خود میرے پاس آئیں گے ۔ سبھی نے میرا مذاق اڑایا پر اللہ میرے دل کا حال جانتا تھا پھر عبدالقادر بھائی نے مجھے ایک کمرہ دیا میں وہاں دو مہینے رہی اور میں نے حضرت بلال کا قصہ سن رکھا تھاکہ ان سے کوئی شادی نہیں کرتا ہے تو اللہ کے محبوب

کہتے ہیں حضرت بلال جنتی ہے ۔ جب میرا رشتہ آیا تو میں نے نکاح کے لیے بنا دیکھے ہی ہاں کردی تھی اور کہا کہ قدیر بھائی آپ جو بھی کریں گے اچھا ہی کریں گے پھر حضرت مولانا کلیم صاحب صدیقی عبدالرحمن (دھان سنگھ ) کا رشتہ لے کر مجھ سے خود ملنے کھتولی آئے ۔اور میرانکاح جمعہ کے دن عصر کے وقت بتاریخ13.12.13کو ہوا۔ حضرت نے ہی نکاح پڑھایا، پھر مجھے رخصت کیاگیا ۔مجھے ماں باپ سے دور ہونے پر اتنے آنسو کبھی نہیں آئے جتنا آنسوقدیر بھائی اور بھابھی سے دور ہونے پر آرہے تھے۔ عبدالرحمن سے میرا نکاح ہوئے تین ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے دل میں پیسوں کی لالچ آئی انہیں یہ علم ہوگیا تھا کہ میں ایک مالدار اور صاحب ثروت گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں لہذا وہ مجھے ہراساں کرنے لگے اور میں انہیں لے کر اپنے آبائی وطن بھوپال آگئی وہاں میرے ابو نے مجھے قبول کرلیا اورا نہوں نے کہا جہاں تو خوش ہے ہم بھی وہاں خوش ہیں۔ میں نے دین کی دعوت اپنے گھر کے فرد کو دینی شروع کردیلیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ لیکن مجھ سے محبت کرتے تھے لہذا میرے ابو نے کہا کہ وہ مجھے ایک لاکھ روپئے اور کچھ زیورات اور گھر بسانے کے لیے پیسہ دیں گے، ہم بھوپال میں ہی تھے کہ عبدالرحمن نے میرے پاپا کے فون سے اپنے کسی دوست سے بات کی ابو کے فون پر کال ریکارڈ ہوگیا جس میں ان کا

دوست پوچھتا ہے کہ بھائی کیا کیا ملا؟ تو عبدالرحمن نے کہاکہ بھائی ابھی تو ایک سونے کی چین اور دس ہزار روپئے ہی ملے ہیں، واپسی کے وقت باقی روپیہ اور سامان بھی دیں گے پاپا نے یہ ریکارڈنگ سن لی اور ہمیں ابو نے کچھ نہیں دیا۔ہم اندور سے دہلی آنے لگے عبدالرحمن مجھے اپنی بہن کے گھر لے گیا اس کا رویہ ٹرین میں ہی بدل گیا تھا پر میں سمجھ نہیں پائی اور پھر نے ایک نیا ڈرامہ شروع کردیا۔ وہ بھی نو مسلم ہی تھا صرف حضرت کے پیسوں کے لیے ایمان لا ئے ہوئے ہے۔ یہ میری تقدیر تھی کہ عبدالرحمن نے مجھے کچھ وقت کھتولی میں رکھا اور میرے پاپا سے دو لاکھ روپیہ مانگنے لگا میں نے کہاکہ وہ حرام کی کمائی ہے میں نہیں لیناچاہتی اس نے کہاکہ ٹھیک ہے تو کچھ دن کے لیے اندور چلی جا میں جب تک کھتولی سے بلڈانہ سامان ٹرانسفر کر لوں گا جب تجھے بلالوں گا میں اندور پہنچی ہی تھی کہ انہوں نے فون پر مجھے الگ ہونے کی بات کردی ،میں بہت روئی پاگلوں کی طرح آناً فاناً دہلی پہنچ گئی جہاں ہمارا گھر تھا میں وہاں گئی تو مکان خالی تھا وہ وہاں سے غائب ہوچکا تھا میں پھلت حضرت کے پاس روتے ہوئے پہنچی تو حضرت نے اسے بلایا اس نے مجھ پر الزام لگایا کہ مجھے دین کی تعلیم

نہیں ہے میں اسے نہیں رکھوں گا جب تک یہ مدرسے میں پڑھ کر نہ آجائے پھر مجھے میرٹھ کے مدرسے بھیجاگیا میں وہاں دو مہینے رہی دل وجان سے پڑھائی کی پھر مجھے وہ لینے آئے مجھے اس نے کیرانہ کے اسلام نگر کی عائشہ مسجد کے پاس لے گیا وہ ایسی جگہ تھی جہاں 24گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے ہی لائٹ آتی تھی۔ بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا میں نے وہاں بھی گزارا کرلیا،اس نے پھر بھی مجھے پریشان کرنا نہیں چھوڑا مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا تھا میں بھی خوشی سے انہیں ایک ڈنڈا دیا اور جھاڑو کہ لو یہ مارو ۔۔۔مجھے اسلام لانے کی سزا دو ۔۔۔ اس نے مجھے بہت مارا اور طیش میں آکر مجھے طلاق دے دی، میں پاگل ہوگئی رو رو کر میرا برا حال ہوگیا تھا اس نے مجھے ایک ہی طلاق دی تھی پھر میں جے پور عبدالعزیز بھائی کے یہاں چلی گئی اور میں ان کے ساتھ حضرت سے ملی اور حضرت نے ہمارا نکاح دوبارہ کرادیا اور کورٹ سے پیپر بھی بنوا دیا پھر اس نے مجھے اندور بھجوادیا اور کہا کہ میں یہاں مکان دیکھ لوں جب تک تو وہیں رہنا میری ماں اور بہن تجھے لینے آئیں گےپھر وہ آئے اور مجھے ان کے آبائی گاؤں لے گئے اور میرے لیے ساری لائے اور ہندو طریقے سے لے گئے

۔عبدالرحمن نے مجھے کہاکہ جب تک گھر کا انتظام نہیں ہوتا تجھے میرے گھر ہی رہنا ہوگا وہاں مجھ سے ہر وہ اسلام مخالف امر کروا یا گیا جسے میں نہیں کرناچاہتی تھی لیکن بامر مجبوری تشدد کے ڈر سے مجھے کرنا پڑا۔ اس نے مجھے یہاں تک دھمکی دی کہ اگر تو کسی کو کچھ بتایاکہ پھلت، کھتولی جے پور میں رہ چکی ہوں تو مجھے مجبوراً طلاق دینا پڑے گا۔میں نے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔یہاں سے جاتے وقت اس نے میرے پاپا سے بہت ساری چیزوں کا مطالبہ کیا تھا س میں LEDٹی وی بھی تھی اور بھی بہت سارے ساز وسامان تھے جو پاپا نے اسے دئیے۔ وہ مجھے لے گئے سات دن بعد میرے پاپا کو ہارٹ اٹیک آیا ۔ ہارٹ اٹیک بھی میری ہی وجہ سے آیا تھا کیوں کہ پانچویں دن مجھے میری ساس اور میرے شوہرنے بہت مارا میں وہاں نہیں رہنا چاہتی تھی وہاں سب ہندو طریقے سے رہ رہے تھے نہ نماز پڑھتے تھے اور نہ ہی کوئی اسلامی کام ہوتا تھا مجھے وہاں وہ لوگ ہندو بناکر رکھے ہوئے تھے اس لیے اس کی ماں اور اس کے بہن نے میرے پاپا کو فون کرکے کہا کہ میں اب بھی ان لوگوں سے بات کرتی ہوںجن کو ہم چھوڑکے آئے ہوئے ہیں اس بات پہ میں نے اپنے ابو کو فون کیا کی پا پا

یہ لوگ مجھے مارتے ہیں اتنی ٹھنڈ میں بیسو کے ڈنڈے سے اتنا مارتے ہیں کہ میں بیہوش ہوجاتی ہوں مجھے بچانے والا کوئی نہیں رہتا۔ کیو ں کہ پاپا مجھ سے بہت ہی محبت کرتے تھے انہوں نے یہ سب سنا تو انہیں ہارٹ اٹیک آگیا، اور ان کے بچنے کا 50فیصد ہی چانس تھا میں نے اپنے ابو کے یہاں آنے کے لیے تیار ہوگئی کیوں کہ لوگ طعنہ دیتے کہ لینے کے وقت آگئی تھی لیکن جب باپ مرنے لگا تو نہیں آئی ۔ لیکن ان ظالموں نے مجھے جانے نہیں دیادو دن ہوگئے تھے پاپا کو بیمار ہوئے مجھے بہت مارتے تھے ۔ میں نے ان لوگوں سے کہاکہ ویسے بھی یہاں نہ میری نماز ہوتی ہے اور نہ ہی میں قرآن پڑھ پاتی ہوں مجھے جانے دو اس وقت اس نے مجھے منہ سے تین طلاق دے دی۔ اورمیں گھر آنے کے لیے تیار ہوگئی ابو کا بائی پاس سرجری ہونا تھا میں اسٹیشن کے لیے نکل چکی تھی ٹرین ٹھنڈ کی وجہ سے 15گھنٹے لیٹ تھی ۔عبدالرحمن طلاق دینے کے بعد مجھے چھوڑنے آئے ہم نظام الدین اسٹیشن کے قریب ایک ہوٹل میں تھے وہ عبدالرحمن وہاں بہت رویا اور پچھتاتے ہوئے کہا کہ میں نے تجھے دل سے طلاق نہیں دیا ہےتو اب بھی میرے ساتھ رہ لے میں نے انکار کردیا کیوں کہ ہمارا کورٹ سے طلاق نامہ بن چکا تھا ابرار بھائی کی موجودگی میں پھر

عبدالرحمن کہنے لگا کہ میں کیا کروں گا حضرت نے پیسے واپس مانگے ہیں، میں کہاں سے دوں گا ۔اس نے کہا کہ تو مجھے یہ پیسے دے دے میں تجھے فروری2015 کو میں آکے دے دوں گا میں نے اسے چالیس ہزار روپئے دے دئیے اور وہ چلا گیا اور ایسا غائب ہوا ہے کہ اب تک اس کا کوئی پتہ نہیں نہ ہی اس کا فون لگ رہا ہے اور نہ ہی کوئی خبر؟ اب مجھے معلوم پڑا ہے کہ حضرت نے اسے کرناٹک جماعت میں بھیج دیا ہے؟عبدالرحمن جو کہ نومسلم ہے جس سے میری شادی حضرت نے کرائی تھی وہ حضرت کو دھوکہ میں رکھے ہوا ہے حضرت کے سامنے اس کے ماں باپ پیسوں کے لالچ میں اسلام کا ناٹک کرتے ہیں اور اپنے آبائی وطن میں ہندو ہی رہتے ہیں۔ بقول گیتا شرما (بدلا ہوا نام ) اس لڑکے کا پورا خاندان ہندو ہے اور ہندو کے بیچ میں ہی وہ لوگ رہ رہے ہیں، حضرت نے اسے دو لاکھ روپئے دےئے تھے دکان کرنے کے لیے جسے اس نے اس رقم کو پراپٹی کے کام میں لگا دیا ہے اور ایک بھینس جو75ہزار میں لیا اسے اپنے بھائی کو دے دی، جس کا نام شیر سنگھ ہے، اس کے والدکا نام رام مہر سنگھ آزاد نگر اعلام گاؤں تھانہ کڈالہ ہے،اس نے حضرت کے دئیے ہوئے پیسوں سے گھر میں بھینس رکھی اور اس کے گھر میں

شمرسیول کروایا، جب کہ وہ ہندو خاندان کا بھلا کررہا ہے میرا تمام سازو سامان اور حضرت نے 25ہزار روپئے دئیے تھے سبھی کو اس نے رکھ لیا مجھے کچھ نہیں دیا گیا، کیا میرا کوئی حق نہیں ہے اور میرے گھر سے جو جو لے کر آئے وہ بھی نہیں دیا، بھائی (راقم ) اس کے خاندان میں یہ 7لوگ ہیں عبدالرحمن عرف دھان سنگھ پوار (جو میرا شوہر تھا) ولد رام مہر سنگھ ہے ماں کا نام ویرامتی پوار ہے،بھائی شیر سنگھ بہن کومنت ہے اور ان کے باپ کا مرڈر ہوچکا ہے جو کہ ان کے چچا نے کرایا تھا، ان کے پتا جی نے ایک ڈکیت کا ساتھ دیا تھا جوکئی معصوم لوگوں کا مرڈر کیے ہوا تھا، اس کے سب سے بڑے بھائی جس کا نام گلو تھا اس کا مرڈر ہوچکا ہے، اس کے بہنوئی کا اس کی چھوٹی بہن سے افےئر چل رہا تھا، انہوں نے اپنی سالی کو پانے کے لیے اپنی بیوی کو مار دیا اور اس عبدالرحمن سے چھوٹی بہن جو کہ آٹھ نو سال کی تھی اس کو اس کے بھائی نے ڈنڈے سے اتنا مارا کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا جس سے اس کی موت واقع ہوگی۔ اس لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ پورا خاندان کرائم مائنڈ ہے اور حضرت ایسے لوگوں کی ان جانے میں سرپرستی کررہے ہیںاگر حضرت اپنے گھر میں کسی کو رکھتے ہیں تو

اس کا سب کچھ وہ جا ن لیں کہ وہ کون ہے کہاں سے آیا ہے کیا کرتا ہے ۔ عبدالرحمن عرف دھان سنگھ شاطرانہ ذہن کا مالک ہے کہ وہ آگے کسی دوسری لڑکی کو بھی ڈھونڈے گا اور اس کا استحصال کرے گا اس نے تو مجھے یہاں تک کہا تھا کہ حضرت نے تجھے مجھ سے بیچ دیا ہے۔ میں نے آج تک وہ بات حضرت کو نہیں بتائی۔وہ ایسا انسان ہے جو کمانا نہیں چاہتا اور کبھی کما بھی نہیں سکتا وہ مجھے کہتا تھا کہ میں تیرے جیسی کے لیے میں مزدوری کروں گا ۔ اسے مدرسے کی روٹی چاہیے بس بیٹھے بیٹھے، ورنہ دو لاکھ 25ہزار میں کوئی بھی دکان لے کر اپنا گزارا کرلیتا اور میں بھی اس کے ساتھ بدتر سے بدتر دن گزارے ہیں، وہ کہتا تھا کہ کوئی مسلم لڑکی سے شادی کرتا تو میرے ساتھ اس کا گھر پریوار ہوتا، چلو میرا تو اس وقت تین مہینے کا ایمان تھا وہ تو سات سال سے مسلم مسلم ہونے کا ناٹک کررہا ہے اور حضرت ابو جی کو دھوکے میں رکھے ہوا ہے ۔آخری بات: جب راقم نے اس لڑکی سے کہا کہ آپ حضرت سے پوری بات بتائیں کہ کیوں کہ حضرت بڑے طور پر یہ کام انجام دیتے ہیں کئی شادیاں کراتے ہیں انہیں سبھی کا علم نہیں ہوسکتا کہ کون کہاں ہے جب ان کے پاس آپ جائیں گی جبھی آپ کی تکلیف کا اندازہ ہوگا اور آپ کی پریشانی کا علم ہوگا۔ انہوں نے صاف منع کردیا اور کہا کہ میں حضرت ابو جی کو سبھی معلوم ہے کہ میرا طلاق ہوگیا ہےلیکن حضرت ان جانے میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں ابو جی کو عبدالرحمن کے بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں ہے ابو جی کو چاہیےے کہ وہ اس کی خبر لیں اور ایسے آدمی سے ہوشیار رہیں جو آپ کے مشن کو بدنام کرنے کے لیے تلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حضرت بروقت اس پر کارروائی کرتے تو میں آ ج یہاں کافروں والے ماحول میں نہیں رہتی لیکن میرا کسی نے ساتھ نہیں دیا مجھے بے یارو مددگار چھوڑ دیاگیاآ ج میں ایک ہندو گھر میں رہ رہی ہوں جہاں میں نہ نماز پڑھ پارہی ہوں اور نہ ہی کچھ اسلامی کام ۔ اگر حضرت مجھے کسی مدرسے میں ڈال دیتے تو میں اپنی پوری زندگی وہیں گزار دیتی ۔ کاش کوئی مسیحا مجھے اس ذلت بھری زندگی سے بچالے۔

]]>
75660
ایک بد کار عوت سے کسی سادہ لوح شخص کا نکاح ہو گیا http://www.azaad.pk/2019/05/07/75645/ Tue, 07 May 2019 18:52:15 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75645 مزید پڑھیں]]> ایک بد کار عوت سے کسی سادہ لوح شخص کا نکاح ہو گیا۔ وہ عورت چھ ماہ سے پہلے ہی امید سے تھی۔ چنانچہ نکاح کے بعد تین مہینے گزرئے تو بچہ پیدا ہو گیا۔ سادہ لوح شہری بڑا خوش ہو کر اللہ نے بڑی اچھی بیوی دی جس کے باعث مجھ پر اللہ

نے بڑی جلدی کرم فرما دیا اور مجھے فٹا فٹ باپ بنا دیا۔ بازار میں نکلا تو لوگ مذاق کرنے لگے وہ بہت گھبرایا کہ لوگ مباک بارد کی جگہ مذاق کرنے لگے ہیں۔ وہ لوگوں سے پوچھنے لگا کہ تمہارےمذا ق کی کیا وجہ کیا ہے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی ! بچہ تو خالص حرامی ہے تم خواہ مخواہ اس کے ابا بن رہے ہو۔ اس نے پوچھا کہ بچہ حرامی کیسے ہو گیا ؟ لوگوں نے بتایا اس لئے کہ وہ تین مہینے کے بعد ہی پیدا ہو گیا ہے۔ اگر تمہارا ہوتا تو پورے نو ماہ کے بعد ہوتا۔ وہ سادہ لوح لوگوں کی یہ بات سن کر غصہ میں گھر آیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ تم نے یہ کیا غضب کیا کچھ ماہ پہلے ہی بچہ جن دیا۔بچہ تو پورے نو ماہ کے بعد پیوتا ہوتا ہے لوگوں میں تم نے میری ناک کاٹ ڈالی۔ چالاک عورت بولی۔ آپ بھی بڑے بھولے ہیں خواہ مخواہ لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہیں میں نے پورے نو ماہ کے بعد ہی بچہ جنا ہے۔ یقین نہ آئے تو حساب کر لیں بتائیے آپ کو مجھ سے نکاح کئے ہوئے کتنا عرصہ گزرا؟ اس نے کہا تین ماہ بولی ! اور مجھے آپ سے نکاح کئے ہوئے کتنا عرصہ گزرا؟ وہ شخص بولا تین ماہ بولی اور بچہ کتنے ماہ کے بعد پیدا ہوا۔ بولا تین ماہ کے بعد کہنے لگی : تو تین ماہ آپ کے تین میرے اور تین بچے کے پورے نو ماہ ہو گئے پھر اعتراض کیسا ؟ سادہ لوح شوہر مطمئن ہو گیا اور کہنے لگا بالکل ٹھیک ہے لوگوں کا کیا ہے ؟ وہ جل کر ایسا کہہ رہے ہیں۔

]]>
75645
میرا بیٹا پیدا ہوا تو اس کے کان نہیں تھے کیونکہ میرے خاوند کے اندر یہ عادت تھی۔۔ پاوںکے تلے سے زمین سے نکال دینےوالا واقعہ http://www.azaad.pk/2019/05/07/75639/ Tue, 07 May 2019 18:50:57 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75639 مزید پڑھیں]]> ایک عورت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، وہ اور اس کا خاوند بہت خوش تھے. انہوں نے اپنے بچے کو پہلی بار دیکھا، وہ بہت خوبصورت تھا لیکن اس کے کان نہیں تھے.انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے کان اندر سے بالکل ٹھیک تھے اوروہ کسی بھی طرح سے

معزور نہیں تھا لیکن اس کے باہر نظر آنے والے کان نہیں تھے اور اس کے لیے ڈاکٹراس وقت کچھ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ ایک بہت چھوٹا سا بچہ تھا. اس کی ماں اسی وقت سمجھ گئی کہ اس بچے کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا اور ایک نارمل زندگی گزارنا بالکل نا ممکن تھا. جب وہ بچہ سکول جانا شروع ہوا تو وہ پڑھائی میں باقی سب سے بہتر تھا لیکن حسد کی وجہ سے باقی لڑکے اس باقی لڑکے اس کے کان کا مزاق اڑاتے تھے.وہ جب بھی سکول سے واپس آتا اس کاچہرہ لٹکا ہوا ہوتا تھا. اس کی ماں بہت پریشان رہتی تھی. وہ لڑکا آہستہ آہستہ پڑھائی میں بھی کمزور ہوتا جا رہا تھا کیونکہ وہ باقیوں کی باتوں کو دل پر لیتا تھا. پھر وہ کالج کا طالب علم ہو گیا اور پھر یونیورسٹی جانے لگا لیکن وہ جدھر بھی جاتا لوگ اس کا مزاق اڑاتے تھے. ایک دن اس کا باپ جا کر ڈاکٹر سے ملا اور بتایا کہ ان کا بیٹا احساس کمتری کا شکار ہو گیا ہے،کچھ ایسا نہیں ہے کہ اس کے کان ٹھیک کیے جا سکتے ہوں؟ ڈاکٹر نے بولا کہ ہو تو سکتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی ڈونر چاہیے ہو گا. لڑکے کا باپ دو سال ادھر ادھر مارکٹنگ کرتا رہا اور لوگوں سے پوچھتا رہا آخر ایک دن وہ اپنے بیٹے کے پاس گیا اور اس کو

بولا کہ چلو ہسپتال چلیں آپ کے لیے ڈونر مل گیا ہے،اس کا بیٹا بہت خوش ہوا کہ پوچھا کہ کون اتنا عظیم انسان ہے؟ باپ نے بولا کہ اس نے مجھے بتانے سے منع کیا ہے، بس سمجھو کہ یہ ایک راز ہے. آہستہ آہستہ اس کی پڑھائی پہلے کی طرح بہت بہتر ہو گئی اور وہ ٹاپ کرنے لگ گیا. اس نےاس کا آپریشن کامیاب رہا اور وہ دیکھنے میں بالکل نارمل بلکہ بہت وجیہہ نظر آنے لگ گیا. بہت اچھے زندگی کا آغاز کر لیا. پھر اس کی شادی ہو گئی اور اس کے بچے بھی ہو گئے، کبھی کبھی وہ اپنے ماں باپ سے پوچھتا کہ وہ کون ہے جو اس کا محسن ہے جس نے اسے نارمل زندگی گزارنے کے قابل بنایا ہے.وہ ٹال دیتے کہ جب وقت آئے گا تو بتا دیں گے، ابھی اس کو راز ہی رہنے دو. جس دن اس لڑکے کا ماں کی وفات ہوئی وہ اس کے لیے پہلے ہی بہت بھاری دن تھا، اس کے باپ نے تابوت کے پاس اسے بلایا اور اس کی ماں کے بال ایک طرف کر کے اس کو دکھایا تو اس کی ماں کے کان نہیں تھے. اس نے اپنے بیٹے کو بتا دیا تھا کہ اس کی سب سے بڑی محسن کونسی عظیم ہستی تھی. وہ لڑکا بہت رویا اور اس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ کبھی کسی نے ماں کو تو عجیب نظروں سے نہیں دیکھا تھا کہ ان کے کان نہیں تھے، باپ نے بولا کہ جن کا دل اتنا صاف اور خوبصورت ہو ان کی شکل اور ظاہری حلیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، لڑکا اب سمجھا تھا کہ اس کی ماں اتنے عرصے سے بال ہمیشہ کھلے کیوں چھوڑتی تھی.

]]>
75639
میں باپردہ اور پنج گانہ نمازی ہوں ، میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے ، کیا ایسے انسان سے شادی کرلوں یا دیندار کا انتظار کروں؟اپنے مطابق کے رشتے ڈھونڈتی ہماری بیٹیوں پر مبنی ایمان افروز تحریر http://www.azaad.pk/2019/05/07/75634/ Tue, 07 May 2019 18:49:37 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75634 مزید پڑھیں]]> آج کل ہمارے معاشرے میں دیندار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی بچیوں کے مناسب رشتوں کیلئے نہایت پریشان نظر آتے ہیں ۔ دیندار گھرانوں کی بچیاں مناسب اور دیندار رشتے کے انتظار میں عمریں گنوا رہی ہیں ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ نجی ٹی وی پروگرام میں بھی سامنے آیا

جب ایک دیندار خاتون نے پروگرام کے میزبان کوایک سوال بھیجا جس میں اسخاتون نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ میری عمر 30سال ہے، میں ایک باپردہ خاتون ہوں اور دین پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں، میں دیندار آدمی سے شادیکرنا چاہتی ہوں مگر میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے، کیا میں نماز نہ پڑھنے والے شخص سے شادی کر لوں یا کسی دیندار آدمی کے رشتے کا انتظار کروں۔ خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پروگرام کے مہمان ایک مذہبی سکالر کا کہنا تھا کہ شادی کے حوالے سے چند اصولی چیزوں کو دیکھا جاتا ہے، جب بھی رشتہ آتا ہے تو اس میں دو تین چیزوں کو دیکھنا چاہئے، ایک چیز تو یہ دیکھنی چاہئے کہاس شخص کی دینی حالت کیا ہے، شریعت میں دینداری سے مراد وہ شخص مکمل دیندار ہو جبکہ ہمارے ہاں دینداری سے مراد یہ لی جاتی کہ بندہ نماز پڑھتا ہو اور اس کا ظاہری شباہت اس کی دینی ہو، یہ چیز دیکھ لیں، دوسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ بندہ اخلاق میں کیسا ہے، جس سے متعلق چھان بین کرنے سے معلوم ہو جائے گا، تیسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے آپ کے جوڑ کا ہے یا نہیں۔ مذہبی سکالر نے خاتون کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کوئی رشتہ ان کیلئے آتا ہے کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے اور اخلاقی لحاظ سے ان کیلئے مناسب ہے لیکن نماز اور دینی اعتبار

]]>
75634
کئی افرادکی رگیں بہت زیادہ ابھری ہوئی کیوں ہوتی ہیں http://www.azaad.pk/2019/05/07/75628/ Tue, 07 May 2019 18:48:33 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75628 مزید پڑھیں]]> ہماری رگیں ایک اسمارٹ نظام کی طرح کام کرتی ہیں جو کہ آکسیجن ملے خون کی منتقلی کا کام کرتی ہیں۔عام طور پر لوگ رگوں کے بارے میں کچھ زیادہ غور اس وقت تک نہیں کرتے جب تک وہ اچانک جلد کے اندر سے ابھر کر نمایاں نہیں ہوجاتیں۔اگر اچانک رگیں ہاتھ پر موٹی

ہوکر نمایاں ہوجائیں تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟درحقیقت عام طور پر رگوں کا اس طرح ابھرنا فکرمندی کی بات نہیں ہوتی مگر کبھی کبھار یہ مخصوص طبی مسائل کا اشارہ بھی کرتی ہیں۔مگر جیسا لکھا جاچکا ہے کہ اکثر اوقات اس کی وجوہات قدرتی ہوتی ہیں اور یہ صحت کے لیے خطرہ نہیں ہوتیں۔درحقیقت شفاف جلد کے مالک افراد میں رگوں کے ابھرنے کا امکان گہری رنگت کی جلد والے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح پتلی جلد ہونا بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے، کیونکہ عمر بڑھنے سے جلد کے اندر چربی کی تہہ پتلی ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ رگیں ابھرنے لگتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر بزرگ افراد کے ہاتھوں یا پیروں میں رگیں کافی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ افراد کی رگیں قدرتی طور پر جلد کی سطح کے بہت قریب ہوتی ہیں۔ورزش کے دوران رگوں کا اچانک ابھرنا عام ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں کے درمیان جب مسلز حرکت میں آتے ہیں تو رگیں جلد کی سطح کی جانب ابھر کر نمایاں ہوتی ہیں۔ ورزش کے بعد جب مسلز دوبارہ قدرتی شکل میں جاتے ہیں تو رگیں بھی غیرنمایاں ہوجاتی ہیں۔بیشتر حاملہ خواتین کو رگوں کے ابھرنے کا سامنا ہوتا ہے

اور یہ فکرمندی کی علامت نہیں۔ درحقیقت حاملہ خواتین میں خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور یہ رگیں اس مقدار کے بڑھنے سے مطابقت پیدا کرنے کی کوششیں کررہی ہوتی ہیں۔ آسان الفاظ میں خون کی شریانوں کو حاملہ خواتین کے جسم کے اندر دوران خون کی منتقلی کے اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں رگیں اکثر نمایاں ہوجاتی ہیں، جو کہ بچے کی پیدائش کے بعد ممکنہ طور پر غائب بھی ہوجاتی ہیں۔جسم میں چربی کی سطح کم ہونا بھی رگوں کے ابھرنے کا باعث بنتی ہے، پتلے افراد کی جلد کے اندر چربی کی تہہ بھی پتلی ہوتی ہے اور یہ پتلی تہہ رگوں کو چھپا نے کی بجائے زیادہ نمایاں کردیتی ہے۔بیشتر حالات میں تو رگوں کا ابھرنا عام معمول اور صحت کے لیے فائدہ مند ہی ہوتا ہے جس پر فکرمند ہونے کی بات نہیں، تاہم اگر رگیں ابھرنے کے ساتھ چند دیگر علامات جیسے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، رگوں کے قریب ناسور یا سوجن ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، کیونکہ یہ مختلف طبی مسائل کا عندیہ ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر رگیں ابھرنے کے ساتھ چند دیگر علامات جیسے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، رگوں کے قریب ناسور یا سوجن ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، کیونکہ یہ مختلف طبی مسائل کا عندیہ ہوسکتا ہے

]]>
75628
طلبہ یہ خبر ضرور پڑھ لیں ،آملہ جوس کے پانچ کرشماتی فائدے، جان کر آپ یقین نہیں کرینگے http://www.azaad.pk/2019/05/07/75622/ Tue, 07 May 2019 18:47:11 +0000 http://www.azaad.pk/?p=75622 مزید پڑھیں]]> اسلام آباد(نیو زڈیسک) 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منایاجاتا ہے،اس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد ایسے ہیں جوکسی نہ کسی دماغی مرض میں مبتلا ہیں۔ سال 1992 میں ’

ورلڈ فیڈریشن فور منٹل ہیلتھ‘ کی جانب سے پہلی مرتبہ یہ دن دنیا کے 150 ممالک میں منایا گیاتھا۔سال 1992 کے بعدسے ہر سال یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے، اس سال اس دن کی مناسبت سے ماہرین صحت کی جانب سے آملہ جوس پینے کی خاص تائید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانی دماغ کے لیے بے حد مفید ہے کیونکہ اگر انسان کا دماغ صحیح کام کرے تو وہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔وس بیری‘ ایک قسم کا انگور نما پھل ہے جسے عام طور پر ’آملہ‘ کہا جاتا ہے، یہ انسانی جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہےکیونکہ اس میں وٹامن سی کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں کئی ضروری منرلزجن میں ’کیلشیم، آئرن، پوٹاشیم اور کارٹین‘ بھی پائے جاتے ہیں اور اسی لیے آملہ کے جوس کےبے شمار فوائد ہیں، ان میں پانچ یہ ہیں:وزن میں کمیماہرین صحت کے مطابق جو افراد اپنے وزن میں تیزی سے کمی چاہتے ہیں ان کے لیےضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک میں آملہ جوس کو شامل کرلیں۔ آملہ میٹا بولزم کو بڑھاتا ہے جس کا کام جسم میں موجود فالتو چربی کو ختم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ آملہ میں فائبر بھی پایا جاتا ہے جوکہ دیر تک پیٹ کو بھرا رکھتا ہےاور بھوک نہیں لگنے دیتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح نہار منہ اس کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے۔بینائی کو تیز

کرتا ہےآملہ کا جوس آنکھوں کی بینائی کو تیز کرنے کے لیےبھی استعمال کیا جاتا ہے، یہ نظر کی کمزوری کو دور کرنے کےعلاوہ آنکھوں کے گرد حلقوں کو بھی ختم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد اپنی بینائی کو جلد ٹھیک کرنا چاہتے ہیں وہ آملہ کو پانی میں کچھ دیر کے لیے بھگو دیں پھر اس پانی سے اچھی طرح آنکھوں کو دھو لیں تو بینائی تیز ہوجائے گی اور حلقے بھی ختم ہوجائیں گے۔دماغی صحت کے لیے مفیدآملہ جوس کا استعمال جسم میں خون کی روانی کو بہتر کرنا ہے جو کہ دماغی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ آملہ جوس کا روزانہ استعمال قوت معدافیت ، حافظہ اور یادداشت کو مزید بہتر کرتاہے۔ اس کے علاوہ یہ دیگر دماغی بیماریوں کو ہونے سے روکتا ہے۔کنٹرول شوگر لیول شوگر کے مریضوں کے لیے آملہ کا جوس نہایت فائدہ مند ہے یہ خون میں موجود شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہےاور بڑھنے سے روکتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ایسے افرادجن میں خون کی کمی ہو وہ آملہ کے جوس کااستعمال کریں کیونکہ اس کا کام جسم میں خون کی مقدارکو بڑھانا بھی ہےانفیکشن سے لڑناآملہ میں انٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جس کے باعث یہ مختلف انفیکشنز سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہےاور قوت معدافیت کو بھی بڑھاتا ہے جو کہ انسانی جسم کو مختلف اقسام کی بیماریوں سے روکتا ہے۔

]]>
75622
لڑکیوں کو کس عمر کے لڑکے سب سے زیادہ پسند آتے ہیں؟تحقیق نے تمام دعوے غلط ثابت کر دئیے http://www.azaad.pk/2019/05/01/73003/ Wed, 01 May 2019 16:18:03 +0000 http://www.azaad.pk/?p=73003 مزید پڑھیں]]> لا ہور (نیوز ڈیسک )جس طرح لڑکیوں کو یہ تجسس ہوتا ہے کہ لڑکے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں بالکل ویسے ہی لڑکےبھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ لڑکیوں کو کس عمر کے لڑکے زیادہ پسند آتے ہیں۔ایک کتابDataclysmمیں بتایا گیا ہے کہ 20سال یا اس سے کچھ زائد عمر کی لڑکیوں کو اپنے سے بڑے عمر کے لوگ پسند

ہوتے ہیں۔لڑکوں کے ساتھ عمر کا یہ فرق دو یا تین سال سے زائد کا ہوسکتا ہے۔اس کتاب میں مختلف خواتین سے بات کی گئی ہے اور ان سے ان کی ترجیحات کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کیا۔انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکیوں کو اپنے سے کچھ زائد عمر کے لڑکوں میں دلچسپی ہوتی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ لڑکیاں چاہتی ہیں کہ جس لڑکے کو وہ پسند کریں اس کی شخصیت میں نکھار ہو اور ایسا صرف بڑی عمر کے لڑکے میں دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں ان کی جانب متوجہ ہوتی ہیں۔ایک بار پھر یہ بتاناضروری ہے کہ یہ تجزیہ مختلف لوگوں سے بات کرکے مرتب کیا گیاہے لہذا ضروری نہیں کہ تمام لڑکے ،لڑکیوں پر یہ بالکل صحیح بیٹھے۔

]]>
73003