Azaad.pk http://www.azaad.pk Pakistan's Emerging Urdu Blog Wed, 10 Jul 2019 14:48:29 +0000 en hourly 1 https://wordpress.org/?v=4.9.7 123420660 ’’ مریم کو جتنا غصہ دلایا جائے گا معاملہ خراب ہوگا۔۔۔‘‘ حکومت کو مریم نواز سے پنگا نہ لینے اور محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا گیا http://www.azaad.pk/2019/07/10/89274/ Wed, 10 Jul 2019 14:48:29 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89274 مزید پڑھیں]]> لاہور (نیوز ڈیسک) معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مریم نواز بہت دلیری کے ساتھ چل رہی ہیں۔مریم نواز نے مخالفین کو پیغام دیا ہے کہ میں شیر کی بیٹی ہوں میں ڈرتی نہیں ہوں۔مریم نواز کو جتنا غصہ دلایا جائے گا وہ اتنا بڑھ کر بات کریں گی،اور جب وہ بڑھ کر بات کریں گی

تو پھر کئی لوگ بےنقاب ہوجاتے ہیں اور بہت سی سچائیاں سامنے آ جاتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مریم نواز بہت دلیری کے ساتھ چل رہی ہیں۔مریم نواز نے مخالفین کو پیغام دیا ہے کہ میں شیر کی بیٹی ہوں میں ڈرتی نہیں ہوں۔مریم نواز کو جتنا غصہ دلایا جائے گا وہ اتنا بڑھ کر بات کریں گی،اور جب وہ بڑھ کر بات کریں گی تو پھر کئی لوگ بےنقاب ہوجاتے ہیں اور بہت سی سچائیاں سامنے آ جاتی ہیں۔پھر ان اداروں کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے جن کے لوگوں کی سچائیاں باہر آئیں۔نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سنا تھا کہ حکومت کے پاس ویڈیوز ہوتی ہیں لیکن اب تو اپوزیشن کے پاس بھی ویڈیوز ہیں۔نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت مریم نواز کے ساتھ ہنگا نہ لے کیونکہ مریم نواز فیصلہ کر چکی ہیں کہ وہ خاموش نہیں رہیں گی اور لڑیں گی،بہتر ہے معاملات حل ہو جائیں ورنہ ریاست کا نقصان ہو گا۔جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کے بعد اب مریم نواز نے عدلیہ پر ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔گیا کہ نیب کی اپیل پر مریم نوازکے عدالت میں پیش ہونے کی صورت میں بھرپور عوامی طاقت کے ساتھ وہاں پر جانے پر غور شروع کر دیا گیا ہے جبکہ بھرپور طریقہ سے وہاں جانے کی صورت میں انتظامیہ کے ساتھ ٹکراؤ اور عدلیہ پرحملے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں بھی اداروں کو دھمکیاں دینے کے بعد عدالت میں جانے کے حوالے سے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور اس کے قریبی ساتھی ہر صورت میں بھرپور محاذ آرائی کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کے اندر انارکی کی فضا پیدا ہو۔کہ مریم نواز کے قریبی افراد ہر صورت میں مریم نواز کو بھرپور مزاحمتی سیاست کا مشورہ دے رہے ہیں ۔

]]>
89274
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی لیگی اراکین کی بغاوت۔۔۔ کتنے سینیٹر حکومت کے ساتھ جا ملے؟ (ن) لیگ کے لیے ایک اور بُری خبر http://www.azaad.pk/2019/07/10/89271/ Wed, 10 Jul 2019 14:47:31 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89271 مزید پڑھیں]]> اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اور سینیٹر فیصل جاوید چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے پُوری طرح سے سرگرم ہیں اور نواز لیگ کے ارکان سے اس وقت رابطے میں ہیں۔اس حوالے سے سینیٹر فیصل جاویدنے کہا ہے کہ

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہو گی۔اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ تحریک عدم اعتماد واپس لے لے ورنہ اُسے نقصان ہو گا۔ اپوزیشن کا کیمپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے مسلم لیگ کے 12 سے 13 سینیٹرز تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپنی جماعت کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن کا سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔دُوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے نئے چئیرمین سینیٹ کے لیے ممکنہ نام سامنے آ گئے ہیں۔ن لیگ کی جانب سے نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے جو چار نام زیرِ غور ہیں ان میں ظفر الحق،مصدق ملک،پرویز رشید اور حاصل بزنجو شامل ہیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروادی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن کے دیگر ارکان نے چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تحت قرارداد سیکرٹری سینیٹ کو جمع کروائی۔تحریک عدم اعتماد کیقرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے 38 ارکان نے دستخط کیے تھے۔ قرارداد کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان کی جانب سے سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کروا دی گئی ہے۔سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن پر 50 ارکان کے دستخط ہیں۔ سیکریٹری سینیٹ کے مطابق ریکوزیشن پر اجلاس چیئرمین سینیٹ ہی بلائیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس مطلوبہ اکثریت سے زائد کی تعداد موجود ہے، 104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 میں سے چیئرمین کی نشست کے لئے 53 ارکان کی حمایت درکارہے۔

]]>
89271
وہ عظیم دانشور جن کے دن رات مریم نواز کی خوشی میں خوش اور دکھ میں غمگین ہوتے ہیں، 2020 کا پہلا دن ان لوگوں کو کیا سرپرائز دینے والا ہے اور پاکستانی قوم کو کیا خوشخبری ملنے والی ہے ؟ اوریا مقبول جان نے خبر دے دی http://www.azaad.pk/2019/07/10/89268/ Wed, 10 Jul 2019 14:46:51 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89268 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) پرانے ناموں کے بوسیدہ اشتہاروں کا فصیلِ ملک سخن پر جواز کچھ بھی نہیں میرے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہ اس دنیا کے نقشے پر بعد میں ابھرا، لیکن اسکے دشمن اس سے بہت پہلے پیدا ہوگئے تھے۔ ان دشمنوں کو نہ اس ملک کے جغرافیے سے دشمنی تھی اور نہ ہی اسکے

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عوام سے۔مگر انہیں قیام پاکستان سے پہلے ہی سے یہ تصور خوفزدہ کر رہا تھا کہ پوری دنیا اب رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہو رہی ہے لیکن یہ “پسماندہ” اور بیوقوف برصغیر کے مسلمان، اللہ کے نام پر اپنی نسلی قومیتوں کو ترک کرکے ایک علیحدہ وطن بنانا چاہتے ہیں۔ چودہ اگست 1947ء سے اب تک یہ ملک اور اسکی شناخت ان دانشوروں کی چھاتی پر مونگ دل رہی ہے۔ اسی لئے جوبھی اس ملک کی اساس کا دشمن ہے،انکے نزدیک اگر وہ ادیب اور شاعر ہو تو عظیم ہے، سیاستدان ہو تو انکے نزدیک اصول پرست اور سچا ہے اور اگر شدت پسند اور دہشت گرد ہو تو آزادی و حریت کا علمبردار ہے۔ میرے ملک کے ان دانشوروں نے سینے کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے ہمیشہ ان سیاستدانوں کے کردار کو عظیم بنایا اور ان ملک دشمن علیحدگی پسند لوگوں کو حریت پسند ثابت کیا جو پاکستان کی بنیادی اساس کے منکر تھے۔ اگر تلہ سازش کیس کے مجیب الرحمن سے لے کر بلوچستان لبریشن آرمی کے حیر بیار مری تک سب ان کے پسندیدہ کردار ہیں۔ انہیں ویتنام میں داخل ہونے والا امریکہ ظالم لگتا تھا اور افغانستان میں فوجیں اتارنے والا سوویت یونین ،محسن۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ افغانستان میں جو حکومت پاکستان دشمن اور بھارت نواز ہو وہ ان کی محبوب ہوتی ہے لیکن ملا عمر اور حکمت یاراگر پاکستان سے محبت کا اظہار کریں تویہ انکے خلاف نفرت اگلنے لگتے ہیں۔ انکی جمہوریت کے بھی اپنے پیمانے ہیں۔ بلوچی گاندھی

عبدالصمد اچکزئی کو 1970ء کے انتخابات میں ایک سادہ سا مولوی عبدالحق ذلت آمیز شکست دے، لیکن انکا ہیرو عبدالصمد اچکزئی اور اس کا بیٹا محمود خان ہی رہتا ہے۔ جی ایم سید اور اسکی پارٹی ساری زندگی چند ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے مگر یہ اسے اور اسکی فلاسفی کو احترام دیتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی اساس کے خلاف ہے۔ انکے نزدیک اسٹیبلشمنٹ اسی وقت گناہگار ہے جب وہ اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کی بات کرے،یہی وجہ ہے کہ ضیاء الحق مطعون ہے ورنہ یہ تمام لوگ پرویز مشرف کی ظالم ترین آمریت کی گود میں اٹھکیلیاں کرتے تھے۔ خیر بخش مری آئی ایس آئی کے سی 130 طیارے میں ناکام و نامراد وطن واپس لوٹے تو پھر بھی ہیرو اور خان عبدالولی خان کے بارے میں اسکا اپنا ساتھی جمعہ خان صوفی اپنی کتاب میں لکھے کہ وہ بھارت کے سفیر سے ملتا تھا اور بھارت کے ایما پر اسکی پارٹی پاکستان میں دھماکے کرتی تھی تو وہ پھر بھی جمہوریت پسند اور عظیم سیاسی قائد۔ یہ تمام ادیب، دانشور اور صحافی پاکستان کے نظریے سے اپنی نفرت کا برملا اظہار نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ ان سیاسی لیڈروں، علیحدگی پسند تنظیموں اور ان غیر ملکی حکمرانوں، سیاستدانوں اور لکھاریوں کے پیچھے چھپ کر بات کرتے ہیں۔ کوئی کسی بڑے انگریزی اخبار کے کالم نگار کی بات کو اچھالے گا تو کوئی افغانستان کے ٹوڈی سربراہ کے بیان کا سہارا لے کر پاکستان کو گالی دے گا۔ کسی کو امریکی صدر کا پاکستان مخالف بیان بہت اچھا لگے گا

تو کوئی بھارت کے دانشوروں کی تحریر کو امن کا پرچم بنائے گا۔ گزشتہ دس سالوں سے ان پر ایک نئے عشق کا بھوت سوار ہے۔ نواز شریف اور اسکے بیانیے سے عشق اور اس عشق کی نئی شمع مریم نواز کی صورت جگمگا رہی ہے۔ میرے ان “عظیم دانشوروں” کے دن رات مریم نواز کی خوشی میں خوش اور دکھ میں غمگین ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وقت بہت بدل چکا ہے۔ تاریخ اپنا فیصلہ تحریر کر چکی ہے اور اس فیصلے کو دنیا کی ہر بڑی طاقت نے پڑھ لیا ہے اور اس پر ایمان بھی لے آئی ہے۔ تاریخ کا یہ فیصلہ اس وقت دنیا کے قرطاس پر لکھا جانا شروع ہوا تھا جب قطر میں فتح مند طالبان کا پہلا دفتر کھولا گیا تھا اور آج میرے اللہ کی نصرت نے جو جھنڈا طالبان کے ہاتھ میں تھما کر دنیا کی واحد سپر طاقت کو بدترین شکست سے دوچار کرکے اس طاقت کو پاکستان سے مدد کا خواستگار بنایا ہے ، اشرف غنی کو کان سے پکڑ کر پاکستان کے دروازے پر جھکایا گیا ہے ، نریندر مودی کو روس میں ذلت و رسوائی کے بعد کرتارپور تقریب میں آنے پر مجبور کیا گیا ہے ، یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ وقت کی دیوار سے اب ایسے تمام بوسیدہ پوسٹر اکھاڑ کر پھینک دیئے جائیں گے جن کو بیرونی امداد کی گوند سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف بنائی دیوار پر چپکایا گیا۔ 1974ء سے بلوچ فراریوں کو پناہ دینے والا افغانستان اور بلوچ جلاوطن رہنماؤں کو رہائش فراہم کرنے والا یورپ، دونوں اب بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم کہے جانے کے بعد دم بخود ہیں۔ بھارت کا بوریا بستر افغانستان سے لپیٹا جا چکا اور اسے یہ باور کروا دیا گیا کہ اگر پاکستان کمزور ہوا، اس ملک کی فوج ناکام ہوئی تو پھر پاکستان میں موجود سرفروش مجاہدوں کے سامنے کوئی سرحدی دیوار نہیں رہے گی جو انہیں کشمیر اور افغانستان میں جاکر لڑنے سے روک سکے۔ ٹرمپ کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی کی لسٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے الفاظ نکل چکے ہیں۔ اب کہا گیا ہے “Interstate competition not terrorism” “ریاستوں کے درمیان مقابلہ ہوگا, دہشت گردی سے نہیں”۔ ایسے میں ریاستِ پاکستان کی ضرورت امریکہ کو بھی ہے اور روس کو بھی، چین کو بھی ہے اور یورپ کو بھی۔ اس ریاست کی دیوار سے اب ہر وہ بوسیدہ پوسٹر اتار کر گٹر میں پھینک دیا جائے گا جس کا بیانیہ اسکی تخریب ہے۔ وقت کا انتظار کرو۔ 2020ء کا پہلا سورج جس پاکستان پر طلوع ہوگا اسکے چہرے پر ان بوسیدہ قیادتوں کا کوئی داغ نہ ہوگا۔ (ش س م)

]]>
89268
واقعی تبدیلی والے بڑی محنت کر رہے ہیں ، 5.7فیصد گروتھ ریٹ تھا، دن رات کام کرکے اسے 3۔2 پر لے آئے ہیں ۔۔۔۔ عمران خان کی پالیسیوں کا ایک تنقیدی جائزہ http://www.azaad.pk/2019/07/10/89265/ Wed, 10 Jul 2019 14:46:05 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89265 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) مریم نواز نے جج کی ویڈیو چلا کر بہت کچھ ہلا کر رکھ دیا اور جو غدر مچایا لگتا ہے وہ ابھی اور مچے گا اور خوب مچے گا۔ حکومت نے ویڈیو کی فرانزک آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے‘ اب شاید گمشدہ سیاق و سباق مل جائیں لیکن نہ ملے تو؟ سیاسی جماعتیں عدالتی

نامور کالم نگار عبداللہ طارق سہیل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن سب سے زیادہ پرلطف مطالبہ حکمران جماعت کے رہنما احمد اویس نے کیا ہے۔ ٹی وی پروگرام پر فرمایا کہ ایجنسیاں حرکت میں آئیںاور مریم سے دوسری ویڈیوز کو تحویل میں لے لیں ورنہ یہ ویڈیوز بھی چل گئیں تو ریاست کو بہت نقصان ہو گا۔ مریم نے ہینڈ آئوٹ پر کہا کہ فیصلے کی طرح یہ بھی لکھا لکھایا تھما دیا گیا جس پر جج صاحب نے دستخط کر دیے۔ تحقیقات ہو گی تو رپورٹ بھی آئے گی لیکن ویڈیو ملک بھر کے لوگ دیکھ چکے ہیں اور اپنی ’’خود ساختہ‘‘ رپورٹ بھی بنا چکے۔ انوکھی بات سچ پوچھئے تو کچھ بھی نہیں اس لئے کہ شیخ جی تو بہت عرصہ سے جو فیصلے لیک کرتے آئے ہیں ان کا بھی تو کوئی راز ہو گا۔ پنجاب میں جو حالات بن رہے ہیں‘ ان پر ایک اینکر نے تبصرہ فرمایا۔ نقل کر نا مناسب نہیں۔بس غالب یاد آ گئے جنہوں نے کہا تھا کہ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا، یہ انہوں نے اپنے بارے میں کہا تھا لیکن ولی خاں کی یاد‘ اسی میں سے نکل آئی جنہوں نے 1990ء میں فرمایا تھا کہ سٹیٹس کو کے خلاف آخری اور فیصلہ کن جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی۔ تھے ہم ’’ولی‘‘ سمجھتے جو نہ مودی کا یار ہوتا۔ ولی خان نے 1970ء میں کہا تھا یہ مت کرو‘ ملک ٹوٹ جائے گا لیکن ہم نے اس کی نہ مانی کہ ہر چند’’ولی‘‘ تھا لیکن مودی کا یار بھی تو تھا۔ ٭٭٭٭٭

شیخ جی نے پھر نکات معرفت سے بھرا بیان دیا ہے۔ سرفہرست نکتہ معرفت یہ دھمکی ہے کہ چور سیاستدانوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ یعنی یہ کہ ’’چور‘‘ سیاستدانوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے حضور یہ کس کی ناکامی ہے؟ دیگر ذرائع سے بھی اطلاع یہ ہے کہ چور دھمکیوں سے مان رہے ہیں نہ ترلوں سے۔ چوروں کا کہنا ہے کہ چوری ثابت کرو۔ مزید دریائے معرفت یوں بہایا کہ عثمان بزدار کی کارکردگی ہم سے بہتر ہے۔ اس نکتے کے اندر یہ معرفت پوشیدہ ہے کہ’’ہم‘‘ کی کارکردگی کا اندازہ کر لیں۔ جب ’’بہتر‘‘ کا عالم یہ ہے تو ’’ہم‘‘ کا تو پوچھنا ہی کیا۔ کسی اور کا نام لے کر یہ خواہش بھی بیان فرما دی کہ نواز شریف مرسی بن سکتے ہیں۔ بتایا کہ مسلم لیگ کے 37ارکان توڑ لئے گئے ہیں۔7کم ہیں۔ وہ پورے ہوتے ہی فارورڈ بلاک بن جائے گا۔ یعنی یہ اعتراف کہ ’’ضمیر‘‘ کی منڈی خود بخود نہیں لگائی‘ یہ بھی ’’ہم‘‘ ہی کا کارنامہ ہے۔ ٭٭٭٭٭ جماعت اسلامی کے امیر نے کہا ہے کہ حکمران مزدور کی تنخواہ میں اس کے گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔ قبلہ نے یہ بہت ہی پرانی خبر دی ہے‘ ان تک شاید اب پہنچی۔ اب کی خبر یہ ہے کہ کوئی گریڈ17کے افسر کے گھر کا بجٹ اس کی تنخواہ میں بنا کر دکھائے۔ مزدور کی تو تنخواہ ہی بارہ سے پندرہ ہزار کے درمیان ہے اور گھر میں چھ منہ کھانے والے ہوں تو اتنے میں آٹا دال بھی نہیں آتی۔

بجلی ‘پانی ‘گیس ‘دوا دارواور کپڑے لتے کے لئے وہ خیرات ‘زکوٰۃ ‘صدقات کا انتظار کرے نہیں تو مرے۔ ہمیں کیا‘ ہم تو چیخیں نکلوانے اور ان کا مزا لینے آئے ہیں۔ ٭٭٭٭٭ وزیر اعظم نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جن میں انہیں حکومت ملی۔ ارے بھائی کچھ مت پوچھو‘ کتنے مشکل حالات تھے۔5.7فیصد گروتھ ریٹ تھا۔ خدا جانتا ہے یا ہمارا دل ‘کتنی محنت کرنا پڑی۔ کتنا زور لگانے کے بعد اسے کھینچ کر 2.3پر لائے۔ ھر کیولین ٹاسک تھا۔ سچ پوچھئے تو‘ لیکن ہم نے کر دکھایا۔ افراط زر کی شرح بھی مشکل ہی سے یہ چور لٹیرے لگ بھگ تین فیصد پر چھوڑ گئے تھے۔ہمارا تو پتہ پانی ہو گیا۔ کہ اسی کم شرح سے ملک ترقی کیسے کرے گا۔ بھلا ہو حفیظ شیخ کا اور تھوڑا سا اسد عمر کا بھی جن کی مدد سے ہم نے اسے مختصر سے وقت میں 13.5فیصد پر لے گئے اورسال ختم ہونے سے پہلے اسے 20فیصد پر لے جائیں گے۔ اسی طرح تو کہتے ہیں ہمت مرداں مدد آئی ایم ایف۔ غیر ملکی قرضوں کے بارے میں بھی چور ڈاکوئوں کا ریکارڈ شرمناک تھا۔ دس سال میں 60ارب ڈالر کے قرضے لئے۔ یہ تو ان کی اوقات تھی۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ یہاں بھی ہم نے ہمت مرداں سے کام لیا۔ چین‘ امارات‘ قطر ‘ سعودی عرب اے ڈی پی وغیرہ سے ساڑھے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے صرف دس ماہ کی مدت میں لے کے دکھا دیے ‘ اوپر سے آئی ایم ایف نے بھی چھ ارب ڈالر دیے ہے۔ یہ کل ملا کے ہوئے ساڑھے 21ارب ڈالر۔ اب جیسا کہ آپ نے حفیظ شیخ سے سن لیا ہو گا کہ اگلے تین برسوں میں ہم مزید 38ارب ڈالر کا قرضہ لیں گے۔یوں ملا کر یہ ساڑھے 59ارب ڈالر ہو جائیں گے۔ اندرونی قرضے ملا کر یہ گنتی 60ارب ڈالر کو ٹاپ جائے گی۔ صرف تین سال میں 60ارب ڈالر اب آپ خود انصاف کریں کہاں دس سال میں مر کے بلکہ مر مر اکے 24ارب اور کہاں صرف تین سال میں اتنے۔ تو میرے عزیز ہم وطنو‘ اسے کہتے ہیں کارکردگی‘ اسے کہتے ہیں ترقی اور اسے کہتے ہیں خودکفالت کی منزل کا حصول۔ اور ابھی تو ہم نے ترقی کا سفر شروع ہی کیا ہے۔ آگے آگے دیکھیے میرے عزیز ہم وطنو ہوتا ہے کیا۔ (ش س م)

]]>
89265
اگلے 3 سے 4 ماہ حکومت کے لیے انتہائی اہم۔۔۔۔ کیا نومبر تک عمران حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا؟ بڑی پیشگوئی کر دی گئی http://www.azaad.pk/2019/07/10/89262/ Wed, 10 Jul 2019 14:45:20 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89262 مزید پڑھیں]]> لاہور (نیوز ڈیسک ) معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نومبر میں جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اگلے تین چار میں کافی فیصلے ہونے جا رہے ہیں،اور کچھ ایسے فیصلے ہوں گے جس کے بعد عمران خان کی حکومت نہیں چل سکے گی۔

تاہم میرا خیال ہے کہ عمران خان اگلے سال تک حکومت چلا سکتے ہیں۔اور یہ تب ممکن ہو سکتا ہے جب عمران خان کوئی حماقتیں نہ کریں جیسا کہ نواز شریف بھی کرتے رہے۔اگر عمران خان سب ٹھیک کر لیں تو ان کی حکومت کا بچاؤ ممکن ہو سکے گا لیکن اگر عمران خان نے کوئی چالاکیاں کرنے کی کوشش کی تو پھر پتہ نہیں کیا ہو گا۔خیال رہے اس سے قبل بھی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا کہ عمران خان کے لیے 2019ء پاکستان کے لیے اہم ترین سال ثابت ہو گا۔2019ء آئندہ سالوں کی سمت کا تعین کرے گا۔2020ء کپتان کے لیے خطرناک سال ثابت ہو گا۔جب کہ : سینئیر صحافی و تجزیہ نگار اوریا مقبول جان نے کہا تھا کہمیں ایک بات بتا دوں کہ 9 جون سے 20 کے درمیان پاکستان ملک کے اندر ایک ایسی خرابی دیکھے گا جس میں یا تو سسٹم کو لپیٹ دیا جائے گا لیکن اگر عمران خان 20جون تک حکومت نکال گیا تو پھر اپوزیشن جماعتیں رگڑی جائیں گی۔جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وساننے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 2020 میں ختم ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ منظور وسان نے کہا ہے کہ حکومت نے ملکی ادارے آئی ایم ایف کے حوالے کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 18ویں ترمیم ختم کروانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں جبکہ حکومت نے 8 لاکھ سے زائد لوگوں کو10 ماہ میں بے روزگار کر دیا ہے۔

]]>
89262
خیر خیریت پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ؟ وزیراعظم عمران خان ہمت کریں اپنے کام میں لگے رہیں مگر اس غلطی سے بچیں ۔۔۔۔ نامور سابق جج نے بڑے کام کا مشورہ دے دیا http://www.azaad.pk/2019/07/10/89259/ Wed, 10 Jul 2019 14:44:36 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89259 مزید پڑھیں]]> لاہور (ویب ڈیسک) مزاج میں امتزاج کی شرح تلاش کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ انسان کو خطا و نسیان سے مرکب بنایا اور پھر مزاج میں اضداد کا ایسا پر پیچ نظام وارد کر دیا کہ مدبراتِ امر بھی اپنی تنگیٔ داماں کا اعتراف کرتے ہوئے سبحان ذی الملک والملکوت کے ورد میں مشغول ہیں۔

سابق جج جسٹس (ر) نذیر احمد غازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کتنے مخاطب ہوتے ہیں ذہن میں۔ جب خامہ فرسائی کا عمل فکر سے تال میل کرتا ہے۔ روزانہ افکار نوک قلم سے پھسل کر سطح قرطاس کو شبنمی کرتے ہیں اور خواندہ و نیم خواندہ گروہ عاقلان ہوتا ہے، جو الفاظ کی چوبی روٹی کو اندر اتارتا ہے۔ بس روز مرہ کی مشق لکھنا ہے‘ پڑھنا‘ سر دھننا ہے نشۂ علم کی کمزور اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الفاظ کے برتن میں متاعِ بے مایہ کو حقیقی معانی سمجھ کر لسی کی طرح بلویا جائے۔ سچ کیا ہے؟ یہ سب سوال انسانی عمرانیات کی فطرتِ جاریہ کا ایسا حصہ ہیں کہ ہر دور کے امتحان میں ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن فطرت کے خانۂ شرمیں ابلیسیت کی دھماچوکڑی کا مکارانہ راج ہر حقیقت کو دھندلا دیتا ہے۔ روزانہ نئی باتیں تو سننے میں آتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ پرانی باتیں کچھ غریب مار وارداتیے نئے الفاظ میں پرانے دکھڑے روتے ہیں۔ سب سے زیادہ درد ان کے پیٹ میں اٹھتا ہے جن کے ہاں ایمان‘ اخلاق‘ ضابطہ اور مروت کے الفاظ برائے نمائش ہوتے ہیں۔ اور وہ کامیاب نمائش کی ادائیگی کرتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں کا رواج اب کم ہے۔ ٹویٹ پر قوم کی گردن پر چاند ماری کی مشق جاری ہوتی ہے۔ اہم عنوان قوم کی پتلی معاشیات اور عوام کی بیمار اقتصادیات ہوتی ہیں۔ ایک بیان باز کرائے پر اپنا حق خدمت ادا کرتا ہے اور پھر اس روایتی جملے

کو بیانیے کا نام دے کر اخبارات کے اوراق کو قرطاس اسود میں بدلنے کے ماہر دین اور فلسفے کا مقدس لبادہ اوڑھا کر قوم کو نیا نشہ پلاتے ہیں۔ قوم فروش اور خود فراموش اپنے شبستانوںمیں حسب ہمت داد عیش دیتے ہیں اور مبرا عن الخطاء ہونے کا سیاسی اعلان داغتے ہیں ادارے سر پیٹ رہے ہیں کہ قومی دولت کا خائنانہ ارتکاز کرنے والوں کو سب جانتے ہیں لیکن جان کر کیا کر لیں گے۔ یہ روایتی خائنین ‘ رسہ کشی میں بھی کبھی غلط نہیں گرتے۔ کبھی پرسش مال ہوتی ہے تو قانون کو موم کی ناک بنا کر ایسی معصومانہ تصویر اترواتے ہیں کہ خود مصور بھی اپنی کم مائیگی کو متاعِ فن قرار دیتا ہے۔ ہر سال ٹیکس‘ اثاثے اور جائیدادیں پڑتال کے عمل سے گزرتے ہیں لیکن چور پوری طرح سے چتر ثابت ہوتے ہیں۔ سارے جہاں کا مال لوٹنے والے ممبران قومی اسمبلی‘ ایوان بالا کے ارکان اور سیاسی جماعتوں کے بڑے بالکل ہی فقیر اور گداگر نظر آتے ہیں۔ چند کروڑ کے اثاثے لیکن خاموش کھربوں کی مالیت کے اثاثے قوم کو منہ چڑاتے ہیں اور پوری قوم کے رسہ گیروں کے پشت پناہوں کو بھی قسم معصومیت دینا پڑے تو ایسی سادگی سے کاغذوں کو روسیاہ کرتے ہیں کہ شیطان بھی کان پکڑے۔ کیا تبصرہ اور کیا خیال، بے وقوف ‘ عقل دشمن‘ عوام فروش یہ سمجھتے ہیں کہ اب تک کی ہماری فریبی کارروائی نے سارے پاکستان کو اندھا‘ بہرہ گونگا کر دیا ہے ۔ ان کی آنکھوں کا سیاہ چشمہ غماز ہے کہ ان کا دل بھی کالا ہے۔

پرائے جام کی تلچھٹ سے مینڈکی کو زکام ہوا ہے اور مینڈک کی چال میں مردنی ہے۔ جناب وزیر اعظم نے بیان دیا ہے کہ کوئی چور میرا ساتھی نہیں ہے۔ جناب نے درست فرمایا اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دست آہن کو توفیق بخشے کہ وہ اپنے ٹانگہ سوار حلیفوں کو بھی اپنی صف دوستاں سے نکال کر باہر کر دیں۔ ایف بی آر جاگے اور اپنے جاگنے کی دعا کیا کرے۔ بسا اوقات شریفوں کی اولاد مسند احتساب اور منصب انتظام پر بیٹھے تو خوف اور لالچ کی بلائیں انہیں گھورتی ہیں اور ان کے تخت اختیار کے انجر پنجر ہلا دیتی ہیں۔ انتقام‘ تبادلہ‘ جبر کے رویے ان کی نان شبینہ کو خطرے کے حوض میں ڈبو دیتے ہیں لیکن خدا کا نام غالب ہے۔ خبر پہ خبر آ رہی ہے کہ چوروں کا شجرہ الجھے ہوئے کانٹوں کے خود رو پودوں سے ملا ہوا ہے چوروں کا قبیلہ مقامی نہیں‘ قومی نہیں۔ ملکی نہیں‘ بین الاقوامی ہے۔ امیدوں کے دست دعا اب بلند ہیں۔ استقامت میں ہیں۔ پھیلے ہوئے ہیں۔ نسیم قبولیت ان کو حوصلہ دے رہی ہے۔ اب ملک کا ‘ سلطنت کا ‘ قوم کا مقدر خیر کے دروازوں کے قریب ہی کھڑا ہے۔ ایماندار افسران طلب شہادت کی آرزو لئے ثابت قدم رہیں۔اس ملک کے مقدر میں رفعت ہے۔ عزت نامی ہے۔ ہنگامی ماحول میں یہ زیادہ ضروری ہے کہ حکومت خوشامدی کا ذبین افسران اور وزراء سے دور رہے۔ ہمہ وقت نصرت خداوندی پر نظر رکھے۔ اگر اپنی بے وزن خود اعتمادی کے گرداب میں پھنس گئی تو کسی بھی وقت ساحل آنکھوں سے اوجھل ہو جائے گا۔ ایک اچھی خبر تھی کہ ہتھیار ڈالنے کا وقت قریب آ رہا ہے اور معافی تلافی کا راستہ کھل رہا ہے لیکن گہرے پانیوں کے تیراکوں کو ابھی حوصلہ ہے کہ شاید ہم احتساب کو کہیں دھکا دے کر ڈبو دیں گے۔ درویش نے کہا کہ جھوٹوں کو فرشتے رحمت خداوندی سے دور دھکیل رہے۔ گہرے پانیوں کے لالچی اپنے ڈوبنے کا سامان خود کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار‘ سرمایہ پرست ہوتا ہے۔ مایا کی دیوتی کو اماں دیوتی کہتا ہے۔ اپنے سے بڑے دھنوار کو دھن پتا کہتا ہے۔ پروہتوں کا منہ بند کرنے اور روایتی گداگروں کی جھولی میں سراخ کرتا رہتا ہے۔ خود ہوتا ہے‘ ٹھٹے پہ ٹھٹا مارتا ہے۔فطرت کے انتقام کا عفریت گردن کے بل گرا کر دانت توڑتاہے۔ زبان کھینچ لیتا ہے۔ کھلے بدمعاش اور خفیہ شرارت کار اسی طرح مرنے سے پہلے پہلے ذلت کا روز سیاہ دیکھیں گے اور صدائے حق گونجے گی۔ کہ چکھ اب مزہ کہ بڑا صاحب کروفر‘ اور بزعم خود بڑائی کا بت بنا پھرتا تھا۔ (ش س م)

]]>
89259
سری دیوی کی موت حادثاتی نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیاتھا۔۔۔۔ انہیں کس نے قتل کروایا؟ 2 سال بعد تہلکہ خیز انکشاف http://www.azaad.pk/2019/07/10/89256/ Wed, 10 Jul 2019 14:43:43 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89256 مزید پڑھیں]]> کیرالا(ویب ڈیسک) کیرالا جیل کے ڈائریکٹر جنرل پولیس رشی راج سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ لیجنڈ اداکارہ سری دیوی کی موت حادثے کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔کیرالا کے اخبار میں ڈی جی پی شری راج سنگھ کا سری دیوی کی موت کے حوالے سے مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے

تہلکہ خیز انکشاف کئے۔انہوں نے آنجہانی فارنزک سرجن ڈاکٹر عما دھتن کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ سری دیوی کی موت قتل کا شاخسانہ ہو سکتی ہے۔شری راج سنگھ کے مطابق میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کچھ باتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے ثبوت ایسے بھی ہیں جس سے ثابت ہو سکتا ہے کہ سری دیوی کی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ قتل تھا۔ڈی جی پی نے مضمون میں یہ بھی لکھا کہ ڈاکٹر عمادھتن کے مطابق اگر انہوں نے زیادہ شراب نوشی بھی کی ہوتی تو وہ پھر بھی ایک پاؤں کے ساتھ باتھ ٹب میں ڈوب نہیں سکتی تھی۔ کیوں کہ ایسا ممکن نہیں کہ کسی دوسرے شخص کی ڈبانے کی کوشش کے بغیر کوئی بھی ایک پاؤں یا سر کے ساتھ باتھ ٹب میں ڈوب جائے۔واضح رہے کہ 54 سالہ لیجنڈ اداکارہ سری دیوی دبئی کے ہوٹل کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں جسے ایک حادثاتی موت قرار دیا گیا تھا۔

]]>
89256
قتل کے محرکات سامنے آنا شروع۔۔۔ ڈبل شاہ کی طرح کس طرح کروڑوں روپے ڈبوئے گئے؟ مرید عباس قتل کیس میں تہلکہ خیز پیش رفت http://www.azaad.pk/2019/07/10/89253/ Wed, 10 Jul 2019 14:42:52 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89253 مزید پڑھیں]]> کراچی (نیوز ڈیسک ) اینکر مرید عباس کے قتل کے محرکات سامنے آ گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عاطف زمان اور اس کے ساتھیوں نے درجنوں افراد کو جال مین پھنسا رکھا تھا۔آسانی سے پیسہ کمانے کے لالچ نے سینکڑوں افراد کے کروڑوں روپے ڈبو دئیے۔بظاہر ٹائر کے نام پر کیے گئے کاروبار میں سینکڑوں افراد

نے سرمایہ کاری کی تھی۔ٹی وی انڈسٹری کے سینکڑوں ملازمین نے کروڑوں روپے لگا رکھے تھے۔مرید عباس نے بھی عاطف زمان کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی تھی۔میڈیا انڈسٹری کے کچھ اور لوگ بھی ان کے پارٹنر تھے۔لوگوں سے کم از کم 10 لاکھ روپے کی رقم بطور سرمایہ کاری لی جاتی تھی۔10 لاکھ سرمایہ کاری کے عوض ہر 2ماہ بعد 50ہزار روپے دئیے جاتے۔دو ماہ سےسرمایہ کاری کرنے والوں کورقم کی ادائیگی نہیں ہو رہی تھی۔سرمایہ کاری کے نام پر لی گئی رقم اور دئیے جانے والے پیش کیش تھے۔میڈیا انڈسٹری کے لوگوں نے پرویڈنٹ فنڈ اور جائیدادیں بیچ کر سرمایہ کاری کی۔لوگوں سے لیے اور دئیے گئے پیسے کے لیے بینکنگ چینل کا استمال نہیں کیا گیا۔ کراچی میں ڈبل شاہ طرز کے نیٹ ورک انکشاف ہوا ہے۔جب کہ دوسری جانب مرید عباس کو قتل کرنے والے ملزم عاطف زمان کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے۔پولیس نے ملزم عاطف خان کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا ہے۔اپنے بیان میں عاطف زمان کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ ٹائروں کا کاروبارکرتا ہوں۔مرید عباس سمیت میڈیا انڈسٹری کے کئی افراد نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ مرید عباس اور ساتھیوں کی جانب سے بلیک میل کیا جا رہا تھا۔بلیک میلنگ سے تنگ آ کر میں نے دونوں کو قتل کیا۔عاطف زمان نے کہا کہ پیسوں کے تنازع پر انتہائی قدم اٹھایا۔کئی روز سے مرید اور دیگر لوگ پیسے مانگ رہے تھے۔میں پیسے واپس کرنا چاہتا تھا لیکن کاروبارمیں پھنس گئے تھے۔جب کہ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا بیان حتمی نہیں ہے۔حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان لیا جائے گا۔

]]>
89253
بریکنگ نیوز: کل رات کراچی میں قتل ہونے والے اینکر مرید عباس صوبہ پنجاب کے کس شہر کے رہائشی نکلے؟ میت آبائی گاؤں روانہ http://www.azaad.pk/2019/07/10/89250/ Wed, 10 Jul 2019 14:42:04 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89250 مزید پڑھیں]]> اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) اینکر پرسن مرید عباس کے جسد خاکی کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا جہاں سے ایمبولینس کے ذریعے انکے آبائی علاقے پپلاں ( ضلع میانوالی) روانہ کر دیا گیا ہے۔ تفصیلاات کے مطابق گزشتہ روز لین دین کے تنازعہ پر نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن مرید عباس

کو کراچی کے علاقے خیابان بخاری میں قتل کر دی گیا تھا ۔ پوسٹمارٹم کے بعد انکے جسد خاکی کو انکی اہلیہ زہرا عباس کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد زہرہ عباس اور انکے قریبی رفقاء جسد خاکی کو لے کر پی آئی اے کے جہاز کے ذریعے اسلام آباد جبکہ اسلام آباد سے ایمبولینس کے ذریعے انکے آبائی علاقے پپلاں ضلع میانوالی روانہ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عاطف زمان اور اس کے ساتھیوں نے درجنوں افراد کو جال مین پھنسا رکھا تھا۔آسانی سے پیسہ کمانے کے لالچ نے سینکڑوں افراد کے کروڑوں روپے ڈبو دئیے۔بظاہر ٹائر کے نام پر کیے گئے کاروبار میں سینکڑوں افرادنے سرمایہ کاری کی تھی۔ٹی وی انڈسٹری کے سینکڑوں ملازمین نے کروڑوں روپے لگا رکھے تھے۔مرید عباس نے بھی عاطف زمان کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی تھی۔میڈیا انڈسٹری کے کچھ اور لوگ بھی ان کے پارٹنر تھے۔لوگوں سے کم از کم 10 لاکھ روپے کی رقم بطور سرمایہ کاری لی جاتی تھی۔10 لاکھ سرمایہ کاری کے عوض ہر 2ماہ بعد 50ہزار روپے دئیے جاتے۔دو ماہ سےسرمایہ کاری کرنے والوں کورقم کی ادائیگی نہیں ہو رہی تھی۔سرمایہ کاری کے نام پر لی گئی رقم اور دئیے جانے والے پیش کیش تھے۔میڈیا انڈسٹری کے لوگوں نے پرویڈنٹ فنڈ اور جائیدادیں بیچ کر سرمایہ کاری کی۔لوگوں سے لیے اور دئیے گئے پیسے کے لیے بینکنگ چینل کا استمال نہیں کیا گیا۔ کراچی میں ڈبل شاہ طرز کے نیٹ ورک انکشاف ہوا ہے۔جب کہ دوسری جانب مرید عباس کو قتل کرنے والے ملزم عاطف زمان کا پہلا بیان سامنے آ گیا ہے۔پولیس نے ملزم عاطف خان کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا ہے۔اپنے بیان میں عاطف زمان کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ ٹائروں کا کاروبارکرتا ہوں۔مرید عباس سمیت میڈیا انڈسٹری کے کئی افراد نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ مرید عباس اور ساتھیوں کی جانب سے بلیک میل کیا جا رہا تھا۔بلیک میلنگ سے تنگ آ کر میں نے دونوں کو قتل کیا۔عاطف زمان نے کہا کہ پیسوں کے تنازع پر انتہائی قدم اٹھایا۔کئی روز سے مرید اور دیگر لوگ پیسے مانگ رہے تھے۔میں پیسے واپس کرنا چاہتا تھا لیکن کاروبارمیں پھنس گئے تھے۔جب کہ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا بیان حتمی نہیں ہے۔حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان لیا جائے گا۔

]]>
89250
سب سے بڑا تہلکہ ۔۔۔۔ جج ارشد ملک کے بعد ناصر بٹ کی ’ جج محمد بشیر ‘ کو خریدنے کی کوشش، رشوت کے طور پر کیا چیز لے کر انکے گھر پہنچ گئے؟ بڑی خبر http://www.azaad.pk/2019/07/10/89247/ Wed, 10 Jul 2019 14:41:03 +0000 http://www.azaad.pk/?p=89247 مزید پڑھیں]]> اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی عمران خان کا کہنا ہے کہ جن دنوں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے خلاف پراپیگنڈا چل رہا تھا تب اسلام آباد کے صحافی انعام اللہ خٹک کا میرے پروگرام میں کہنا تھا کہ میں جج محمد بشیر کواچھی طرح جانتا ہوں۔ان کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں۔محمد بشیر ایک

غریب آدمی ہیں۔جج محمد بشیر اتنے ایماندار شخص ہیں کہ ان کے گھر پر مہمانوں کو بٹھانے کے لیے فرنیچر بھی موجود نہیں تھا۔اس خبر کے دو روز بعد ہی ناصر بٹ فرینچر سے بھرا ٹرک لے کر جج محمد بشیر کے گھر پہنچے اور انہوں نے صحافی کو فون کیا کہ آپ نے بتایا تھا کہ محمد بشیر کے گھر فرنیچر موجود نہیں تھا اس لیے ہم فرنیچر لالئے ہیں۔آپ ان سے رابطہ کریں تاکہ سامان ان کے گھر پہنچایا جا سکے۔جس پر صحافی نے ناصر بٹ کو کہا کہ جج صاحب ایک ایماندار شخص ہیں وہ ناراض ہو جائیں گے۔جب کہ ناصر بٹ نے مریم نواز کو ناگوار گزرنے والے صحافی کو بھی خریدنے کی کوشش کی تھی۔بقول اس صحافی کے ناصر بٹ نے اس صحافی کو ہاتھ سے پکڑا اور سائیڈ پر لے گئے۔ ناصر بٹ نے اس صحافی کو گاڑی کی چابی اور 5 لاکھ روپے بطور رشوت آفر کی۔صحافی کی ناصر بٹ سے لڑائی ہو گئی اور اس نے کہا کہ میں شور مچا دوں گا۔جس کے بعد ناصر بٹ نے معذرت کرتے ہوئے ان سے گاڑی کی چابی واپس لی اور پیسوں کی آفر بھی واپس لے لی۔خیال رہے ناصر بٹ کا نام اس وقت خبروں کی زینت بنا جب جج ارشد ملک کی ویڈیو لیک ہوئی۔ویڈیو میں ناصر بٹ کو دیکھا جا سکتا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے لے کر آئیں جس میں احتساب عدالت کے جج کی ویڈیونوازشریف کے چاہنے والے ن لیگی ناصر بٹ ے بنائی،ویڈیو میں جج صاحب تسلیم کررہے ہیں کہ میں بہت پریشان ہوں، میں نے ظلم کیا، میرا ضمیرمجھے جھنجھوڑ رہا ہے،جج صاحب نے ناصر بٹ کو خود گھر بلا کر ثبوت پیش کیے کہنوازشریف بے قصور ہے۔بتایا گیا ہے کہ ناصر بٹ کا تعلق ن لیگ سے ہے تاہم وہ پاکستان مین 2قتل کیے جانے کے مقدمے میں بھی نامزد ہیں اور ان پر کئی اور کیسز بھی ہیں۔

]]>
89247