Saturday , May 25 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > پنجاب کا نام پنجاب کب پڑا؟

پنجاب کا نام پنجاب کب پڑا؟

پنج اور آب کے الفاظ سے مل کر بننے والا یہ لفظ یعنی پنجاب، پنجابی و فارسی زبانوں کے ملاپ کا مستند و زندہ ثبوت ہے۔ ان دونوں ہی زبانوں میں قدیم عہد سے اک سانجھ ہے۔ ایک مثال دونوں زبانوں میں پرچلت گنتی کی دی جاسکتی ہے جس میں دو، پنج، دہ،

پنجاہ جیسے کئی اعداد کے نام سانجھے ہیں۔ اس سانجھے سلسلے کو مشہور عبقری جی ڈبلیو لائٹنر نے پنجاب کے بارے لکھی اپنی مشہور رپورٹ نما کتاب ”پنجاب میں مقامی تعلیم” (مطبوعہ 1882) میں ”فارسی پنجابی سلسلہ” لکھا ہے۔یہ پنجابی فارسی سلسلہ کتنا پرانا تھا اس بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ بادشاہ اکبر کے دور میں فارسی کا چلن ہمارے ہاں بڑھنے لگا تھا تو شاہد اس سلسلے کا زمانہ بھی یہی ہو گا۔ اسی لیے اکثر سمجھدار لوگ بھی یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ پنجاب کا نام تو اکبر بادشاہ کے دور میں رکھا گیا تھا۔یہ بات کہنے والوں نے اگر مہا بھارت، رامائن، یونانی تحریریں اور البیرونی و این بطوطہ ہی کی کتب پڑھی ہوتیں تو یہ بات نہ کرتے۔ فارسی زبان سے پنجابی اور اس خطے کی دیگر زبانوں کا رشتہ جاننے کا ایک زندہ ثبوت ہمارے رسم الخط ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہڑپائی تہذیب (جسے اب وادی سندھ کی تہذیب کہا جانے لگا ہے) اور خصوصا گندھارا سے نکلنے والی تحریروں میں قدیم فارسی اور خروشٹی رسم الخط سے تعلق صدیوں پرانا ہے۔اشوک بادشاہ کے عہد میں پہاڑوں پر کندہ کیے جو کتبے ملے ہیں ان میں دیوناگری اور خروشٹی رسم الخط میں لکھی تحریریں بھی ہیں۔ پروفیسر دانی سمیت بہت سے دانشوروں نے گندھارا تہذیب کے قبل از مسیح زمانے میں خروشٹی رسم الخط کی موجودگی کے واضح اشارے کیے جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا۔ اسی طرح کم از کم دو پارسی سلطنتوں میں جن کا مرکز بلخ تھا وادی سندھ کا علاقہ

شامل رہا ہے جن میں ایک کا عہد 530 قبل از مسیح ہے جس کا بادشاہ سائرس بہت مشہور تھا۔خود گندھارا تہذیب کا پھیلاؤ بھی وسط و مغربی ایشیا کی طرف تھا اور ایسے ہی ہندو شاہیہ سلطنت بھی اس معاملے میں گندھارا کی پیش رو تھی۔ اب یہ بات کی جائے گی کہ پنجاب کے نام کا حوالہ کتنا قدیم ہے۔ قدیمی کتب میں پانچ دریاوں کی سرزمین کا ذکر وافر ہے جس کا حوالہ بھی دیا جائے گا۔ ان پانچ دریاوں میں سندھ، ستلج، راوی، جہلم اور چناب شامل تھے کہ ماضی قریب کے لٹریچر میں سندھ کو نکال کر بیاس شامل کیا گیا جو ستلج کا ایک ذیلی دریا ہے۔ہلی بار پنجاب کا لفظ کس نے استعمال کیا اس کا حوالہ ہمیں فارسی اور پنجابی کی بجائے لاطینی اور یونانی زبانوں کے قدیم لٹریچر میں ملتا ہے۔ پنجاب کے لیے جا بجا ”پینٹا پوٹامیا” کا نام استعمال کیا گیا۔ پینٹا لاطینی میں 5 کو کہتے ہیں اور لفظ پوٹامیا کو سمجھنے کے لیے عراق کے پرانے نام ”میسو پوٹامیا” کو دیکھیں۔ میسو تو دو کو کہتے ہیں کہ دجلہ اور فرات کے دریاوں کی درمیان دوآبہ کو میسو پوٹامیا یعنی دو دریاوں کی درمیان والی سرزمین کہا گیا۔اسی پیرائے میں پنجاب کو باہر سے آنے والوں نے اپنے لٹریچر میں قدیم دور میں پینٹا پوٹامیا لکھا ہے۔ پنجاب کے اپنے لوگ اسے پنجند یعنی پانج ندیوں کی سرزمین کہتے تھے اور اوچ شریف کے نزدیک پنجند کا مقام اسی ماضی کی یادگار ہے۔ اب اگر پنجاب کو 6ویں بار تقسیم کیا گیا

تو پنجند کو بھی پنجاب سے دیس نکالا مل جائے گا۔ یاد رہے کہ ندی، نہر اور دریا پرانی کتب میں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے تھے۔ پنجاب کے نام کی قدامت کا ایک مستند حوالہ مشہور اینگلو انڈین ڈکشنری ”ہابسن جابسن ” ہے جو 1886ء میں چھپی تھی جس کی تفصیل آگے آئے گی۔لفظ پینٹا پوٹامیا کا بڑا حوالہ سکندر کے زمانے کا ہے کہ جب میگس تھین نامی سیاح و مورخ ہمارے علاقوں میں آیا تھا اور اس نے انڈیکا کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب اب نہیں ملتی مگر اس کے بعد آنے والے یونانی لکھاریوں نے کافی کام کیا جن میں سب سے مستند لوئیس اریانوس ہے جس کی دوسری صدی میں لکھی کتاب کو سکندر کی مہموں کے حوالے سے اولین بچی ہوئی کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔انڈیکا کا حوالہ بہت سے یونانی دانشوروں نے دیا جن میں ڈیوڈورس سیکولیس، جغرافیہ دان سٹرابو اور پلینی بھی شامل ہیں۔انڈیکا نامی کتاب کا حوالہ دے کر یہ بات لکھی گئی کہ میگس تھین پینٹا پوٹامیا کے راستے انڈیا آئے اور قدیمی پٹنہ یعنی پاٹلی پتر تک گئے جہاں اس زمانے میں چندر گپت موریہ کا راج تھا۔ پینٹا پوٹامیا کا دوسرا مستند حوالہ اس اینگلو انڈین ڈکشنری میں آیا جس کو ہنری ییل اور اے سی بورنیل تیار کیا تھا اور جس کا مقصد انگریز افسروں کو مقامی تاریخ، کلچر، روایات اور اہم معلومات سے آگاہ کرنا تھا۔اس ڈکشنری کو تیار کرنے میں دس سال لگے۔ ڈکشنری میں پنجاب کی انٹری میں لکھا ہے کہ پروفیسر لیسن نے لاطینی

میں لکھے ایک قدیمی مخطوطے سے پنجاب کا قدیمی نام پینٹا پوٹامیا درج کیا ہے۔ اسی انٹری میں یہ بھی لکھا ہے کہ مقامی طور پر پنجاب کا پرانا نام پنجند ہے جو مہابھارت اور رامائن میں بھی درج ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ پنج ند اور پینٹا پوٹامیا کا مطب پانچ دریاؤں کی سرزمین ہی ہے۔ اس کے بعد ڈکشنری میں حوالے دیئے گئے ہیں ان کی تفصیل بھی پڑھ لیں۔پہلے پہلویوں کی سرزمین آتی ہے اس کے بعد پنجند اور پھر کشمیر (رامائن، کتاب 4، باب 43)قدیم عہد سے یونانیوں، مہابھارت اور رامائن کے حوالے دینے کے بعد ڈکشنری میں مشہور عرب سیاح مسعودی کا حوالہ ہے جو ہمارے خطے میں 940 کے قریب آیا تھا۔ مشہور کتاب ”فتوح البلدان” (شہروں کی فتح) کے مصنف البلاذری نے بھی مسعودی کی لکھتوں کا حوالہ دیا ہے۔ مسعودی کی لکھت کے صفحے 377 پر پانج دریاوں کی سرزمین کا ذکر ہے۔ اگلا حوالہ 1020 کا ہے اور اس بار البیرونی کی کتاب کا حوالہ ہے جس نے پنجند کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد 1300 کا ذکر ہے جس میں حوالہ” وصاف” کی کتاب کا ہے جس نے پنجاب کا لفظ بھی لکھا ہے۔ اگلا حوالہ سن 1333 کا ہے اور لکھاری ہے مشہور سیاح ابن بطوطہ۔ مراکش میں پیدا ہونے والے اس دانشور نے ناصرف پنجاب کا نام لکھا ہے بلکہ اس کے آگے پنجاب کا مطلب پانچ دریاوں کی سرزمین بھی درج ہے اور دریاوں کے نام بھی۔ اگلا حوالہ امیر تیمور کا ہے جو سنہء 1398 میں اس طرف آیا تھا اور اس نے بھی لفظ پنجاب ہی استعمال کیا۔اس کے بعد پنجاب کے حوالے مغل اور اس کے بعد کے دور کے ہیں کیونکہ یہاں بات یہی ہو رہی ہے کہ کیا اکبر بادشاہ سے قبل لفظ پنجاب استعمال ہوا تھا یا نہیں تو اس لیے یہاں صرف وہی حوالے لکھے گئے ہیں جو مغل دور سے پہلے کے ہیں۔ اس پانچ دریاوں کی سرزمین کو آج کی قوم پرستیوں کی نظر سے سمجھنے سے اکثر دانشور مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میگس تھین کی انڈیکا، مہابھارت، رامائن، المسعودی، البیرونی سے ابن بطوطہ تک پینٹا پوٹامیا اور پنجند کا ذکر تو کوئی مٹا نہیں سکتا۔جب ابن بطوطہ غزنی سے ہوتا ہوا ہشت نگر پہنچا تو اس نے لکھا کہ اب ترکمانوں کا وطن میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور ایک نئے خطہ میں داخل ہو رہا ہوں۔ یہی نہیں بلکہ ٹھٹہ سے آگے سمندر کنارے لہوری بندر اور اس کے اردگرد پھیلے شہر میں تو اس نے پانچ دن گزارے۔ مذکورہ تمام پانچ دریاوں کی سرزمین کی کہانی بتا رہے ہیں۔ اگر ہم اب بھی اسے اکبر کی عہد تک محدود کرنے کی سعی کریں تو اس میں کسی اور کا تو کوئی قصور نہیں

یہ بھی دیکھیں

ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا’’ یا باری تعالیٰ انسان …