Tuesday , March 26 2019
ہوم > پاکستان > پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری خاتون ملازمہ کھل کر سامنے آگئی، ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اٹھا دیا کہ عمران خان بھی حیران رہ گئے

پی ٹی آئی کے اہم ترین رہنما نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری خاتون ملازمہ کھل کر سامنے آگئی، ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اٹھا دیا کہ عمران خان بھی حیران رہ گئے

فیصل آباد (ویب ڈیسک) پنجاب میں ایک سرکاری خاتون نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی رکن پنجاب اسمبلی ملک عمر فاروق اور اس کے ڈرائیور نے ہراساں کیا ہے ، ے الزام عائد کیا گیا کہ رکن پنجاب اسمبلی ملک عمر فاروق کے ڈرائیور نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا،

فیصل آباد میں خاتون نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی رکن پنجاب اسمبلی ملک عمر فاروق اور اس کے ڈرائیور نے ہراساں کیا ہے، خاتون اقصیٰ جاوید نے الزام عائد کیا کہ رکن پنجاب اسمبلی ملک عمر فاروق کے ڈرائیور نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور صلح کیلئے دباؤ ڈال کر اسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا، خاتون نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایم پی اے اور چیئرمین میونسپل کمیٹی ڈجکوٹ نے اسے ایک گھنٹہ تک حبس بے جا میں رکھا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔ پولیس نے خاتون کی درخواست پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر بھی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہندوؤں کے بارے میں تضحیک آمیز بیان دینے کی پاداش میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان کے ہندو برادری کے بارے میں ہتک آمیز بیان کی وجہ سے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، تحریک انصاف نے کہا ہے کسی عقیدے کو برا بھلا کہنا کسی بیانیے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان کی بنیاد ہی رواداری کے اصول پر ڈالی گئی تھی۔فیاض الحسن چوہان نے گذشتہ روز ایک تقریب میں ہندوؤں کے بارے میں انتہائی نازیبا ریمارکس دیئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا، پاکستان کے شہریوں میں چالیس لاکھ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے ایک بیان میں چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے فیاض الحسن چوہان کے ‘افسوسناک’ ریماکس پر معافی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ فیاض الحسن چوہان نے وزیر اعلی سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، فیاض الحسن چوہان ماضی میں بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں، فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معذرت کی ہے لیکن ان کی اس وضاحت کو نہیں مانا گیا اور انہیں ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان ہندوؤں کو نہیں بلکہ نریندر مودی، انڈین افواج اور انڈین میڈیا کو مخاطب کیا تھا، خیال رہے کہ بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی کارروائی کے بعد پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ انڈیا کے اس عمل پر تنقید کرنے یا ردعمل دینے والے ہندو برادری کو کیوں اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، ہندو سماجی کارکن کپیل دیو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہمیں پاکستان سے اپنی محبت اور حب الوطنی دکھانے کے جواب میں پی ٹی آئی کے وزیر فیاض چوہان سے یہ ملا کہ وہ یہ سوچے بغیر کہ یہاں 40 لاکھ ہندو رہتے ہیں، ہندوؤں کے لیے `گائے کا پیشاب` پینے والے جیسے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی میں ہندو رکنِ پارلیمان ہیں، اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے ،

یہ بھی دیکھیں

بریکنگ نیوز:اسلام آباد کے بڑے نجی سکول میں دہشتگردوں کی فائرنگ ۔۔۔ تشویشناک اطلاعات موصول

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سیکٹر جی ایٹ میں سکول کے باہر فائرنگ کا واقعہ …