Sunday , March 24 2019
ہوم > انٹرنیشنل > 28 سالہ خاتون سے تعلق رکھنا ایرانی سیاستدان کو مہنگا پڑ گیا، عدالت نے سرعام ایسی سزا کا حکم دے دیا کہ آئندہ کوئی بھی خواتین سے تعلق استوار کرنے سے گھبرائے گا

28 سالہ خاتون سے تعلق رکھنا ایرانی سیاستدان کو مہنگا پڑ گیا، عدالت نے سرعام ایسی سزا کا حکم دے دیا کہ آئندہ کوئی بھی خواتین سے تعلق استوار کرنے سے گھبرائے گا

تہران ( ویب ڈیسک) ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں فوجداری عدالت نے رکن پارلیمنٹ اور سماجی امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سلمان خدادادی کو ایک 28 سالہ خاتون زہرا نوید پور کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے کے سلسلے میں قصور وار ٹھہرایا ہے۔ زہرا رواں سال 6 جنوری کو مردہ پائی
گئی تھی۔مقتولہ خاتون نے خدادادی پر زیادتی کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ نے دھمکی دی تھی کہ راز فاش ہونے کی صورت میں اسے قتل کر دیا جائے گا۔ زہرا نے ملزم کے خلاف عدالتی کارروائی کی مگر ماضی میں انٹیلی جنس اداروں میں اعلی منصبوں پر فائز رہنے کے سبب اس نے اثر و رسوخ سے مقدمے کی کارروائی کو معطل کرا دیا۔ اس بات کا انکشاف مقتولہ نے اپنے ایک وڈیو کلپ میں کیا۔سرکاری اخبار “ايران” نے جمعرات کے روز بتایا کہ فوجداری عدالت نے ملزم سلمان خدادادی کو زیادتی کے مقدمے میں بری کر دیا مگر مقتولہ زہرا کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے کے الزام میں 99 کوڑوں کی سزا سنا دی۔ علاوہ ازیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خدادادی کو ملازمت سے علاحدہ کر کے دو سال کے عرصے کے لیے دوردراز علاقوں میں بھیج دیا جائے۔یاد رہے کہ خدادادی نے 2014 سے 2016 تک ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مشیر کے طور پر کام کیا۔ وہ چار مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوا اور اس نے متعدد سکیورٹی عہدوں پر بھی کام کیا۔ وہ ملکان شہر میں پاسداران انقلاب کا کمانڈر، اردبیل شہر میں محکمہ انٹیلی جنس کا سربراہ اور مشرقی آذربائیجان صوبے میں

انٹیلی جنس کا نائب سربراہ رہ چکا ہے۔تبریز شہر سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمنٹ اکبر اعلمی کے مطابق انہوں نے خدادادی کے ہاتھوں زہرا کی آبرو ریزی کے مقدمے کی پیروی کی تاہم عدالتی تحقیقات روک دینے کے لیے دباؤ کے سبب کسی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ایران میں انسانی حقوق سے متعلق ایجنسی “ہرانا” نے ایک آڈیو کلپ جاری کیا جو زہرا نوید پور نے خدادادی کے ساتھ گفتگو کے دوران ریکارڈ کر لیا تھا۔ کلپ میں خدادادی مقتولہ زہرا کو دھمکی دے رہا ہے کہ عدالتی کارروائی سے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں زہرا کو قتل کر دیا جائے گا اور اس کے گھر والوں کو بھی ضرر کا نشانہ بنایا جائے گا۔مذکورہ ایجنسی کو دیے گئے انٹرویوز میں زہرا نے عدالتی دستاویزات اور بیانات دکھاتے ہوئے بتایا کہ تہران میں عدالت کی تین سماعتوں کے بعد ججوں کو رکن پارلیمنٹ کے خلاف کوئی فیصلہ دینے سے منع کر دیا گیا باوجود یہ کہ آڈیو کلپ سمیت تمام شواہد خدادادی کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی تھے۔ زہرا کے مطابق آخری سماعت میں ملزم کی جانب سے اعتراف جرم کے باوجود جج نے اسے مالی ضمانت کے عوض رہا کر دیا۔۔ زہرا کے مطابق آخری سماعت میں ملزم کی جانب سے اعتراف جرم کے باوجود جج نے اسے مالی ضمانت کے عوض رہا کر دیا۔

یہ بھی دیکھیں

مائے نی میں کینوں آکھاں:سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید بیٹے کی تدفین میں شرکت کے لئے نیوزی لینڈ جانے والی ماں بھی انتقال کرگئی

کرائسٹ چرچ(ویب ڈیسک ) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیش آنے والے اندوہناک …