Saturday , May 25 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا

حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا۔ حضرت عمرؓ خود بھی بہت رنجیدہ ہوئے اور اہل مدینہ کو بھی سوگ منانے کی اجازت دے دی۔جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ

آپؓ کا گھوڑا” اشکر“ جس پر بیٹھ کے آپؓ نے تمام جنگیں لڑیں، وہ بھی آنسو بہارہا تھا۔حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار، تلواریں، خنجر اور نیزے تھے۔ ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا تھا رہا تھا ۔اللہ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے،وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا،وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی۔ صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا۔ جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضور ﷺسے حضرت خالدؓکے روحانی تعلق کی گواہی دی۔ دوسری جانب ایک اور واقعہ کے مطابق صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر کمان مسلمانوں کا لشکر مختلف ممالک میں فتوحات اسلامی کے ڈنکے بجارہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت کے پرچم اُٹھارہا تھا۔ اسی سلسلہ میں شہر حیرہ کے باغیوں کی شرارت و عہد شکنی کی خبر پاکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حیرہ کا رُخ کیا۔ بہادران اسلام کی آمد کی خبر سنتے ہی اہل حیرہ اپنے قلعوں میں گھس کر قلعہ میں بند ہوگئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نے سب قلعوں کو چاروں طرف سے محصور کرلیا اور کئی ایک شب و روز تک قلعوں کو گھیرے رکھا اور لڑائی اس لئے نہ چھیڑی کہ شاید یہ لوگ راہ راست پر آجائیں لیکن جب ان کی طرف سے کوئی ایسی تحریک نہ دیکھی تو حضرت خالدؓ نے حملہ کرکے شہر کی آبادی اور اس کے اندر کنسیوں پر قبضہ کرلیا۔ قبضہ کرلینے کے بعد عمرو بن عبدالمسیح جو کہ نہایت بوڑھا پیر فانی تھا، اپنے قلعہ سے نکل آیا۔ مسلمانوں نے اسے حضرت خالدبن ولیدؓ کے سامنے پیش کیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن المسیح کی طرف توجہ فرمائی اور دریافت کیا” تمہاری عمر کتنی ہے؟“ عمرو نے کہا” سینکڑوں برس،“ بوڑھے کے ہمراہ ہی خادم کے پاس ایک زہر کی پڑیا نکلی۔ اس پر حضرت خالدؓ نے پوچھا” اسے ساتھ کیوں لائے ہو؟“ اس نے کہا ”اس خیال سے کہ اگر تم نے میری قوم کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا تو میں اسے کھا کر مرجاﺅں اور اپنی قوم کی ذلت و تباہی نہ دیکھوں“ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر پڑیا سے زہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھا اور اس سے کہا” بے موت کوئی نہیں مرتا اگر موت کا وقت نہ آیا ہو تو زہر بھی اپنا کچھ اثر نہیں کرسکتا“ یہ کہہ کر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کلمات ادا کرکے وہ زہر پھانک لیا۔ اس بوڑھے کافر نے یہ اعتقاد اور خدا پر اعتماد کا منظر دیکھا تو ششدر رہ گیا اور وہ تمام لوگ بھی حیران رہ گئے جو قلعوں سے نکل آئے تھے ۔ عمرو بن المسیح کی زبان سے تو یہ کلمہ بے اختیا رنکل گیا کہ جب تک تمہاری شان کا ایک شخص بھی تم میں موجود ہے تم اپنے مقصد میں ناکام نہیں رہ سکتے ۔ (تاریخی یادگار واقعات،از محمد اسحاق ملتانی)

یہ بھی دیکھیں

ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا’’ یا باری تعالیٰ انسان …