Saturday , May 25 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > چار ایسے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ سخت نفرت کرتے ہیں

چار ایسے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ سخت نفرت کرتے ہیں

اگر ہم نے بچوں کی بلوغت کے فوراﹰ بعد شادی کو رواج نہ دیا، اگر ہم نے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو لعنت سمجھنے کے کفر سے توبه نہ کی، اگر ہم نے مطلقہ خواتین اور بیواﺅں کی فوری اور آسان شادیوں کا بندوبست نہ کیا، اگر ہم نے نکاح کو کاروبار کے بجائے

فرض کا درجہ نہ دیا، اور جتنا کہ نہا دھو کر مسجد میں جا کے جمعہ پڑھنا آسان ہے، اسے بھی اتنا ہی آسان نہ بنایا، اگر ہم نےزنا کی طرف جانے والے راستوں کا سدباب نہ کیا، اور اسے موجودہ حالات میں اتنا ہی مشکل نہ بنایا جتنا کہ دوسری شادی مشکل ہے، تو، تو ہمارے بچے بدفعلی کا شکار ہوتے رہینگے۔!!! ریپ کے مجرم دندناتے رہینگے، جبکہ بغیر اجازت دوسری شادی والے سلاخوں کے پیچھے ہونگے۔!!! تو گھروں میں بیٹیوں کیلیئے رشتوں کی بجائے دوستی کے پیغام آیا کرینگے۔!!! تو آپکی بیٹیاں پھولوں سے سجی گاڑی میں حجلہ عروسی کی بجائے تاریک شیشوں والی کار میں ڈیٹ پر جایا کرینگی۔!!! تو آپکے بیٹے شادیوں کی بجائے افیئرز اور بیویوں کی بجائے گرل فرینڈز رکھا کرینگے۔!!! تو آپکے شوہر اپنے دفتروں میں معاشقے چلاتے رہینگے۔!!! تو آپکی بے پردہ بیٹیوں کے جسم سر بازار ہوس بھری نظروں اور ہاتھوں کا شکار ہوتے رہینگے۔!!! اور نیو ایئر نائٹ، ویلنٹائین ڈے، ہیلوئین اور چاند رات جیسے تہوار جنسی ہوس کی تسکین کی علامات بنے رہینگے۔!!! واللہ یہ آگ ہر اس گھر میں پہنچے گی جو دین فطرت کے اٹل قانون سے منہ موڑے گا اور وہ وقت آ کر رہے گا جب اس “مقدس” سرزمین پر بھی ولدیت کے خانے میں لکھا نام مشکوک ہو جائے گاحضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔جب بھی وہ توبہ کرتا،اسے توڑ دیتا یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی،میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سخت ناراض ہوں۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللّہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اورجنگلوں کی طرف نکل گیا۔وہاں جا کر بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی،اے ربّ ذوالجلال! ” تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندّوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟تیرے عفو و درگزر سے کون سا گناہ بڑا ہے؟تُو کریم ہے،میں بخیل ہوں،کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟اگر تُو نے اپنے بندّوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔ ” اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے رمایا،جاؤ اور میرے بندّے سے کہہ دو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔مُکاشِفۃُ القلُوب = صفحہ 170،171مصنف = حضرت امام غزالی رحمتہ اللّہ علی

یہ بھی دیکھیں

ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا’’ یا باری تعالیٰ انسان …